جرات و بہادری کی مثالیں!

جرات و بہادری کی مثالیں!

  

ہسپا نیہ میں عبدالرحمان اول نے بنو امیہ کی حکمرانی کاسنگ بنیاد رکھاتھا۔عبد الرحمان کے پو تے ا لحکم کے عہد حکومت میں قر طبہ میں ایک خوفناک بغاوت کی آ گ بھڑ کی با غیو ں نے قصر شا ہی پر ہلہ بول دیا۔ الحکم نے حسن تدبیر سے فوج جمع کی، بغاوت کوفر و کر دیا اور باغیوں کوحکم دے دیا، کہ ہسپانیہ سے نکل جائیں ۔ چنانچہ ان میں سے ایک جماعت مراکش پہنچ کر طنجہ اور فاس میں مقیم ہو گئی ۔ باقی لوگوں نے جن کی تعداد دس اور پندرہ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے جہازوں پرسوار ہوکر سکندریہ کارخ کیا اور وہاں پہنچ ہی شہر پرقبضہ کر لیا ۔ وہ مصر میں کو ئی ہنگا مہ بر پا کر نے کے خو اہشمند نہ تھے ۔ مصر اس زما نے میں عباسی خلافت کا ایک صوبہ تھااور ما مون الر شید تخت خلافت پر متمکن تھا۔ان کی آ رزو صر ف یہ تھی، کہ کو ئی موزوں بحر ی مقا م ہا تھ آجائے، جسے مرکز بنا کر وہ بحیرروم کے ان جزیر و ں کو فتح کر سکیں ۔جو اس وقت تک رومیوں اور یونا نیوں کے قبضے میں تھے ۔انہی میں سے ایک جز یرہ کر یت تھاجس کے بعض حصو ں میں ان جلاوطنو ں نے عمل دخل کی صو رت پید اکر لی تھی ۔

مامون الر شید کیوں کر گوار کر سکتا تھا کہ اس کے ایک بڑے بحر ی مر کز سکندر پر یہ غیر لوگ قا بض ہو جائیں ؟ان کے پاس کو ئی خا ص جنگی قو ت نہ تھی اس نے اپنے مشہو ر سپہ سا لار عبد اللہ بن طا ہر کر مصر بھیجااور اس نے جلاوطنوں کو سکندر یہ چھو ڑ نے پر مجبور کر دیا۔

اب ان لوگوں کے لئے خدا پر بھر وسا کر تے ہوئے لڑ مرنے کے سو ااور کوئی چارہ نہ رہاتھا۔ سکندر یہ کو تو انہوں نے چھو ڑ دیا ۔ جو جہاز ہاتھ آ ئے انہیں لے کر سمندر میں نکل پڑے، ابو عمر حفص بن عیسی ان کا سر دار تھا۔وہ سید ھے کریٹ پہنچے اور ایک ہی ہلے میں رومی فوج کو جزیرے سے بھگا دیا۔ وہاں حکو مت قا ئم کی وہ کم و پیش ایک سو سا ل تک کامیابی سے جاری رہی عجیب بات یہ ہے کہ اموی خلا فت کے زمانے میں جب مسلمانوں نے پہلے پہل کریٹ پر حملہ کیا تو اسے فتح نہ کرسکے تھے اور ان کی تو جہ دوسرے ملکو ں کی طرف پھر گئی تھی، لیکن چند ہزار مسلمانو ں جلاوطنوں نے نہ صرف ا س جزیرے کو مسخر کر لیا، بلکہ وہاں پائیداراور کامیاب حکومت قا ئم کرلی ۔تا ریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک ہی واقعہ ہے کہ جولوگ پہلے ہسپا نیہ، پھر اسکندر یہ سے جلاوطن ہوئے انہوں نے زور بازوسے ایک بہت بڑا جزیرہ فتح کر لیا ۔

یہ مسلمان کریٹ کے ساحل پر جہا ں اتر ے تھے ۔وہا ں اپنی قیام گا ہ کے اردگر حفا ظت کے لیے انہوں نے خندق کھود لی تھی، بعد میں اس مقا م کا نا م الخند ق مشہور ہو گیا۔ اسی نا م کو اہل یورپ نے بگا ڑ کر کنیڈ یا بنا دیا جو کر پٹ کا دوسر ا نام ہے۔اسلامی تا ریخ میں اس قسم کے حیرت انگیز واقعا ت کی کبھی کمی نہیں رہی ۔ ایسے نادر واقعات بھی ملتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک شہر کا محا صر ہ کر رکھاتھا۔ محصورین نے ایک مرتبہ شہرکادروازہ کھول کر مسلمانو ں پر حملہ کیا ۔جیش کا سالار مقابلے کے لیے آ گے بڑھااور جیش کو شکست دے کر لو ٹ جا نے پر مجبور کردیا۔ ان کے پیچھے پیچھے خو د بھی شہرکے اندر پہنچ گیا ۔ وہ لڑائی میں اتنا محوتھا کہ بالکل خبر نہ ہو سکی کہ سا تھی باہر رہ گئے ہیں،لیکن اس صورت حال سے گھبرایا نہیں، تنہاشہرمیں لڑتا رہا۔ہرطرف سے اس پرتیروں اور پتھروں کی بارش ہورہی تھی لیکن جب تک زندگی نے سا تھ دیا لڑائی نہ چھوڑی ۔ جوانمر دی کی اس یگانہ مثا ل نے ساتھیو ں میں ایسا جوش پید اکردیا کہ وہ ہر خطرے سے بے پرواہوکر شہرکے اندر داخل ہوگئے اور اسے فتح کر ایا ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -