بی بی ایک بار پھر قتل ہوگئی

بی بی ایک بار پھر قتل ہوگئی

  

افسوس بے نظیر ایک بار پھر قتل ہوگئی

ایک بار پھر قاتل صاف بچ گئے

دس سال قوم انتظار کرتی رہی

اور نتیجہ

نتیجہ دو پولیس افسروں کو سزا

کوئی پوچھے کیا یہ ہمارا تفتیشی نظام

سکاٹ لینڈ یارڈ، اقوام متحدہ سب کی محنت کا نچوڑ

پانچ بندے پکڑے

پانچوں باعزت رہا ہوگئے

میرا پُرسا ایک بار پھر

بلاول سے آصفہ سے بختاور سے

ان کی بے بسی پر میں تکلیف میں ہوں

وہ کس کے ہاتھ پر اپنی ماں کا لہو تلاش کریں

خود اپنے پانچ سال میں اپنی حکومت میں وہ اپنی

ماں کو انصاف نہ دلا سکیں۔

جس کو ملزم گردانا

اسے پروٹوکول دینا پڑ گیا

گارڈ آف آنر پیش کرنا پڑ گیا

بی بی شہید نے اپنے آخری خط میں اپنے قتل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، نام بتائے

پیپلز پارٹی نے قطع تعلق کے بجائے انہیں اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔

آصفہ بختاور

جس نظام میں آپکی ماں کو انصاف نہ مل سکے

جس نظام میں دھڑلے سے چاروں صوبوں کی زنجیر کو توڑ دیا جائے۔

جس نظام میں عالمِ اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم کو مار دیا جائے۔

اس نظام کے چلانے والے اگر کوئی اور نہیں خود مقتول کے اپنے ہوں اور اس نظام سے انصاف نہ ملے

تو

میں آصفہ کے آنسو صاف کروں یا بختاور کو دلاسہ دوں

ڈر جاتا ہوں، کانپ اٹھتا ہوں

ایسے نظام میں کچے گھروں ، کمزور مکانوں میں رہنے والی لاکھوں بے نظیروں کو کون انصاف دلائے گا، امان ملے گی۔

میرے مرشد مجیب الرحمان شامی صاحب مجھے نصیحت کرتے ہیں مایوسی کفر ہے، وہ ہمیشہ ہدایت کرتے ہیں امید کا روشن دان، یقین کی کھڑکی بند نہیں کرنی چاہئے۔

سر! آپ ہی بتائیں ایسے فیصلوں سے کھڑکیاں کھلیں گی، یا بند ہونگی؟ کوئی کبھی ایک اچھی خبر تو ہمیں بھی ملنی چاہئے، اتنا تو ہمارا حق رہنا چاہئے، مجھے یقین ہے اچھی خبر ملے گی ضرور ملے گی۔

مریم بی بی درست کہتی ہیں آج انصاف خود انصاف مانگتا پھر رہا ہے ا ور دکھ یہ ہے کہ انصاف صرف کے پی کے میں ہی نہیں پنجاب سندھ بلوچستان کشمیر میں بھی بے امان ہے۔

کیا بنے گا لاکھوں بے نظیروں، مریموں کا نہ جن کے سر پر بھٹو لیگسی ہے نہ ان کے سر پر نواز شریف ہیں، وہ جو روز چودھریوں وڈیروں کے ڈیروں، طاقتوروں کے ڈرائینگ روموں اور وحشی غولوں سے بھری دو پائیوں کی موجودگی میں بے اسرا ہوتی ہیں۔

جس نظام میں اسکے طاقتور خالقوں کیلئے امان نہیں، اس میں ان بے بسوں کا کون حامی و ناصر ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ہاتھوں میں کئی بار اقتدار آیا۔ کاش وہ ایسا نظام بنا پاتے جس میں جمہور اتنا طاقتور ہوتا کہ کسی کو منتخب وزیراعظم کو کچلنے اور نگلنے کی ہمت نہ ہوتی، لیکن نجانے کیوں ہمیں انقلاب، مضبوط جمہوریت اقتدار سے نکلنے کے بعد یاد آتے ہیں۔

بی بی جا چکی

اب اس نے واپس آنا ہے نہ اسکی فلاسفی نے

عاشق اور سودائی کا فرق مٹ نہیں سکتا

خون دینے والے جاچکے

اب صرف دودھ پینے والے ہیں

یا قبروں کی مٹی کے وہ مجاور

جنکا یہ سودا بھی پرانا ہوچکا

لیاقت علی خان شہید سے لیکر محترمہ شہید تک، بس اندھیرا ہی اندھیرا ہے جیسے موت کے منحوس ہاتھ ہر سنہری لمحے کو نوچنے کیلئے بیٹھے ہیں۔

اور ہم بس رہ گئے ہاتھ ملنے کے لئے

میتوں کو کاندھا دینے کیلئے

مزید :

کالم -