عالمگیر شہرت کے حامل مقدمہ قتل کا 10سال بعد فیصلہ

عالمگیر شہرت کے حامل مقدمہ قتل کا 10سال بعد فیصلہ

  

جب میں گزشتہ سال محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی 9ویں برسی پر اشاعت خاص کے لئے تحریر لکھ رہا تھا تو خیال ظاہر کیا تھا کہ اس امر کا غالب امکان ہے کہ آئندہ برسی پر محترمہ شہید کے مقدمہ قتل کا فیصلہ ہو چکا ہو گا اور یہ بھی لکھا تھا کہ قرائن بتا رہے ہیں کہ مقدمہ اتنا کمزور ہے کہ شاید کسی بھی ملزم پر قتل کا الزام ثابت نہ ہو سکے کیونکہ واقعاتی شہادتیں اس قدر کمزور ہیں جو جرم ثابت کرنے کے قابل نہیں ۔ 27دسمبر 2016ء کو شائع ہونے والے اس سپیشل ایڈیشن میں ان قانونی پیچیدگیوں اور مو شگافیوں کا تذکرہ بھی بطور خاص کیا گیا تھا جو اس مقدمے کی راہ میں رکاوٹ دکھائی دے رہی تھیں ۔ اب گزشتہ روز یعنی 31اگست 2017ء کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر ایک راولپنڈی نے اس مشہور مقدمہ قتل کا فیصلہ سنا دیا ۔ دنیا ئے اسلام اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز رکھنے والی کے مقدمہ قتل کا فیصلہ ان کی 10ویں برسی سے چار ماہ قبل سنایا گیا ۔اگرچے اس فیصلے کو محترمہ شہید کے فرزند ارجمند اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے فوری طور پر مسترد کر دیا جبکہ ملک کے ممتاز قانون دانوں نے بھی اس فیصلے کے بعض نکات سے اتفاق نہیں کیا تاہم یہ امر ضرور خوش آئند ہے کہ عدالتی فیصلے نے مقدمہ قتل کی پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن کی غلطیوں سے پردہ ضرور اٹھایا ۔پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی تفتیش میں جن ملزموں کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا وہ تو عدالت سے با عزت بری ہو گئے لیکن اس امر کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ اتنی قد آور شخصیت کو کس نے اور کیوں مروایا ۔ قتل کے اصل محرکات مقدمہ کا فیصلہ آنے کے بعد بھی پوشیدہ دکھائی دے رہے ہیں ۔اسے ہماری بدقسمتی سمجھئے یامجرمانہ غفلت قرار دیجیے کہ ہمارے ہاں اہم شخصیات کے قتل کے محرکات اور پس پردہ وجوہات کبھی بھی منظر عام پر نہیں آئیں ۔عدالتی فیصلے میں اعانت جرم کے ملزم سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اشتہاری مجرم قرار دے کر ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جبکہ کرائم سین دھوئے جانے کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے سابق سی پی او راولپنڈی سیدسعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو مستوجب قید قرار دیا گیا ۔حالیہ فیصلے کی تفصیلات پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج اصغر خان نے محترمہ شہید سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے 23کارکنان کے قتل کیس میں نامزدسابق سی پی او راولپنڈی سید سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو جرم ثابت ہونے پر 2الگ الگ دفعات میں مجموعی طور پر 17،17سال قیداور5لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ مقدمہ میں نامزد پہلے سے گرفتار 5ملزمان محمد رفاقت ،حسنین گل ،شیر زمان ،رشید احمد اور اعتزاز شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر مقدمہ سے بری کر دیا ہے ،سابق صدر پرویز مشرف کو عدالت سے روپوشی اور دانستہ عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ، ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ مقدمہ میں نامزدتحریک طالبان پاکستان کے رہنمابیت اللہ محسود ،عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام،فیض محمد، اکرام اللہ ،نصراللہ ،نادر عرف قاری اسماعیل پر مشتمل7ملزمان کو مسلسل عدم حاضری پر عدالت پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ عدالت نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں سنائے گئے فیصلے میں سعود عزیز اور خرم شہزاد کو شہادتیں ضائع کرنے اور تفتیش میں کوتاہی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119کے تحت 10,10سال قید اوردفعہ201کے تحت 7,7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جس پر دونوں پولیس افسران کو موقع پر گرفتار کرلیاگیا۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر اڈیالہ جیل میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے بے نظیر بھٹوکو27 دسمبر2007کو اس وقت خود کش بم دھماکے کی نذر کر دیا گیا تھا جب وہ انتخابی مہم کے حوالے سے راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسہ عام کے اختتام پر واپس روانہ ہو رہی تھیں ۔ایس ایچ او تھانہ سٹی کاشف ریاض کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر471درج کیا گیاتھا تاہم بعد ازاں اس میں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو ملزم نامزد کرنے کے بعد مرحلہ وار سابق صدر پرویز مشرف ،سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد سمیت 15افراد کو بطورملزم نامزدکیا گیا تھا جن میں سے پرویز مشرف ،سید سعود عزیز اور خرم شہزادپر مشتمل 3ملزمان آج کل ضمانت پر تھے جبکہ محمد رفاقت ،حسنین گل ،شیر زمان ،رشید احمد اور اعتزاز شاہ پر مشتمل 5ملزمان گرفتاراڈیالہ جیل میں تھے اور بیت اللہ محسود ،عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام،فیض محمد، اکرام اللہ ،نصراللہ ،نادر عرف قاری اسماعیل پر مشتمل7ملزمان تاحال مفرور ہیں جن کے بارے میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ ساتوں مختلف مواقع پر ہونے والے فوجی آپریشنز میں مارے جا چکے ہیں اس مقدمہ میں استغاثہ کی جانب سے 139گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی تھی جبکہ بعد ازاں ان گواہوں کی تعداد کم کر دی گئی اور مجموعی طور پر68 گواہوں نے بیانات قلمبند کروائے سانحہ لیاقت باغ کے ٹرائل کے دوران اس سے قبل انسداد دہشت گردیکی عدالت کے 7جج تبدیل ہوئے400سے زائدتاریخ پیشیوں (تاریخ سماعت)کے دوران 8چالان عدالت میں پیش کئے گئے،3 مرتبہ فرد جرم عائد کی گئی دوران ٹرائل پراسیکوشن کی جانب سے مقدمہ میں نامزد سابق صدر پرویز مشرف کی عدالت طلبی کے لئے بھی درخواست دائر کی گئی یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل کے دوران اب تک رانا نثار،پرویز علی شاہ،شاہد رفیق ،چوہدری حبیب اللہ، طارق عباسی اور پرویز اسماعیل جوئیہ اور رائے ایوب خان مارتھ پر مشتمل7جج تبدیل ہو چکے ہیں اور اب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے آٹھویں جج کی حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا مقدمہ کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہی کیا گیا ،سانحہ کے ٹرائل کے دوران ایک سانحہ یہ ہوا کہ اس کیس میں ایف آئی اے کی پیروی کرنے والے وکیل چوہدری ذوالفقار کو2013ء میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت واقعہ کے بعد14 دن کے اندر چالان پیش کرنا اور 3 ماہ میں سمری ٹرائل مکمل کرنا لازم تھا لیکن پنجاب حکومت کی جانب سے چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے27 دسمبر کو پیش آنے والے سانحہ لیاقت باغ کا پہلا چالان فروری 2008کو عدالت میں پیش کیا جس میں طالبان رہنمابیت اللہ محسودپر قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرنے کے ساتھ رشید احمد، اعتزاز شاہ ، شیر زمان، حسنین گل اورمحمد رفاقت کوبھی ملزم نامزد کیا گیاتھابعد ازاں وفاقی حکومت کی ہدایت پرمقدمے کی ازسر نو تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) کے حوالے کر تے ہوئے خالد قریشی کی سربراہی میں ایک نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی جس نے 22 اپریل 2011 تک انسداددہشت گردی کی عدالت میں5 نامکمل چالان داخل کروائے تاہم حتمی چالان اگست2013میں پیش کیا گیا ایف آئی اے کو تحقیقات سونپنے اور اس دوران سکاٹ لینڈ یارڈ کے دورہ پاکستان اورسانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے بعد عدالت میں داخل کی گئی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کو بھی ملزم نامزد کیا گیا اس کیس میں پی ٹی سی ایل کے ملازمین سر فر از ، سعید قر یشی، بے نظیر بھٹو کے ز یر استعما ل بلیک بیر ی مو بائل فو ن سے ای میل اور ایس ایم ایس کا ڈیٹا حا صل کر نے والے ایکسپر ٹ نعما ن ا شر ف بو د لہ ،گر فتا ر ملز م ر فا قت کو اپنے گھر میں ٹھہر انے وا لے ما لک مکا ن غلا م عبا س، ڈی ایس پی اشتیا ق شا ہ ، ایف آ ئی اے کا نسٹیبل کاشف بشیر، سب انسپکٹر ار شد کلیم ،وار د ٹیلی کا م کے عثما ن مفتو ن اور ملزما ن ر فا قت ،حسنین اور اعتز از شا ہ کا د فعہ 164کے تحت بیان قلمبند کیا گیا،جبکہ پی ٹی سی ایل کے ڈا ئر یکٹر فیر و ز عا لم نے طا لبا ن کما نڈ ر بیت اللہ محسو د اور ایک مبینہ منصوبہ کارکے ما بین ہو نیوا لی ایک منٹ13سیکنڈ کی گفتگو پر مبنی ر یکا ر ڈ عدا لت میں پیش کی تھی جس میں گفتگو کر نیوا لے افر اد نے بے نظیر بھٹو پر خو د کش حملہ کے بعد ایک دوسر ے کو مبا ر ک با د پیش کی تھی سانحہ لیاقت باغ کے ٹرائل کے دوران عدالت نے وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر(ر)جاوید اقبال چیمہ ،نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے ڈی جی جاوید اقبال لودھی اورسیکرٹری داخلہ کمال شاہ کو بطور گواہ طلب کیا تھا برطانوی صحافی مارک سیگل کیس کے اہم ترین گواہوں میں شامل تھے جن کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کیا گیا تھا یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو 5 بجکر 11 منٹ پر دھماکہ ہوا جبکہ 6 بجکر 42 منٹ پر جائے وقوعہ کو دھو دیا گیا اور دھماکے کے 2 گھنٹے بعد تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کاشف ریاض کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی22دسمبر 2010کوسابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کی ضمانت مسترد کر کے دونوں پولیس افسران کو بے نظیر بھٹو قتل کیس کے جیل ٹرائل کے دوران اڈیالہ جیل سے گرفتار کیا گیاتھا23اپریل2011کوبرطانوی حکومت کی طرف سے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزدسابق صدر پرویز مشرف کی پاکستان حوالگی کے لئے باقاعدہ انکار کے بعدایف آئی اے کی درخواست پر30مئی2011 کوانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر3کے جج رانا نثار احمدنے پرویز مشرف کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87,88کے تحت کاروائی کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دیاتھااور 11جون2011 کواسی عدالت نے پرویز مشرف کوباضابطہ طور پر اشتہاری قرار دینے کے بعد ان کے دائمی وارنٹ جاری کرکے انکی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی تھیںیاد رہے کہ اس کیس میں سیکو ر ٹی فور سسز کے آ پر یشن کے دوران ما رے جا نے والے کا لعد م تحر یک طا لبا ن پا کستان کے کما نڈ ر بیت اللہ محسو د سمیت 14ملز ما ن کو نا مز د کیا گیا جس میں سے 5 ملز ما ن ر فا قت ، حسنین گل ، ر شید ا حمد ، شیر زما ن ، اور ا عتز از شا ہ پہلے سے گر فتا رتھے جبکہ سا بق سی پی او راو لپنڈ ی سعو د عز یز اور سا بق ایس پی خر م شہز ادگر فتا ر ی کے بعد ضما نت پر تھے 15اکتوبر2011 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج شاہد رفیق کے روبرو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد سابق صدر پرویز مشرف کے شریک ملزمان سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیزاورایس پی راول ٹاؤن خرم شہزاد کی جانب سے بریت کی درخواست خارج کر کے ساتوں ملزمان پر فرد جرم عائدکی تھی تاہم رواں سال ہفتہ وار اوررواں ماہ عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنا دیا ۔

اس مقدمے کافیصلہ سامنے آنے کے بعد بھی امر کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اتنی اہم شخصیت کے سفاکانہ اور بہیمانہ قتل کے اصل محرکات سے قوم ابھی تک بے خبر ہے۔ یہ کس قدر افسوسناک اور شرمناک پہلو ہے کہ نو برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملک کی منتخب وزیراعظم کے مقدمہ قتل کا فیصلہ ہونے کے باوجود اصل حقائق منظر عام پر نہیں آسکے۔ غیر سنجیدگی کا عالم بھی رہا کہ اس ہائی پروفائل کیس کو یکسو ہی نہیں کیا جاسکا۔ بنیادی نکات کا تعین کیا جاسکا اور نہ ہی اصل مجرموں کا پتہ چل سکا۔ جہاں تک اس کیس کے تفتیشی، تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کا تعلق ہے تو آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں نو سال پہلے موجود تھے۔ 2017ء تک محترمہ شہید کے مقدمہ قتل میں صرف ایک ڈویلپمنٹ ضرورہوئی اور وہ یہ کہ اس مقدمے کے اہم گواہ اور محترمہ شہید کے قریبی دوست امریکی صحافی مارک سیگل کا بطور گواہ بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرلیا گیا اور وہ بھی اس حوالے سے ادھورا ہے کہ نو برس کے دوران محض بیان ریکارڈ کرکے ہم لمبی تان کر سوگئے اور غیر ملکی صحافی کے اس بیان پر جرح تک نہیں کی جاسکی۔ قانون شہادت کے مطابق جب تک گواہ پر ’’کراس ایگزامن‘‘ نہیں کیا جاتا اس کی شہادت کی کوئی اہمیت اور قانونی قدر و قیمت نہیں ۔ امریکی صحافی نے اپنے بیان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس ای میل کا تذکرہ کیا ہے جو انہوں نے اپنی پاکستان روانگی سے قبل مارک سیگل کو بھجوائی تھی اور اس میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مجھے پاکستان کے اندر قتل کروایا جاسکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف پر ہوگی۔ ویڈیو لنک پر دی گئی اپنی شہادت میں مارک سیگل نے اس ای میل کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ محترمہ سے میرا اس حوالے سے ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔ اس دوران بھی مرحومہ نے اپنے خدشات سے مجھے آگاہ کیا۔

اس مقدمہ قتل کے حوالے سے سب سے مایوس کن اور افسوسناک پہلو یہ بھی رہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار پانچ سال پورے کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے دور اقتدار میں بھی اپنی سربراہ کے مقدمہ قتل کو فیصلہ کن بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ پانچ سال کے دوران اس حوالے سے مصلحتیں آڑے آتی رہیں اور مقدمہ کے جو پہلو بآسانی سلجھائے جاسکتے تھے ان سے بھی دانستہ طور پر چشم پوشی کی گئی۔ اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے اور یہ جرم کس کے کھاتے میں رکھا جائے یہ ذرا مشکل کام ہے لیکن اس حقیقت کو جھٹلانا بھی آسان نہیں کہ پارٹی اپنے دور اقتدار میں بھی اپنی لیڈر کے قتل کی وجوہات جاننے میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا تو کجا اس بنیادی امر کا بھی حتمی تعین نہیں کیا جاسکا کہ حملہ آوروں کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کے اصل پشت پناہ کون تھے اور اتنی قد آور شخصیت کو راستے سے ہٹانے کا حکم کس نے دیا تھا۔؟ محض یہ دعویٰ کرنے سے قوم کو اطمینان نہیں دلایا جا سکتا کہ بی بی کے تمام قاتل پکڑ لئے گئے ہیں بیت اللہ محسود گروپ کا کام تھا ملزمان پولیس مقابلے یا آپریشن کے دوران مارے گئے۔ اس بارے میں حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ اب جبکہ عدالت کا فیصلہ آچکا ہے۔ محترمہ شہید کے مقدمہ قتل کے حوالے سے آٰئندہ کوئی ڈویلیپمنٹ ہوگی یا نہیں یہ بڑی اہم بات ہے کیونکہ محترمہ کے اہلخانہ، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر کئی حلقے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کررہے اب اس حوالے سے کیا صورتحال سامنے آتی ہے یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس حوالے سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اور آئینی و قانونی امور کے ممتاز ماہر آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم کے مقدمہ قتل کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس سے ہمارے ہاں تفتیش اور پراسیکیوشن کی خرابیوں کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔صفحہ مثل پر جنہیں ملزمان قرار دیا گیا وہ عدالت سے بے گناہ اور بری ہو گئے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی شخصیت کو کس نے اور کس کے ایماء پر قتل کیا؟ہمارے ادارے اتنے بڑے واقعے کا 10سال بعد بھی سراغ لگانے میں ناکام رہے اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ موقعہ کی اہم شہادتیں ضائع کر دی گئیں اور جائے وقوعہ کے گرد و نواح میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج یادیگر ماڈرن ڈیوائسز کے ذریعے تفتیش نہیں کی گئی ۔اگر تفتیش جدید تقاضوں کے تحت کی جا تی تو اصل ملزم ضرور سامنے آ جاتے۔محترمہ شہید کا موبائل اور شہادت کے وقت پہنے ہوا لباس بھی قبضے میں نہیں لیا گیا ۔سانحہ کے کچھ ہی دیگر بعد محترمہ کے ساتھ بیٹھی ناہید خان اور شیری رحمان کا کہنا تھا کہ محترمہ کی گردن پر 2نشانات اور سر پر ایک نشان تھا اس کی بھی وضاحت آج تک سامنے نہیں آئی ۔سکیورٹی اداروں کی طرف سے منع کئے جانے کے باوجود محترمہ نے گاڑی سے سر کیوں باہر نکالا آج تک اس عقدہ کو حل کیوں نہیں کیا گیا ۔یہ وہ واقعاتی شہادتیں تھیں جنہیں تفتیش میں فراموش کر دیا گیا ۔

سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے

مقدمہ قتل کا 10سال بعد فیصلہ

پانچ ملزموں کی بریت سے معلوم ہوتا ہے کہ تفتیش اور پراسیکیوشن میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے

مزید :

ایڈیشن 1 -