تھانوں میں مقدمات کا غلط اندراج ، پولیس جرائم کے اعداد و شمار چھپانے میں مصروف

تھانوں میں مقدمات کا غلط اندراج ، پولیس جرائم کے اعداد و شمار چھپانے میں ...

  

لاہور (شعیب بھٹی ) اربوں روپے کے فنڈزحا صل کرنے کے باوجود پنجاب پولیس امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق پو لیس اعدا د وشما ر کے مطا بق پنجا ب بھر میں رواں برس کے 7ما ہ کے دوران اغوا برائے تاوان کے 8ہزا ر 240واقعا ت ر جسٹرڈ ہو ئے، ذرائع کے مطابق اغواء برائے تاوان سمیت بہت سے مقدمات کا ایسے ہیں جن کا اندراج نہیں کیا جاتاکیوں کہ پولیس سائلین کو بہلا پھسلا کر مطمئن کر دیتی ہے جس کے باعث مقدمات کا اندراج ممکن نہیں ہوتا ،یہی وجہ ہے کہ جرائم کے اصل اعدادو شمار سامنے نہیں آتے ۔ صوبے بھر میں قتل ، ڈ کیتی قتل،چوری سمیت دیگر سنگین جرائم کی واردتیں معمول بن چکی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ عرص قبل نئے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر)عارف نواز خان کوتعینات کیا گیاہے تاہم ان کی جانب سے بھی تاحال سنگین جرائم کو روکنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی گئی ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں ہونے والے جرائم کے واقعات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں واقع ہوسکی ہے ۔پنجا ب پو لیس کے اعدا د وشما ر کے مطا بق رواں سال کے 7ما ہ کے دوران پنجا ب بھر میں بچو ں ، خواتین ، نوجوان اور کم عمر لڑ کیو ں کے اغوا کے 8ہزا ر 2سو 9مقد ما ت در ج ہو ئے ہیں جبکہ اغواء برا ئے تاوان کے 24مقد مات در ج کئے گئے ہیں۔ پو لیس کے مطا بق اغوا کے 2ہزا ر 4سو 63مقد ما ت کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ 19سو مقد ما ت کی تفتیش جا ر ی ہے ، اغوا کے 66 مقدمات ٹر یس نہیں ہو سکے ۔ 37سو80مقد ما ت خارج ہو چکے ہیں ۔ 3روز قبل گوجرانوالہ کے تھانہ صدر کے علاقہ تلونڈی موسی خان سے 7سالہ عبد اللہ کو نا معلوم افرا د نے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اسے اغواء کرنے کے بعد30لا کھ رو پے تاوان کا مطا لبہ کیاتھالیکن پولیس بچے کی بازیابی نہ کرواسکی ،بعدازاں ملزموں نے بچے کو قتل کرکے اس کی نعش کھیتوں میں پھینک دی تھی ۔واضح رہے کہ کیپٹن (ر) عارف نواز خان جیسے قابل پولیس افسر کے بطور سربراہ پنجاب پولیس تعیناتی کے بعد بھی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ پولیس کی کارکردگی دن بدن مزیدبدتر ہوتی جا رہی ہے جو کہ حکام بالا کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

مزید :

علاقائی -