عوا م ٹی وی چینلوں کے خلاف تیار ہیں؟

عوا م ٹی وی چینلوں کے خلاف تیار ہیں؟

  

نوے کی دہائی میں ہمیںآصف زرداری سے نفرت تھی ، 2001ء سے 2010ء کے دوران جنرل مشرف سے ہوگئی اور جوں جوں 2017ء اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے لگتا ہے کہ نواز شریف سے ہو جائے گی ۔۔ یہی نہیں اگر معاملات کی نہج یہی رہی تو 2025ء کے بعد عمران خان سے بھی ہو جائے گی۔ اپنی سیاسی لیڈرشپ سے محبت ہمارے اندر سے پھوٹتی ہے لیکن ان سے نفرت کا ؤائرس باہر سے سسٹم میں داخل ہوتا ہے ۔

ایک طرف پوری قوم کوباور کروایا جا رہاہے کہ زرداری صاحب اتنے پاک پوتر ہیں ان میں ایک ولی اللہ کی صفات ڈھونڈی جا سکتی ہیں تو دوسری طرف نواز شریف اور ان کے خاندان کو چور ، ڈاکو، قاتل اور لٹیرا ایسے ثابت کیا جارہا ہے کہ لگتا ہے کہ اگر نیب نے انہیں سزا دینے میں تاخیر کی تو پاکستانی قوم خود کسی روز چوراہے میں شریفوں میں سے کسی ایک کو دھرلے گی ۔شریف فیملی سے نفرت کا وائرس ٹی وی چینلوں کے راستے عوام کے ذہنوں میں اسی طرح داخل ہو چکا ہے جس طرح کبھی زرداری صاحب کے خلاف ہوا تھا!

پیپلز پارٹی والے جانتے تھے کہ ٹی وی چینل نواز شریف سے نفرت کا وائرس سسٹم میں داخل کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خاموش رہے اور اسے بنو امیہ اور بنو ہاشم کی لڑائی سمجھ کر لڑتے رہے ، حتیٰ کہ ووٹ کی پرچی پھاڑ کر نواز شریف کے ہاتھ میں پکڑادی گئی اور وہ جی ٹی روڈ پر ان کے خلاف واویلا کرتے جاتی عمرہ آگئے جنھیں سینیٹر پرویز رشید نے مشرف کی بدروحیں کہا ہے!

2014ء میں 31اگست کی رات دل دہلا دینے والی رات تھی ۔ تب ہم نواز شریف کے ساتھ تھے ، انہیں اس ملک کا سب سے بڑا دماغ سمجھتے ہیں اور 2017ء میں 31اگست کی رات آنے سے پہلے ہمیں اپنی دماغی صحت پر شک ہو رہا ہے کہ ہم بھی کسے کیا سمجھتے رہے جو ایک دفعہ بھی ثابت نہ کر سکا کہ میاں شریف نے قطر میں واقعی سرمایہ کاری کی تھی۔

پانامہ سکینڈل اپریل 2016ء میں آیا تھا ، اس سے قبل جنوری ، فروری کے مہینوں میں حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو ز میں پراعتماد طریقے سے بتایا تھا کہ ان کے پاس سارے ثبوت ہیں لیکن یہ ثبوت وہ میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی بجائے کسی مناسب عدالتی فورم پر ہی پیش کریں گے ۔ میڈیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش نہ کرنے کی سزا انہوں نے ملک کے سب سے بڑے عدالتی فورم سے پالی ۔ تب انہیں میڈیا کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا ، لیکن سپریم کورٹ سے والد صاحب کو نااہل کروا کر خوب ہوگیا ہوگا !

اب اگلی باری پھر زرداری کی لگتی ہے لیکن اس سے اگلی باری قوم پر بھاری بھی پڑ سکتی ہے کیونکہ 2014ء کے دھرنے کے دوران جب آصف زرداری امریکہ گئے تھے تو کسی نے ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا سے سوال کیا تھا کہ اس موقع پر وہ امریکہ کیوں گئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ امریکہ کو یاد کروانے گئے ہیں کہ جنرل کیانی کے ساتھ ہونے والے این آراو میں طے ہوا تھا کہ تین جمہوری حکومتوں سے پہلے پاکستان میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔ اگرچہ قمر زمان کائرہ نے تب ان کے اس بیان کو پارٹی کا بیان ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے شہلا رضا کی ذاتی رائے قرار دیا تھا ۔

2017ء میں جس طرح نواز شریف کو گھر بھیجا گیا ہے اور اس سے قبل یوسف رضا گیلانی کو جس طرح بھیجا گیا تھا جب کہ زرداری کو جس طرح ناکوں چنے چبوائے گئے تھے ، ان تینوں کے ابتلا میں ایک بات مشترکہ نظر آتی ہے کہ ٹی وی چینل ان تینوں کے خلاف کھڑے تھے ، خبر دینے کی بجائے ان کی خبر لے رہے تھے ، معلومات بہم پہنچانے کے بجائے پراپیگنڈہ مشین بنے ہوئے تھے ، تبھی تو حسین نواز نے میڈیا پر اپنا مقدمہ پیش نہیں کیا، اپنے کاغذات شو نہیں کروائے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں معاملہ عدالت میں جانے سے پہلے ہی نہ بگڑ جائے ۔ دیکھا جائے تو شریف فیملی کی یہ حکمت عملی درست تھی ، ممکن ہے وہ معاملے کو نیب میں اور بھی طول دے لیتے اگر اقامہ نہ نکل آتا !

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے گزشتہ روز عوام سے اپیل کی ہے وہ منفی پراپیگنڈے کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ ان کی پریس کانفرنس چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ پاکستان میں ہر حکومت کی اپوزیشن ٹی وی چینل ہیں ، کیا عوام ٹی وی چینلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو تیا ر ہیں؟

مزید :

کالم -