دس برس بعد

دس برس بعد

  

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کے تقریبا دس برس بعد ان کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔سزاوں پر بعد میں بات کریں گے مگر جس نظام عدل میں ایک سابق وزیراعظم کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ دس برس بعد سنایا جائے میرا خیال ہے کہ اس میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے ،اس نظام میں بہت ساروں کی موت کے بعد سزا اور رہائی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس مقدمے میں دو قسم کے ملزم ( یا مجرم) تھے ( یا ہیں)، ایک وہ جن کا تعلق حکومت اور انتظامیہ سے تھا ، ان پر اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی ہی نہیں بلکہ سازش میں مدد گار ہونے اور دھمکیاں دینے تک کے الزامات تھے جو ثابت ہو ئے۔دوسرے وہ جو براہ راست قتل کی منصوبہ بندی اور واردات میں ملوث تھے۔

پہلے ہم ان لوگوں کی بات کر لیتے ہیں جو براہ راست منصوبہ بندی اور واردات میں ملوث تھے اور سیاست کے طالب علم کی نظر میں وہ محض مہرے تھے۔ ایک مہرہ سعید عرف بلال تھا جس نے پہلے بے نظیر بھٹو کی گاڑی کے قریب گولی چلائی اور پھر خود کو بم سے اڑا لیا مگر تحقیق و تفتیش کرنے والے پوری طرح قائل ہیں کہ اس قتل کے لئے ایک نہیں بلکہ دو حملہ آور بھیجے گئے تھے، دوسرے کا نام اکرام اللہ محسود تھا مگر اس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مرچکا ہے۔ اکرام اللہ محسود ان پانچ ملزمان میں شامل نہیں جن پر براہ راست ملوث ہونے کا الزام تھا مگر وہ بری ہو گئے ہیں، ان کے نام اعتزاز شاہ، شیر زمان، حسین گل، محمد رفاقت ا ور رشید احمد ہیں،یہ سب جیل میں قید تھے مگر اب ان کی رہائی کا راستہ نکل آیا ہے۔ اکرام اللہ محسود کا نام ان سات ملزمان میں شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں ۔ ان میں بیت اللہ محسود،عبادالرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام، فیض محمد،نصر اللہ عرف احمد اور نادر عرف قاری اسماعیل شامل ہیں۔ یہ واقعہ 27دسمبر 2007 کو ہوا تھا اور اس کو پونے دس برس ہونے کو آ رہے ہیں۔ اس مقدمے کو سننے والوں میں آٹھ مختلف جج شامل رہے ہیں ، پنجاب پولیس ہی نہیں بلکہ ایف آئی اے ، سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ تک سے اس کی تحقیقات کروائی گئی ہیں۔ آج پونے دس برس کے بعد بھی اس مقدمے کا ابھی پہلی عدالت میں فیصلہ ہوا ہے۔ ابھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرنے کا حق باقی ہے۔ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوجائے تو صدر مملکت سے بھی رحم کی اپیل کی جا سکتی ہے۔ میں قانون کا طالب علم ہوتا تو اس سزا کا مطالعہ میرے لئے بہت دلچسپ ہوتا جس میں براہ راست ذمہ دار تمام زندہ ملزمان بری ہو گئے ہیں ۔

سیاسیات کے طالب علم کے طور پر مقدمے کے دوسرے ملزمان ( یا مجرمان ) میری نظر میں زیادہ اہم ہیں۔ اس وقت راولپنڈی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز نے وہ ماحول بنایا تھا جس میں بے نظیر بھٹو کا قتل ممکن ہوا تھا۔ اسی روز کرال چوک میں مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے انتخابی جلسے پر فائرنگ ہوئی تھی اور اس میں چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ سعود عزیز نے ان چھتیس اہلکاروں کو پولیس افسر اشفاق انور کی قیادت میں کرال چوک پہنچنے کا حکم دیا تھا جن کی ذمہ داری محترمہ بے نظیر بھٹو کو گھر سے جلسہ گاہ لانے اور لے جانے کی تھی اور وہ کرال چوک پنجاب کی بجائے اسلام آباد کی حدود میں تھا۔ آپ سوچتے رہیں کہ وہ فائرنگ بھی ایک بڑی سازش کا حصہ تو نہیں تھی۔ اشفاق انور نے اقبالی بیان دے دیا تھا اور یہ بھی سعود عزیز ہی تھے جنہوں نے ڈاکٹر مصدق کو بے نظیر بھٹو کا پوسٹمارٹم کرنے سے روکا تھا اور جائے حادثہ کو بھی دھلوا دیا تھا جس سے شواہد اور ثبوتوں کے حصول میں ایک رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔سترہ برس قید اور جرمانے کی سزا پانے والے سعود عزیز کی محض مجرمانہ غفلت نہیں تھی بلکہ یہ ایک مجرمانہ کردار تھا ۔ تلاش اور ثابت کیا جا سکتا ہے کہ یہ کردار بہت سارے دوسرے کرداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہو گا۔ سعود عزیز کے ساتھ ایس پی خرم شہزاد کو بھی مجرموں کا سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔

اس مقدمے کا ایک ملزم ( یا مجرم) پرویز مشرف بھی ہے جس نے ہمارے آئین کو بھی قتل کیا اور بار بار کیا۔ اسے اشتہاری قرار دیا گیا ہے مگر وہ اشتہاری ایسا ہے جو اپنے اشتہاری ہونے کی کہانی مختلف ٹی وی پروگراموں میں سنا چکا ہے ۔ میں ابھی دو، تین روز قبل سینئر صحافی جناب سعید آسی کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ میں تھا جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی اور ان کے لئے خدمات سرانجام دینے والے منور انجم بھی موجود تھے۔منور انجم کہہ رہے تھے کہ اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آج پاکستان کا سیاسی منظر نامہ یہ نہ ہوتا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بڑی سیاسی فراست کی مالک تھیں۔ مجھے میثاق جمہوریت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے این آر او کیے جانے پر سخت اعتراض تھا۔ میں سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ محترمہ نے ایک آمر سے رعایت لے کر بہت بڑی زیادتی کی مگر ایک دوست نے ایک نیا نکتہ دیا۔اس نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سیاستدانوں کو پکڑتی، مروڑتی ، بھنبھوڑتی اور کچلتی ہے اور ایسے میں اگر بے نظیر بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کے ایک کم آئی کیو لیول کے حکمران کو چکمہ دے دیا تو کیا برا کیا کہ یقینی طور پر جب بے نظیر بھٹو وطن واپس پہنچیں تو ان کا لہجہ اور رویہ بدلا ہوا تھا،اس امر سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک جمہوری سیاستدان تھیں اور جمہوری روئیوں سے دور نہیں رہ سکتی تھیں۔اسی این آر او نے محترمہ بے نظیر بھٹو ہی نہیں بلکہ میاں محمد نواز شریف کی صورت عوام کو حقیقی نمائندہ سیاسی قیادت کے واپس آنے کی راہ ہموارکی تھی۔ یہاں یہ تاریخی کہانی دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے، ایک آمر نے ایک سیاستدان کو ملک میںآنے کا راستہ دینے کی مہربانی کی، اس سیاستدان نے رویہ بدل لیا، آمر نے دھمکی دی اور سیاستدان نے قتل کا خدشہ بھی ظاہر کر دیا، آمر سے براہ راست رابطے میں رہنے والے پولیس افسران نے مجرمانہ کردار ادا کیا اور پھراس کے بعد یکے بعد دیگرے مرکزی ملزمان مارے جاتے رہے، جو زندہ بچے وہ اب رہا ہو گئے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ محض دو پولیس افسران کو قید اور جرمانے کی سزا سنانے سے انصاف ہی نہیں بلکہ تاریخ کے تقاضے بھی پورے ہو گئے ہیں یا نہیں اور ابھی ان کے پاس بھی بریت کے لئے مزید کئی مواقع موجود ہیں۔ دس برس تھوڑا عرصہ نہیں ہوتا مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم اب بھی وہاں ہی کھڑے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف پر بے نظیر بھٹوکو دھمکیاں دینے کا الزام تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے سیاستدانوں پر بھی شبہ ظاہر کیا تھا کہ وہ انہیں قتل کروا سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ ہیں اور میں اپنے طور پر کسی بھی شخصیت پر کوئی الزام نہیں لگا رہا۔میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ قتل کے دس برس بعد بھی ہمیں یہی کہنے اور لکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں محاذ آرائی میں نہیں جانا چاہئے۔ پرویز مشر ف کو آئین کے ساتھ ساتھ اکبر بگتی اور بے نظیر بھٹو کے قتلوں اورلال مسجد کے کیس میں بھی سزا سنا دی جائے توکبر بگتی اور بے نظیر بھٹو سمیت لال مسجد کے شہدا زندہ ہوجائیں گے، ہاں، آئین جیسی بے چاری شے کو ضرور تقویت مل سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ آئین کو کون مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔ مجھے وہ لوگ ہی دانشور لگ رہے ہیں جو آگے بڑھنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ یوں بھی اس وقت تاثر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو سائیڈ لائن پر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ عمران خان نے بہت سارے موقعوں پر بہت زیادہ شرمندہ کیا ہے۔ ایسے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پرویزمشرف کو مرکزی ملزم کے طور پر اشتہاری قراراور اس کی جائیداد قرق کرنے کے احکام جاری کرکے ان لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے جو اس وقت نئی محبتوں کے مزے چکھ رہے ہیں۔ اس تحریر کو مکمل کرتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ چودھری شجاعت حسین درست ہی کہا کرتے تھے کہ ’مٹی پاو‘، آج ہم نے ایک اور وزیراعظم کے قتل کے مقدمے پر بڑی مہارت اور صفائی کے ساتھ مٹی ڈال دی ہے

مزید :

کالم -