نفس کے محاسبے کی ضرورت

نفس کے محاسبے کی ضرورت

  

جب کبھی انسان خلوت نشین ہوتا ہے تو اپنے نفع اور خسارے کے متعلق سوچتا ہے۔ وہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے وسائل اور ذرائع کی جستجو کرتا ہے جبکہ خسارے سے دوچار کرنے والے امور سے اپنا دامن بچانے کی فکر کرتا ہے۔ کتنے مسلمان ایسے ہیں جن کی ساری سوچ و فکر کا محور اس فانی زندگی سے متعلقہ امور اور معاملات ہیں اور آخرت جو ابدی اور دائمی ہے، اس کے متعلق انہوں نے کبھی سوچنا گوارا نہیں کیا۔ کبھی ہم نے اپنے اعمال کے متعلق سوچ و بچار کی اتھاہ گہرائیوں میں اترنا پسند کیا ہے؟ ایک طرف ہماری کتنی ہی نیکیاں جن پر ہم اتراتے ہیں، دکھاوے اور ریا کی آمیزش کی وجہ سے اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ ہمارے کتنے ہی نیک اعمال سنتِ رسولؐ کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے، جبکہ دوسری طرف ہمارے گناہوں کا پلڑا اس قدر بھاری ہے کہ ہماری حقیر اور معمولی نیکیاں بھی ان کے اثر سے زائل ہوتی نظر آتی ہیں۔

ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اس نے زندگی کے گزشتہ ایام میں کیا کھویا اور کیا پایا اور آخرت کے لیے کس قدر زادِ راہ تیار کیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر شخص دیکھ لے کہ کل (قیامت) کے لیے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا، جنہوں نے اللہ تعالیٰ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا (اور) ایسے ہی لوگ نافرمان ہوتے ہیں۔‘‘

اسی طرح حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ ’’اپنے نفوس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اسے (نیکی و بدی کی کسوٹی پر) تولو، قبل اس کے کہ تمہیں تولا جائے، کیونکہ نفوس کا آج محاسبہ کرنا کل تمہارا محاسبہ کیے جانے سے بہتر ہے۔‘‘ نفس کے محاسبہ کے لیے کچھ امور کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان میں سے چند ایک کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

انسان اپنے ذہن میں یہ بات جاگزیں کرے کہ اگر آج اس نے اپنے نفس کا محاسبہ کر لیا تو کل قیامت کے دن وہ انتہائی خوشی اور مسرت محسوس کرے گا۔ اسی طرح اگر اس نے آج اپنے نفس کے محاسبہ سے غفلت برتی تو کل اسے سخت محاسبے اور عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

جب انسان کوئی عمل اس نیت سے کرتا ہے کہ کل اس کا بدلہ اسے تصور اور وہم و گمان سے بلند تر ملے گا تو انسان اس عمل کو سرانجام دینے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔ نفس کا محاسبہ اگرچہ بہت مشقت طلب ہے لیکن کل اس کا صلہ جنت کی صورت میں ملے گا۔ اسی لیے انسان نفس کا محاسبہ کر کے جنت کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جبکہ آج نفس سے غفلت اور لاپرواہی کا انجام کل جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

نفس کے محاسبہ کے لیے ایک کارگر طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرے، جو اسے نفس کے محاسبہ کی ترغیب دلاتے رہیں اور اس طرف سے غفلت برتنے کے عواقب سے ڈراتے رہیں۔

صحابہ کرام، تابعین اور علماء کی سیرتوں کا مطالعہ بھی نفس کے محاسبہ کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ کس طرح ان پاکباز لوگوں نے دنیا کی چکاچوند سے اپنا دامن بچا کر اپنے نفوس کی اصلاح کی، نفس کے دنیا کی طرف ترغیب دلانے کے باوجود آخرت کو مقدم رکھا اور اس سلسلے میں انتہائی زیادہ محنت اور مشقت کو اپنا شعار بنایا، تا کہ دنیا کی عارضی لذتوں کے مقابلے میں آخرت کی ابدی ذلت اور رسوائی نہ اٹھانا پڑے ۔

مُردہ لوگوں کے دیس ’’قبرستان‘‘ میں جانا بھی نفس پر انتہائی گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ وہ لوگ جو کل تک مال و دولت میں کھیلتے اور محترم تھے، آج کس قدر بے چارگی کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن ہیں اور ان کے ہاتھوں کی کمائی ان کے سامنے ہے۔ یہ تمام لوگ اپنے نفوس کے محاسبے کا موقعہ کھو بیٹھے ہیں۔ یہ تمام چیزیں انسان کو اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ کل جب میرا حال بھی ان جیسا ہوگا تو میں بھی اپنے نفس کی جانچ پڑتال کے موقعہ سے محروم ہو جاؤں گا۔ اس لیے آج فرصت ہے کہ میں اپنے نفس کی طرف توجہ کروں۔

ان مقامات پر جانے سے پرہیز کرنا بھی نفس کے محاسبہ کے لیے انتہائی ضروری ہے جو انسان کو آخرت کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں اور انسان کا مقصد صرف اس فانی زندگی کو سنوارنا رہ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ التجائیں کرنا بھی نفس کے محاسبہ کے لیے معین ومددگار ہے۔ جب بھی انسان دعا کرتا ہے تو اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو جائے اور دعا کی قبولیت کے لیے ایک بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کا دامن گناہوں سے پاک ہو، لہٰذا دعا کی قبولیت کی خواہش بھی انسان کو گناہوں سے دور کیے رکھتی ہے اور نفس کے محاسبے کا مقصد بھی گناہوں سے دامن بچانا ہے۔

انسان کبھی اپنے متعلق یہ گمان نہ کرے کہ وہ اوج کمال کو پہنچ گیا ہے اور اسے اپنے نفس کے محاسبہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ جب انسان اس خیال کو اپنے دماغ میں جگہ دیتا ہے تو اسی وقت اس کی زندگی کا رخ پستی اور ذلت کی طرف ہو جاتا ہے۔ ہر وقت اپنے گناہوں کی کثرت پر پشیمان رہنا اور نیکیوں کی قلت پر نادم ہونا ہی انسانی نفس کی معراج ہے اور یہی وہ صفت ہے جو انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں رواں دواں رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

مزید :

ایڈیشن 2 -