سیاسی توپوں کا رُخ اب شہبازشریف کی طرف!

سیاسی توپوں کا رُخ اب شہبازشریف کی طرف!
 سیاسی توپوں کا رُخ اب شہبازشریف کی طرف!

  

قارئین کو یقیناً یاد ہوگا کہ انہی صفحات پر مَیں نے ملتان میٹروبس منصوبے کی تعریف میں متعدد کالم لکھے، تاہم اس بات کا بھی اظہار کیا کہ عجلت میں اس منصوبے کا جو روٹ بنایا گیا، اس کی بالکل افادیت نہیں، کیونکہ یہ شہر کے مرکزی مقامات سے کوسوں دور سے گزرتی ہے۔ اب ایک طرف تو اس کا یہ پہلو تنقید کا باعث بنا ہوا ہے، کیونکہ جب سے میٹروبس چلی ہے، صرف چند سو لوگ اس پر روزانہ سفر کرتے ہیں، جبکہ دعویٰ یہ کیا گیا تھا کہ روزانہ 90ہزار افراد اس پر سفر کریں گے۔ جب اس روٹ کی وجہ سے میٹرو بس سروس ناکام ہوتی نظر آئی تو پنجاب حکومت نے شہرکے مختلف حصوں سے فیڈر بسیں چلانے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے لئے بسوں کی ایک بڑی تعداد ملتان پہنچ بھی گئی ہے۔ کمشنر ملتان بلال بٹ نے یہ نوید سنائی تھی کہ 14اگست سے یہ بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی، لیکن ابھی تک وہ ڈیرہ اڈا کے ڈپو پر کھڑی ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف ان کا افتتاح کریں گے، فی الحال وہ وقت نہیں دے پا رہے۔

اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ فیڈر بسوں کے روٹ پر کوئی اور پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔ اس سے مزید مسائل کھڑے ہوں گے، جن میں روزگار کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے افتتاح کیا تھا تو اس وقت بھی اخبارات نے جب اس منصوبے کی نشاندہی کی تھی کہ ابھی اس کے کئی اسٹیشن نامکمل ہیں۔اسیکلیٹر مکمل نہیں، سیڑھیوں اور راہداریوں پر فائبر کی چھتیں نہیں ڈالی گئیں، مگر تب کہا گیا کہ عوام کی سہولت کے لئے اسے فوری چلانا ضروری ہے، اس لئے باقی کام ہوتا رہے گا، لیکن وہ دن جائے اور آج کا دن آئے، منصوبہ جہاں تھا وہیں کھڑا ہے، اسے بنانے والی کمپنی، ٹھیکیدار سب اپنا سامان سمیٹ کر جا چکے ہیں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ ادھورا منصوبہ کیسے مکمل ہوگا، نیز یہ کہ کس نے اس کے مکمل ہونے کی رپورٹ دی اور کمپنی کو پوری ادائیگی کر دی گئی؟ اس منصوبے کے ناقص ہونے کی خبریں بھی تصویروں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں، اب بھی بارش ہوتی ہے تو میٹروبس روٹ پر جگہ جگہ سے پانی ٹپکنے لگتا ہے، کئی بار شگاف بھی پڑے ہیں۔۔۔ایک طرف یہ منصوبہ پہلے ہی خبروں کی زینت تھا کہ اب ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ، جب چین کے ریگولیٹری ادارے نے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھا کہ ایک کروڑ سات سو ملین ڈالر پاکستان سے ٹرانسفر ہوئے ہیں اور یہ میٹروبس منصوبے کی فرم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایس ای سی پی نے اس خط کی بنیاد پر پنجاب حکومت کو ایک خط لکھا۔

یہ خط کسی طرح میڈیا کے ہاتھ لگ گیا، پہلے اس پر جیو نے پروگرام کیا، پھر اے آر وائی نے اس کی بنیاد پر مسلسل پروگرام کئے اور سارا ملبہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف پر ڈال دیا کہ انہوں نے ایک جعلی آف شور کمپنی کے ذریعے کک بیکس کا پیسہ چین بھیجا، جو وہاں کے ریگولیٹری ادارے نے بے نامی ہونے کی و جہ سے پکڑ لیا۔ اس میں شکوک و شبہات اس لئے تلاش کر لئے گئے کہ اس سارے معاملے کو ایس ای سی پی نے خفیہ رکھا۔ پاکستان کے آج کل جو حالات ہیں، ان میں ایسا کوئی خط مل جائے تو محبوب کے خط کی طرح اس کی شہرت بھی چہار وانگِ عالم میں پھیل جاتی ہے۔ ٹی وی پر آنے والا یہ معاملہ بہت جلد سیاسی ایوانوں میں پہنچ گیا۔ عمران خان نے نوازشریف کے بعد اس سکینڈل کی وجہ سے شہباز شریف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی باری لگنے کا اشارہ دے دیا۔

ادھر پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے، جو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین بھی ہیں، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے ملتان میٹرو بس منصوبے میں کرپشن کیس کی رپورٹ طلب کر لی۔ اب ظاہر ہے یہ وہ موقع تھا، جب توپوں کا رخ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف ہو چکا تھا، ان کے لئے اب خاموشی کو توڑنا ضروری ہو گیا تھا سو انہوں نے اس پر ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی اور اس کرپشن سکینڈل کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

اب یہ جھوٹ کا پلندہ ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو کسی فورم پر ہی ہوگا، تاہم شہباز شریف نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن نے پنجاب حکومت کو ایک خط لکھا تھا، جس میں اس حوالے سے وضاحت مانگی گئی تھی، یہ وضاحت اسی روز شام کو بھجوا دی گئی تھی، کیونکہ اس میں پنجاب حکومت کا کچھ لینا دینا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے اس سارے قصے کے پیچھے ایک نجی ٹی وی چینل اور اس کے پس پردہ قبضہ مافیا کا ہاتھ قرار دیا اور ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی دھمکی بھی دی۔ شہباز شریف ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ان پر ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو وہ پھانسی پر لٹکنے کے لئے تیار ہیں۔

اس بار تو انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر مجھ پر مرنے کے بعد بھی کرپشن ثابت ہو تو میری لاش کو لٹکا دیں۔ سیاسی مخالفین ان کی ایسی باتوں کو سیاسی بڑھک بازی قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس ملک میں کرپشن پر کسی زندہ شخص کو سزا نہ ملتی ہو، وہاں کسی مردے کو قبر سے نکال کر کیسے اور کس قانون کے تحت سزا دی جائے گی؟ بہتر ہے کہ شہباز شریف خود کو احتساب کے لئے پیش کریں اور چین کے ریگولیٹری ادارے کی طرف سے ایک ارپ پچھتر کروڑ روپے کے میٹرو بس منصوبے سے متعلق جس بلیک منی کا الزام لگایا گیا ہے، اس سے خود کو بری الذمہ ثابت کریں۔

میں اس سارے معاملے کو ایک دوسری نظر سے دیکھ رہا ہوں۔ شہباز شریف بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔اُن پر یقیناً کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ اگرچہ الزامات لگتے بہت رہے ہیں۔ نندی پور منصوبے سے لے کر ساہیوال کول پاور پراجیکٹ، لاہور کے میٹرو منصوبے سے لے کر پنڈی و ملتان کے میٹرو منصوبوں، نیز لاہور کے اورنج لائن ٹرین منصوبے تک اپوزیشن شہباز شریف پر انگلیاں اٹھاتی رہی ہے، مگر کوئی بات دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ کسی عدالت میں ثابت نہیں کی جاسکی۔ دوسری طرف شہاز شریف کا یہ دعویٰ رہا کہ انہوں نے اپنے تمام منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی ہے اور باقاعدہ اس کے اعدادوشمار پیش کئے ہیں۔ ان کے سب دعوے اپنی جگہ درست ہوسکتے ہیں، لیکن یہ جو ملتان میٹروبس منصوبے کا معاملہ اٹھا ہے، یہ بہت سنجیدہ ایشو ہے۔ نواز شریف نے یہ غلطی کی تھی کہ جب پاناما کا ایشو سامنے آیا تو اسے سنجیدگی سے نہ لیا۔ شریف فیملی کے بیانات میں ہم آہنگی کا فقدان پایا گیا۔ پھر ایسے کئی مواقع آئے کہ پاناما ایشو کا حل پارلیمنٹ کے ذریعے نکالا جاسکتا تھا، مگر انہیں ضائع کردیا گیا۔ پھر پاناما کیس کی سماعت کے دوران بھی ایسے مراحل آئے کہ جب سیاسی فیصلہ کرکے نواز شریف بہت کچھ بچاسکتے تھے، مگر انہوں نے آخری وقت کا انتظار کیا اور نااہل ہو کر گھر چلے گئے۔

اب آثار یہی لگ رہے ہیں کہ اپوزیشن ملتان میٹروبس منصوبے کے اس مالی سکینڈل کو آسانی سے ہضم نہیں ہونے دے گی۔ یہ معاملہ بھی عدالت تک جاسکتا ہے۔ اب شہباز شریف کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرنے کی بجائے کہ کرپشن ثابت ہو جائے تو ان کی گردن اُڑادی جائے، شواہد اورثبوتوں کی بنیاد پر ملتان میٹروبس منصوبے کی شفافیت کو ثابت کریں۔ اس کے ٹھیکے سے لے کر ادائیگی تک کے مراحل کا ریکارڈ تیاررکھیں تاکہ اگر کل کلاں کسی فورم پر پیش کرنا پڑے تو انہیں نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرح ثبوتوں کی عدم فراہمی کے تکلیف دہ مرحلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ صرف نواز شریف پر پاناما کا احتساب آکر کیوں رُک گیا ہے، مگروہ یہ نہ بھولیں کہ باقیوں کا احتساب حکومت نے کرنا ہے اور حکومت اب بھی ان کی جماعت کے پاس ہے۔

مزید :

کالم -