شرقپور، اغواء برائے تاوان کے 2ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، مغوی بچے کی لاش برآمد

شرقپور، اغواء برائے تاوان کے 2ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، مغوی بچے کی ...

  

شرقپور شریف/فیروزوالہ (نامہ نگار،نمائندہ پاکستان) شرقپور سے22 روز قبل اغواء ہونے والے کم سن بچے کی نعش اغواء کاروں نے برآمد کروا دی بچے کی نعش کی برآمدگی کرنے والی پولیس پارٹی پر اغواء کاروں کے ساتھیوں کی فائرنگ اغواء کار ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک۔بتایا گیا ہے کہ بڑا اڈہ لاریاں کے رہائشی محمد اشرف کا سات سالہ بیٹا ابو ذر آٹھ اگست 2017 کی دوپہر محلے میں ٹیوشن پڑھنے کیلئے گیا لیکن واپس نہ آیا تو گھر والوں نے بچے کی تلاش شروع کی لیکن بچہ نہ ملا تو تھانہ شرقپور میں اغواء کا مقدمہ نا معلوم افراد کے خلاف درج کروایا تو تھانہ شرقپور پولیس اور لواحقین نے بچے کی تلاش جاری رکھی لیکن بچے کا کوئی سراغ نہ مل سکا تو اسی دوران محمد اشرف کو ایک فون کا ل موصول ہوئی جس میں بچے کی رہائی کیلئے ایک کروڑروپیہ تاوان طلب کیا گیا تو لواحقین نے پولیس کو آگاہ کیا اور اسی دوران تاوان کیلئے فون کال آتی رہی جس پر ایس ایچ او تھانہ شرقپور عامر محبوب نے فون کال ٹریس کی اور لاہور کے ایک پی سی او سے فون کال آ رہی تھی دکان پر لگے کیمروں کی مدد سے مدعی محمد اشرف نے ایک ملزم عرفان کو پہچان لیا پولیس نے دن رات ایک کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا جس نے دوران تفتیش بتایا کہ میرا ایک ساتھی ارشد بھی ہے ہم دونو ں نے مل کر بچے ابو ذر کو اغواء کیا اور اس کوقتل کر کے دریائے راوی کے قریب میر پور ڈھامکے میں بچے کو دفن کر دیا ہے اور ہم بچے کی رہائی کیلئے ایک کرو ڑ روپیہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا فون کا ل کے ذریعے رقم طلب کی پولیس نے دوسرے ملزم ارشد کو بھی گرفتار کر کے مزید تفتیش کی اور گزشتہ رات تھانہ شرقپور پولیس نے ملزمان عرفان اور ارشد کو لے کربچے ابو ذر کی نعش بر آمد کرنے کیلئے میر پور ڈھامکے دریائے راوی کے قریب پہنچی اور ملزمان کی نشاندہی پر نعش برآمد کر کے پولیس پارٹی واپس آ رہی تھی کہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو چھڑوانے کیلئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی اور اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزمان عرفان اور ارشد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ۔فائرنگ کرنے والے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ملزمان عرفان اور ارشد کا تعلق 6 چک تھانہ بھکھی کے رہائشی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ ایک ملزم کچھ سال قبل مدعی محمد اشرف کے سروس سٹیشن پر کام کرتا تھا ۔ ملزموں کی ہلاکت کی خبر اور بچے کی نعش کی برآمدگی کی اطلا ع شرقپور پہنچی تو سات سالہ بچے ابو ذر کے لواحقین اور شہری بڑا اڈہ شرقپور پر جمع گئے لاہور جڑانوالہ روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا تھانہ شرقپور پولیس کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے جونہی پولیس ملزمان کی لاشیں ٹریکٹرٹرالی پر ڈال کر بڑا اڈہ پہنچی تو ملزمان کے عبرت ناک انجام پر پولیس کے حق میں نعرے لگائے۔ معززین علاقہ جن میں چےئرمین میونسپل کمیٹی میاں عمران علی اشرف یعقومیہ ،قاضی احتشام عارفسیّد خاو ر عباس نقوی ،قاضی عتیق عبداللہ ، رانا جمشید خورشید نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ شرقپور جا کر پولیس کی کارکردگی کو سراہا ۔

شرقپور/پولیس مقابلہ

مزید :

صفحہ آخر -