اسلام ۔۔۔ امن و سلامتی کا دین!

اسلام ۔۔۔ امن و سلامتی کا دین!

  

حقیقت ہے کہ امن و امان کی اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی اور کوئی بھی عقلمند انسان یہ باور نہیں کر سکتا کہ کوئی ملک یا قوم امن و امان کے بغیر بھی ترقی کر سکتی ہے۔

امن و سلامتی کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ سیدنا ابراہیم نے سرزمین حجاز میں اپنے اکلوتے لخت جگر سیدنا اسماعیل اور ان کی والدہ کو لا بسایا تو اس وادی غیر ذِی زَرع میں ان کے لیے اپنے رب سے جو کچھ مانگا ان میں سب سے پہلے یہ عرض کیا:

(رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا) (البقرۃ: 2/126)

’’اے پروردگار! اس کو امن والا شہر بنا دے۔‘‘

کیونکہ امن نہ ہو تو سامان عیش و عشرت بھی بیکار اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔ چار دیواری کے اندر بھی زندگی بے کیف گزرتی ہے اور ہر دوسری گھڑی مشکلات و مصائب کا تصور لیے کھڑی ہوتی ہے، حتیٰ کہ عبادت و بندگی کا لطف بھی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمؐ نے مدینہ طیبہ تشریف لے جانے کے بعد مدینہ کے یہودی قبائل اور مسلمانوں کے مابین ایک معاہدہ تشکیل دیا جو تاریخ کے اوراق میں ’’میثاق مدینہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تا کہ پوری انسانیت امن و سلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور ہو‘ بلکہ امن و سلامتی کے دائرے کو مزید وسعت دینے کے لیے نبی کریمؐ نے آئندہ دوسرے قبائل سے بھی اسی نوعیت کے معاہدے کیے اور یہی طرز عمل خلفائے راشدین کے دور میں بھی اختیار کیا گیا۔

امن وسلامتی کی اس اہمیت کی بنا پر ہر دور میں یہ کوشش رہی کہ انسان باہم شیر و شکر رہیں۔ انہیں امن و امان کی نعمت نصیب رہے۔ اس آخری دور میں تو عالمی سطح پر ادارے قائم کیے گئے، مگر دنیا نے دیکھا کہ ان تمام تر کوششوں کے باوجود دکھی انسانیت کو امن و سلامتی نصیب نہ ہوئی۔ امن و تہذیب کے دعویداروں نے اس کے پرخچے فضاؤں میں اڑائے اور آج بھی اڑا رہے ہیں۔ بلکہ قیام امن کے نام پر جس ملک پر چاہتے ہیں چڑھ دوڑتے ہیں۔

آج پوری دنیا (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس) کی زندہ تصویر ہے۔ یہ آیت مبارکہ سورۂ روم میں ہے جس میں روم و ایران کے مابین بھڑکنے والی جنگ کے انجام اور اس کے نتیجہ کو بیان کیا گیا ہے کہ بر و بحر میں ہر سو فساد برپا ہو گیا ہے، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور یہ فساد (بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس) اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی کرتوتوں کے نتیجہ میں ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک، معصیت و نافرمانی، فسق و فجور، ظلم و بربریت ہے۔ غیر دینی اور غیر اسلامی نظام کی اتباع میں اعتقادی، اخلاقی اور عملی ابتری میں مبتلا ہونا ایک بدیہی بات ہے، جس طرح گذشتہ دور میں پورے معاشرے میں بلکہ پوری انسانیت کو اس دنگا و فساد اور ظلم و ستم سے بچانے کے لیے اسلام کے نظام امن کو پیش کیا گیا۔ پھر انسانوں نے بچشم خود دیکھا کہ اس نظام کو اختیار کر کے انسانوں کو ہی امن و سلامتی نصیب نہ ہوئی بلکہ جانور اور حیوان بھی اس سے فیضیاب ہوئے۔

اسلام ظلم و ستم سے بھری ہوئی دھرتی پر ابر کرم بن کر برسا۔ ظلم و ستم کے کانٹوں میں عدل و انصاف کے پھول کھلے، بدی اور بے حیائی کے اخلاق سوز شراروں میں نیکی اور شرافت کی کرنیں ابھریں، کفر و شرک کی جگہ ایمان و توحید کا نور پھوٹا اور شر و فساد کے طوفان بدتمیزی میں امن و سلامتی کا ظہور ہوا۔ آج بھی ضرورت ہے کہ امن و امان کے نام پر وجود میں آنے والی عالمی تنظیموں کی تمام تر ناکامیوں کے بعد اسلام کے نظام امن کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، جو نسلی و وطنی منافرت ختم کر کے پوری دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا دے۔

اسلام مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور پوری دنیا کے لیے بالعموم امن و سلامتی کا پیغام ہے۔ ہادی برحق سید الاولین والآخرین محمد مصطفی احمد مجتبیٰؐ نے فرمایا ہے:

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِن لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘

مسلمان کو ’’مومن‘‘ بھی اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ امن پسند ہے۔ یہ لفظ اَمِنَ سے ماخوذ ہے جو متعدی اور لازم دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ متعدی کے معنی میں ’’امن دینے‘‘ کے ہیں جب کہ لازم میں ’’پرامن‘‘ ہونے کے ہیں۔ گویا مومن خود بھی پر امن رہتا ہے اور امن کا علمبردار ہوتا ہے۔ رسول اللہؐ نے یہ بھی فرمایا ہے:

[اَلْمُؤْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ النَّاسُ بَوَاءِقَہٗ]

(مسند احمد، عن انسؓ)

’’مومن وہ ہے جس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں۔‘‘

اسلام بلاوجہ ایک انسان کا قتل، ایک انسان ہی کا نہیں، پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا)

’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا۔‘‘

اس آیت میں مقصود قاتل کی فطرت کا اظہار ہے کہ جو ظالم ایک انسان کو ناحق قتل کرتا ہے اس سے کسی خیر اور بھلائی کی کوئی توقع نہیں، اس کا دل انسانیت کے احترام سے خالی ہے، اس کی اس جسارت سے کچھ بعید نہیں کہ ہو سکے تو وہ سارے انسانوں کو تہ تیغ کر کے رکھ دے۔ اس کے برعکس فرمایا: ’’جو شخص فرد واحد کی جان بچائے اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔‘‘ یہ شخص انسانیت کا حامی ہے اور اس کے دل میں رحم و کرم کی ایسی صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کی بقا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ امیرالمومنین سیدنا عثمان کے خلاف جب بلوائیوں نے بدتمیزی اور بیہودگی کا مظاہرہ کیا اور ان کو شہید کر دینے کے درپے ہوئے تو سیدنا ابوہریرہt نے ان کے مقابلے کی اجازت چاہی تب انہوں نے فرمایا:

’’اے ابوہریرہؓ! کیا تمہیںیہ پسند ہے کہ تمام لوگوں کو بشمول میرے قتل کر دو۔‘‘

تو سیدنا ابوہریرہؓ نے عرض کیا: ’’بالکل نہیں۔‘‘ حضرت عثمانؓ نے فرمایا:

’’واپس پلٹ جاؤ‘ اگر تم ایک شخص کو قتل کرو گے تو گویا تم نے سب انسانوں کو قتل کیا۔‘‘

کسی کو قتل کرنا تو کجا رہا قتل میں معمولی سی معاونت بھی حرام ہے۔ چنانچہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’جو شخص کسی مسلمان کو قتل میں مدد کرے خواہ آدھے کلمے ہی سے کیوں نہ ہو تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہو گا کہ یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔‘‘

بلکہ اس سے بھی آگے دیکھیے رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’کسی مسلمان کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ مسلمان بھائی کو ڈرائے اور اسے خوف زدہ کرے۔‘‘(ابوداود)

صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’جو کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے، اس پر اللہ کے فرشتے لعنت کرتے ہیں تا آنکہ وہ اس سے باز آجائے۔‘‘ (مسلم)

اسی طرح جذبۂ قتل اور ارادہ قتل کے بارے میں اسلام کے احساسات کس قدر نازک ہیں، اس کا اندازہ لگائیے کہ ایک بار حضورؐ نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم مقابلے کے لیے نکلیں اور ان میں سے ایک مارا جائے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔‘‘ آپؐ سے پوچھا گیا: ’’قاتل تو اپنے جرم کی سزا میں جہنم میں جائے گا مگر مقتول کیونکر جہنم میں جائے گا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا:

’’وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا خواہش مند تھا۔‘‘

یعنی ارادہ دونوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنے کا تھا۔ اس لیے دونوں جہنم میں جائیں گے، اگرچہ ایک کے حملے اور ضرب کاری سے وہ مارا گیا اور دوسرا بچ نکلا۔

غور فرمائیے کہ جو اسلام کسی انسان کو قتل کرنا تو کجا اسے ارادہ قتل سے بھی منع کرتا ہے، کسی کو ڈرانے دھمکانے کی اجازت نہیں دیتا، وہ قتل گری اور دنگا فساد کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے؟ اسلام نے تو ناحق جانوروں کو قتل کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اسی بنا پر علامہ ابن العربی بھی فرماتے ہیں:

’’جب جانوروں کو ناحق مارنے کی ممانعت اور اس سلسلے میں وعید ثابت ہے تو پھر سوچیے کہ انسان کے ناحق قتل کرنے کی کتنی مذمت ہو گی اور اس سے بڑھ کر ایک مسلمان کو قتل کرنے اور اس سے بڑھ کر متقی اور نیکوکار کے قتل کی وعید کیا ہوگی؟‘‘(فتح الباری)

بلکہ اسلام کے علاوہ آج دنیا میں جتنے نظام حیات پائے جاتے ہیں ان سب میں انسانی جان کا احترام انسان کے عالم وجود میں آنے کے بعد ہے۔ مگر اسلام میں انسانی جان کا احترام اس وقت سے ہے جب وہ شکم مادر میں ہوتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اس کے جسد خاکی کے احترام کی تاکید کرتا ہے۔ جس سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام جس قدر انسان اور انسانیت کا محافظ ہے دنیا کا کوئی اور مذہب اور قانون اس کا محافظ و نگہبان نہیں۔

مگر افسوس! کہ آج مغرب اپنے میڈیا کے بل بوتے پر بڑے شد و مد اور پوری ڈھٹائی سے یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ اسلام انتہا پسندی، دہشت گردی اور قتل و قتال کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہادی برحق حضرت محمدؐ نے توفرمایا ہے:

’’دشمن سے جنگ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت یعنی بچاؤ کا سوال کرو۔‘‘

بتلائیے! جس دین نے دشمن کا آمنا سامنا کرنے کی خواہش تک کو روک دیا ہو، اس کے بارے میں یہ کتنا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے کہ اسلام قتل گری کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام نے بلاریب جہاد کا حکم دیا ہے اور اس حکم کے بارے میں عذر و معذرت کی ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اسلام غیر مبہم انداز میں کہتا ہے کہ ہر ظالم، جابر اور سفاک کے خلاف اقدام کرنا انسانی فریضہ ہے۔ اس کے بغیر امن و سلامتی قائم نہیں رہ سکتی۔ بتلائیے جہاں مظلوموں کی جان بخشی کے لیے گفت و شنید اور اخلاقی دباؤ کی چارہ گری ناکام ہو جائے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے مسلسل ظلم و بربریت کا شکار ہوں ان کی مدد کرنا اور انہیں پنجہ استبداد سے چھڑانے کے لیے عملی جدوجہد کرنا دہشت گردی ہے تو ایسے الزام کو قبول کرنے میں ہمیں کوئی حجاب مانع نہیں۔ اسلام بلاسبب کسی مسلمان کو مذہب کے نام پر خون بہانے اور قتل و قتال کا قطعاً حکم نہیں دیتا۔ جہاد سے اسلام کا مقصد غیر مسلم کو قتل کرنا یا صفحۂ ہستی سے انہیں نیست و نابود کر دینا نہیں۔ وہ اپنی کشور کشائی کے لیے قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ جب چاہو اور جہاں چاہو اس کو ’’تورا بورا‘‘ بنا دو، بلکہ جہاد سے اسلام کا مقصد امن و سلامتی اور عدل و انصاف کا قیام ہے۔ جہاد کا معنیٰ اگر قوت و طاقت سے کسی کو مسلمان بنانا ہوتا یا غیر مسلموں کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہوتا تو اسلام ذمی اور معاہد کے حقوق کا ذکر ہی نہ کرتا‘ اور تو اور اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی قطعاً اجازت نہ دیتا۔

ایک معمولی عقل و فکر رکھنے والا انسان بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ اسلام جب اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی اجازت دیتا ہے تو وہ گویا انہیں اپنے گھر اور اپنے معاشرے میں ایک قابل احترام بیوی کا مقام دیتا ہے۔ اب انہی اہل کتاب کے بارے میں بھلا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ جہاں کہیں ہوں انہیں قتل کر دو، تہس نہس کر دو اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹادو۔۔۔؟!

غور کیجیے کہ دہشت گردی کیا ہے؟ یہی نا کہ انسانوں کو بلا سبب مار کر افراتفری اور دہشت پھیلانا اور کاروبار زندگی مفلوج و معطل کر دینا دہشت گردی ہے۔ اس تعریف پر اگر آج کوئی پورا اترتا ہے تو وہ امریکہ اور اس کے حواری ہنود و یہود ہیں، جو خود ہی مدعی‘ خود ہی منصف اور خود ہی حاکم کا کردار ادا کر کے عالم اسلام کے بالخصوص اور پوری دنیا کے امن و امان کو بالعموم برباد کر رہے ہیں۔ جنگ عظیم کے بعد سے اب تک امریکہ بیس سے زائد ملکوں میں فوجی مداخلت کر کے لاکھوں معصوم شہریوں کا خون بہا چکا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے جہاں چاہتا ہے ظلم و تشدد کا مظاہرہ کرتا ہے اور انہیں پتھر کے زمانہ میں دھکیل دینے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ وہ ملک ویت نام ہو، کوریا ہو، بوسنیا ہو، لبنان ہو، سوڈان ہو، انڈونیشیا ہو، افغانستان ہو، عراق ہو، سعودیہ ہو یا کہ پاکستان۔

مزید :

ایڈیشن 2 -