نظرِ بد قرآن و حدیث کی روشنی میں

نظرِ بد قرآن و حدیث کی روشنی میں

  

نظر بد جسے زخمِ چشم یا نظر لگنا بھی کہا جاتا ہے اس کا تصور قدیم زمانے سے مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ نظر بد کا مسئلہ عقلی لحاظ سے ناممکن نہیں ہے کیونکہ آج کے دور میں یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی قوت پر مہارت حاصل کر لی جائے تو آدمی اس کے ذریعے سے دوسروں کے ذہن اور خیالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایسے افراد کو جانتے ہوں گے جو آنکھوں کی اس توانائی کے ذریعے انسانوں، جانوروں یا کسی بھی شے پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا نظر بد کا انکار ممکن نہیں ہے اور نہ ہی نظر بد کا وجود عقل و علم کے منافی ہے۔ہمیں انبیاء کی تاریخ میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ جب حضرت یعقوبؑ کے گیارہ فرزند اپنے بھائی حضرت یوسف ؑ سے جو اس وقت مصر کے حکمران بن چکے تھے۔ ملاقات کے ارادے سے کنعان سے روانہ ہونے لگے تو حضرت یعقوبؑ نے اپنے گیارہ فرزندوں کو ہدایت کی کہ تم سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا، کیونکہ تمہاری تعداد سے اندیشہ ہے کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔

رسول اللہؐ کے وقت عرب میں ایسے لوگ موجود تھے جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکے نظر لگاتے اور جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے، ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ تبلیغ اسلام کے موقع پر کفار نے ان افراد کی خدمات حاصل کیں مگر اللہ نے اپنے نبیؐ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور ان بدنیتوں کے تمام حربے ناکام ہوگئے، ان کی اس شرانگیزی کو قرآن میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے۔

سورۃ القلم آیت نمبر52-50

’’اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بدنظر لگا کر تمہیں گرا دیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہے اور یہ (قرآن) تو نصیحت ہے سارے جہان کے لئے ‘‘۔

چنانچہ جس وقت حضور اکرمؐ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے تو ان میں سے ایک کافر آیا اور پوری ہمت سے نظر لگانے کی کوشش کی آپؐ نے لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ لیا جس پر وہ کافر ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔(تفسیر عثمانی ص 741)

صحیح مسلم میں ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا:

’’نظر لگنا حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہے تو وہ نظر بد ہے۔

آپؐ کا ایک اور فرمان ہے کہ میری امت میں قضا و قدر کے بعد اکثر موت نظر لگنے سے ہوگی۔ نیز آپؐ نے فرمایا نظر انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہانڈی تک میری امت کی اکثر ہلاکت اسی میں ہے(تفسیر ابن کثیر)

ابن ماجہ میں ہے کہ سہیل بن حنیفؓ صحابی رسولؐ کو ان کے کسی ساتھی کی نظر لگی اور بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ رسول اکرمؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی کیوں اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے یعنی نظر لگاتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے۔

حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ حضوراکرمؐ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ جب سورۃ معوز تین نازل ہوئی تو آپؐ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا(تفسیر ابن کثیر)

امیر المومنین حضرت علیؓ فرماتے ہیں: نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کے دفع کرنے کے لئے دعا و تعویذ سے علاج بھی حق ہے۔(نہج البلاغہ ص 934)

ایک اور احتیاطی تدبیر کے طور پر امام جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص ایسی زینت کرے کہ جس پر نظر بد کا خوف ہو تو گھر سے نکلتے وقت سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے(تحفہ العوام ص 566)

نیز امام جعفر صادقؒ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تمہیں ڈر ہو کہ تمہاری نظر کسی کو لگے گی یا کسی کی نظر تمہیں لگے گی تو تین دفعہ یہ پڑھو ’’ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم‘‘

نظر بد سے بچنے کے لئے یہ بھی وارد ہوا ہے کہ ہاتھوں کو منہ کے سامنے کرکے سورۃ فاتحہ ، سورۃ اخلاص اور معوذ تین پڑھے اور پھر ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے سے نیچے کی طرف کھینچے (مفاتج الجنان ص 303) نظر بد کے اثرات پر یقین رکھنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم بلاوجہ شک و شبہات میں مبتلا ہو کر دوسروں کو ہر پریشانی کا مورد الزام قرار دے کر باہمی تعلقات کو خراب کریں اور باہمی طور پر الزام در الزام یا لعن طعن کا سبب بنیں اور نہ ہی نظر بد کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں بے ہودہ کاموں و غیر شرعی طریقوں کی پناہ لینی چاہیے اور نہ ہی اس سلسلے میں پیروں اور جعل ساز تعویذ فروشوں کے جال میں پھنس کر اپنا مال و اسباب اور ذہنی سکون برباد کرنا چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے گھروں میں قرآن پاک کی صورت میں منبع شفا موجود ہے اس کے علاوہ احادیث میں دعائیں اور وظائف بھی وارد ہوئے ہیں جنہیں پڑھنے کے لئے کسی کی اجازت کی قطعاً ضرورت نہیں ہر مشکل کے حل کے لئے اللہ کے کلام، مسنون دعاؤں اور وظائف کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -