شوریٰ ہمدرد کا اجلاس،پاکستان میں عوام کے حقوق اور حکومت کی ذمہ داریاں‘ کا موضوع زیر بحث

شوریٰ ہمدرد کا اجلاس،پاکستان میں عوام کے حقوق اور حکومت کی ذمہ داریاں‘ کا ...

  

لاہور(پ ر)پاکستان میں صحت عامہ کے مسائل کا جائزلیا جائے تو عوام الناس کے حوالے سے عدم آگاہی اور حکومتی حوالے سے عدم توجہی ہمیں صاف نظر آتی ہے ۔سادہ اور صحت بخش خوراک لیے جانے سے متعلق عام پاکستانی نہ صرف غیر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں بلکہ اُن میں شعوروآگہی کا فقدان بھی نظر آتا ہے ۔ ہسپتال میں بیڈز کی کمی اورہسپتالوں کی دگرگوں صورتحال کی بنیادی وجہ بجٹ کی کمی اور پروفیشن کے لحاظ سے غیر متعلقہ افراد کی تعیناتی ،بلا وجہ یونیورسٹیاں بنانا،PMDCکی رجسٹریشن کے مسائل جن کی وجہ سے ڈاکٹرز کا باہر جانا ،انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ ہونا،پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا معیاریہ سب وہ مسائل ہے جن کا حل ہونا لازم ملزوم ہے ،بصورت دیگر ہمیں آنے والے وقت میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار گذشہ روز شوریٰ ہمدرد کے اجلاس میں’’پاکستان میں صحت کے مسائل عوام کے حقوق اور حکومت کی ذمہ داریاں‘ کے موضوع پر مقررین نے کیا ۔

مقررین میں صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری ،پروفیسر ڈاکٹر اجمل حسن نقوی،ڈاکٹر طلحہ شیروانی،ڈاکٹر عظمت الرحمن ،بشریٰ رحمن ،ابصار عبدالعلی،ثمر جمیل خان ، میجر (ر)صدیق ریحان، خالدہ جمیل چوہدری ،شعیب مرزا ،پروفیسر نصیر اے چوہدری ودیگر شامل تھے۔ مقررین نے مزید کہا کہ قوم سے وعدے کر کے اور سنہرے خواب دِکھا کرووٹ لینا تو یاد رہتا ہے لیکن اُن کے مسائل حل کرنا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ملاوٹ شدہ اور زہریلی اشیائے خوردونوش کی پورے ملک میں بلاخوف و خطر فروخت جاری ہے ۔سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال یہ ہے کہ بعض نجی ہسپتالوں کے علاوہ بیشتر میڈیکل اسٹور پر زائد المعیاد اور جعلی ادویہ کی فراہمی کی شکایات بھی عام ہیں۔ضروری ہے کہ اس ضمن میں سول سوسائٹی ،محب وطن این جی اوز اور ذرائع ابلاغ اپنا مثبت اور مسلسل کردار ادا کریں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -