ناموسِ رسالت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

ناموسِ رسالت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
 ناموسِ رسالت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

  

کعب بن اشرف یہودی تھا۔ اسلام اور اہل اسلام سے بے پناہ کدورت اور بے حساب عداوت تھی۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے اٹھ کر عرض کیا: یارسو ل اللہؐ میں حاضر ہوں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ (رضی اللہ عنہم) نے بے عیب منصوبہ ترتیب دیا اور گستاخ رسول کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

جب وہ کامران لوٹے تو رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’یہ چہرے کامیاب ہوئے۔‘‘ بعید نہیں کہ حوض کوثر پر رسول اللہ ؐ جسٹس شوکت کو دیکھ کر فرمائیں: ’’یہ چہرہ کامیاب ہوا۔‘‘

اس سال فروری اور مارچ کے دن شدید بے چینی میں بیتے۔ دینی حمیت سے معمور اور حب رسولؐ سے بھرپور ہر مسلمان افسردہ اور آزردہ تھا۔ دل مضطرب تھے۔ بے یقینی ا ور اُداسی دھوئیں کی طرح چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ فیس بک پر پھیلے صفحات غلاظت بکھیر رہے تھے۔ صفحات پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ دوسروں کو تہذیب کی تلقین کرنے والے خود تعفن پھیلا رہے تھے۔ ان کو سیکھنے کی غرض نہ تھی، ان کی غرض سیاہ کاری تھی۔ گندگی دیکھ کر روح کانپ اٹھی، اعصاب لرزاں تھے اور نگاہیں نم آلود تھیں۔ سلمان شاہد اور دیگر نے درخواست دائر کی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست پر کارروائی کا آغاز کیا۔

بلا شبہ جسٹس صدیقی نے توہین رسالت کے خلاف انصاف کا علم اٹھایا اور انتظامیہ کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔ محبان رسول جاگ رہے تھے، تعظیم رسالت سے سرشار تھے لیکن قانون ہاتھ میں لینے سے گریزاں تھے۔ ان کے جذبات کی کشتی کو ساحل پر لگایا۔ کسی دانا کا کہنا ہے: ’’مردے انصاف کے لئے نہیں پکارتے، زندوں کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنے لئے سر انجام دیں۔‘‘جسٹس صدیقی کی کارروائی نے اس قریہ کو قبرستان ہونے سے بچا لیا۔ اس عدالتی کارروائی کے نتیجے میں پی ٹی اے نے توہین آمیز صفحات کو بند کیا۔ مچھر کو مسل دیا گیا اور بھینسے کو باندھ دیا گیا۔ حکومت بیدار ہوئی وزیر داخلہ نے مختلف اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ اجلاس میں اس مسئلہ کو بین الاقوامی اداروں میں اُجاگر کرنے کی حکمت عملی وضع کی۔ وزارت داخلہ نے فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے ایوان بالا (سینٹ) نے 10مارچ کو قرار داد منظور اور مجرموں کے خلاف 295-C کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایوان زیریں (قومی اسمبلی) نے 14 مارچ 2017ء کو قرار داد منظور کی اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس بے مثال فیصلے میں رقم طراز ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ میرے روبرو ایک ایسا مقدمہ پیش کیا گیا ہے جس کی تفصیلات نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیئے۔ آنکھوں کی اشک باری تو ایک فطری تقاضا تھا۔ میری روح بھی تڑپ کر رہ گئی۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے دل و دماغ پر گزرنے والی کیفیت الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘ لکھتے ہیں: اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ احساس بھی دامن گیر رہا کہ خود آقائے دو جہاں رسول پاکؐ کی ذات گرامی مجھ سمیت ہر کلمہ گو سے یہ سوال کر رہی ہے کہ جب اللہ رحیم و کریم، میرے اور میرے اہل بیت، برگزیدہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق غلیظ الفاظ، بے ہودہ ترین ویڈیوز، واہیات ترین خاکے اور بد ترین پوسٹس انتہائی ڈھٹائی، دیدہ دلیری اور تواتر کے ساتھ سوشل میڈیا کے توسط سے پھیلائی جا رہی ہیں تو ہمیں نیند کیسے آ رہی ہے؟ ہماری سانسوں کی آمد و رفت کا تسلسل کیسے برقرار ہے؟‘‘

ہشام الٰہی ظہیر معروف اسلامی سکالر ہیں۔ انہوں نے مجھے ناموس رسالتؐ سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ارسال کیا۔ وہ فیصلہ کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فیصلہ کا ابتدائی حصہ پڑھیں تو لگتا ہے کوئی ثقہ عالم دین حرمت رسولؐ کی ایک سزا سر تن سے جدا پر فتویٰ مرتب کر رہا ہے اور دلائل و برابین اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔۔۔ دوسرا حصہ خالصتاً نظریہ پاکستان کے دفاع مقصد قیام کے تمام تر پہلوؤں کا حُبّ رسول کے تناظر میں احاطہ کر رہا ہے۔ نظریہ پاکستان سے انحراف کرنے والوں اور اس کو سیکولر ریاست کہنے والوں کے خلاف یہاں بہت سے شواہد موجود ہیں۔ تیسرا حصہ یقیناً اسلامی ریاست کے قاضی کے اندر جو صلاحیت ہونی چاہئے اس سے ہم آہنگ ہے کہ فقہ الواقع اور معاصر ریاستی عدالتی فیصلوں کے نظائر کیا ہیں پھر ان ریاستی فیصلوں کو یہاں منطبق کرنا یہی بات ثابت کرتی ہے کہ بہر حال فیصلہ لکھنے والا اور کرنے والا صرف محب رسول ہی نہیں بلکہ ایک جہاندیدہ مستند جج بھی ہے۔‘‘

اس فیصلے کے منتخب حصے کو سیکنڈری اور کالج لیول کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ جسٹس شوکت نے اس فیصلے میں توہین رسالت کے موضوع پر مفصل کلام کیا ہے۔ ابن تیمیہ کی الصارم المسلول اور السبکی کی السیف المسلول وغیرہ کے اقتباسات نقل کئے ہیں۔ فیصلہ میں لکھا ہے کہ 1860 میں جب مجموعہ تعزیرات ہند انگریز نے پہلی بار نافذ کیا تھا تو اس وقت بھی اس میں ایک مستقل باب نافذ العمل کیا گیا تھا جو مذہب سے متعلق جرائم پر مشتمل تھا۔ بعد ازاں 1927ء میں 295۔اے، 1982 میں 295۔بی اور 1986 میں 295۔سی کا قانون نافذ العمل ہوا۔ 295۔سی میں شاتم رسول کی سزا موت پاکستان کی پارلیمینٹ نے منظور کی۔ اس فیصلے میں فریڈم آف سپیچ (آزادی اظہار) پر بحث کی گئی ہے۔ آئین کی دفعہ 19 میں شہریوں کا تقریر اور اظہار رائے کا حق تسلیم کیا گیا ہے، لیکن توہین رسالت سے متعلق مواد کی اشاعت یقینی طور پر آزادی اظہار کے حق میں ہرگز شامل نہیں۔

فیصلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کا اور یورپی کنونشن برائے تحفظ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں کا حوالہ بھی ذکر کیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ یہ حق اظہار و تقریر متعدد پابندیوں کے ساتھ قبول کیا گیا ہے۔ ڈنمارک، ناروے، جرمنی، آسٹریا، فن لینڈ، نیدر لینڈ، سپین وغیرہ کے قوانین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان قوانین کی رو سے دوسروں کے مذہبی جذبات کی تضحیک و توہین جرم تصور کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فرانس کی جانب سے ہولو کاسٹ پر اظہار خیال سے یہودیوں کے مذہبی جذبات اور حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔ ایک ویڈیو ساز ادارے نے عیسائیت کے خلاف ایک متنازعہ فلم بنائی تو رومن کیتھولک چرچ نے اس کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز کر دیا اور بعد ازاں عدالتی حکم کے تحت فلم کو ضبط کر لیا گیا۔

کیا معلوم روز حساب جب میزان میں اعمال رکھے جائیں اور نیکیاں تولی جائیں تو جسٹس شوکت کا یہ بیش قیمت فیصلہ بھی میزان میں رکھا جائے۔ یہ پلڑے کو جھکا دے اور جسٹس صدیقی کو سر بلند کر دے۔ کروڑوں محبان رسول کی یہی آرزو ہے اور یہی دعا ہے۔

نوٹ: بھینسا فیس بک پر پھر بے لگام دوڑ رہا ہے، خاک اڑا رہا ہے، کیا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ داری محسوس کریں گے؟ یا ایک بار پھر عدلیہ ہی ان کو بیدار کرے گی؟

مزید :

کالم -