10سال بعد فیصلہ ، بینظیر قتل کیس کے 5ملزم بری ، سعود عزیز ، خرم شہزاد کو 17,17سال قید جرمانہ، مشرف اشتہاری قرار جائیداد ضبط کرنے کا حکم

10سال بعد فیصلہ ، بینظیر قتل کیس کے 5ملزم بری ، سعود عزیز ، خرم شہزاد کو 17,17سال ...

  

راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک 228آن لائن)انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج اصغر خان نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹواور پیپلز پارٹی کے23کارکنوں کے قتل کیس میں نامزدسابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو جرم ثابت ہونے پر 2الگ الگ دفعات میں مجموعی طور پر 17،17سال قیداور5لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ مقدمہ میں نامزد پہلے سے گرفتار 5ملزموں محمد رفاقت ،حسنین گل ،شیر زمان ،رشید احمد اور اعتزاز شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کو عدالت سے روپوشی اور دانستہ عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں ،پرویز مشرف کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیدا ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے ، مقدمہ میں نامزدتحریک طالبان پاکستان کے رہنمابیت اللہ محسود ،عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام،فیض محمد، اکرام اللہ ،نصراللہ ،نادر عرف قاری اسماعیل پر مشتمل7ملزموں کو مسلسل عدم حاضری پر عدالت پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے عدالت نے اڈیالہ جیل میں سنائے گئے فیصلے میں سعود عزیز اور خرم شہزاد کو شہادتیں ضائع کرنے اور تفتیش میں کوتاہی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119کے تحت 10,10سال قید اوردفعہ201کے تحت 7,7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جس پر دونوں پولیس افسروں کو موقع پر گرفتار کرلیاگیا۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر اڈیالہ جیل میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے بے نظیر بھٹوکو27 دسمبر2007 ء کو اس وقت خود کش بم دھماکے میں شہید کیاگیا تھا جب وہ انتخابی مہم کے حوالے سے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام کے اختتام پر واپس روانہ ہو رہی تھیں، ایس ایچ او تھانہ سٹی کاشف ریاض کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر471درج کیا گیاتھا تاہم بعد ازاں اس میں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو ملزم نامزد کرنے کے بعد مرحلہ وار سابق صدر پرویز مشرف ،سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد سمیت 15افراد کو بطورملزم نامزدکیا گیا تھا ، پرویز مشرف ، سعود عزیز اور خرم شہزاد سمیت 3ملزم ضمانت پر تھے جبکہ محمد رفاقت ،حسنین گل ،شیر زمان ،رشید احمد اور اعتزاز شاہ سمیت 5ملزم اڈیالہ جیل میں تھے، بیت اللہ محسود ،عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام،فیض محمد، اکرام اللہ ،نصراللہ ،نادر عرف قاری اسماعیل سمیت7ملزم تاحال مفرور ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ ساتوں مختلف مواقع پر ہونے والے فوجی آپریشنز میں مارے جا چکے ہیں اس مقدمہ میں استغاثہ کی جانب سے 139گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی تھی بعد ازاں ان گواہوں کی تعداد کم کر دی گئی اور مجموعی طور پر68 گواہوں نے بیانات قلمبند کرائے ،سانحہ لیاقت باغ کے ٹرائل کے دوران اس سے قبل انسداد دہشت گردیکی عدالت کے 7جج تبدیل ہوئے400سے زائد پیشیوں (تاریخ سماعت)کے دوران 8چالان عدالت میں پیش کئے گئے،3 مرتبہ فرد جرم عائد کی گئی دوران ٹرائل پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمہ میں نامزد سابق صدر پرویز مشرف کی عدالت طلبی کے لئے بھی درخواست دائر کی گئی ، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل کے دوران اب تک رانا نثار،پرویز علی شاہ،شاہد رفیق ،چو دھری حبیب اللہ، طارق عباسی، پرویز اسماعیل جوئیہ اور رائے ایوب خان مارتھ سمیت7جج تبدیل ہو چکے ہیں، اب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے آٹھویں جج کی حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا ، ٹرائل اڈیالہ جیل میں بھی کیا گیا ،ٹرائل کے دوران ایک سانحہ یہ ہوا کہ اس کیس میں ایف آئی اے کی پیروی کرنے والے وکیل چودھری ذوالفقار کو2013 ء میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیاتھا انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت وقوعہ کے بعد14 دن کے اندر چالان پیش کرنا اور 3 ماہ میں سمری ٹرائل مکمل کرنا لازم تھا لیکن پنجاب حکومت کی جانب سے چودھری عبدالمجید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے27 دسمبر کو پیش آنے والے سانحہ لیاقت باغ کا پہلا چالان فروری 2008کو عدالت میں پیش کیا جس میں طالبان رہنمابیت اللہ محسودپر قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرنے کے ساتھ رشید احمد، اعتزاز شاہ ، شیر زمان، حسنین گل اورمحمد رفاقت کو ملزم نامزد کیا گیا،بعد ازاں وفاقی حکومت کی ہدایت پرمقدمے کی ازسر نو تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کر تے ہوئے خالد قریشی کی سربراہی میں نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی جس نے 22 اپریل 2011 تک انسداددہشت گردی کی عدالت میں5 نامکمل چالان داخل کرائے تاہم حتمی چالان اگست2013میں پیش کیا گیا ایف آئی اے کو تحقیقات سونپنے اور اس دوران سکاٹ لینڈ یارڈ کے دورہ پاکستان اورسانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے بعد عدالت میں داخل کی گئی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ،اس کیس میں پی ٹی سی ایل کے ملازمین سر فر از ، سعید قر یشی، بے نظیر بھٹو کے ز یر استعما ل بلیک بیر ی مو بائل فو ن سے ای میل اور ایس ایم ایس کا ڈیٹا حا صل کر نے والے ایکسپر ٹ نعما ن ا شر ف بو د لہ ،گر فتا ر ملز م ر فا قت کو اپنے گھر میں ٹھہر انے وا لے ما لک مکا ن غلا م عبا س، ڈی ایس پی اشتیا ق شا ہ ، ایف آ ئی اے کا نسٹیبل کاشف بشیر، سب انسپکٹر ار شد کلیم ،وار د ٹیلی کا م کے عثما ن مفتو ن اور ملزما ن ر فا قت ،حسنین اور اعتز از شا ہ کا د فعہ 164کے تحت بیان قلمبند کیا گیا، پی ٹی سی ایل کے ڈا ئر یکٹر فیر و ز عا لم نے طا لبا ن کما نڈ ر بیت اللہ محسو د اور ایک مبینہ منصوبہ کارکے درمیان ہو نیوا لی ایک منٹ13سیکنڈ کی گفتگو پر مبنی ر یکا ر ڈ عدا لت میں پیش کی تھی جس میں گفتگو کر نیوا لے افر اد نے بے نظیر بھٹو پر خو د کش حملہ کے بعد ایک دوسر ے کو مبا ر ک با د پیش کی تھی، ٹرائل کے دوران عدالت نے وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر(ر)جاوید اقبال چیمہ ،نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے ڈی جی جاوید اقبال لودھی اورسیکرٹری داخلہ کمال شاہ کو بطور گواہ طلب کیا تھا ۔ مارک سیگل کیس کے اہم ترین گواہوں میں شامل تھے جن کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کیا گیا ، یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو 5 بجکر 11 منٹ پر دھماکہ ہوا جبکہ 6 بجکر 42 منٹ پر جائے وقوعہ کو دھو دیا گیا اور دھماکے کے 2 گھنٹے بعد تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کاشف ریاض کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی22دسمبر 2010کوسابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کی ضمانت مسترد کر کے دونوں پولیس افسروں کو بے نظیر بھٹو قتل کیس کے جیل ٹرائل کے دوران اڈیالہ جیل سے گرفتار کیا گیاتھا23اپریل2011کوبرطانوی حکومت کی طرف سے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزدسابق صدر پرویز مشرف کی پاکستان حوالگی کے لئے باقاعدہ انکار کے بعدایف آئی اے کی درخواست پر30مئی2011 کوانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر3کے جج رانا نثار احمدنے پرویز مشرف کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87,88کے تحت کاروائی کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دیاتھا، 11جون2011 کواسی عدالت نے پرویز مشرف کوباضابطہ طور پر اشتہاری قرار دینے کے بعد ان کے دائمی وارنٹ جاری کرکے انکی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔15اکتوبر2011 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج شاہد رفیق کے روبرو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد سابق صدر پرویز مشرف کے شریک ملزم سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیزاورایس پی راول ٹاؤن خرم شہزاد کی جانب سے بریت کی درخواست خارج کر کے ساتوں ملزمان پر فرد جرم عائدکی تھی تاہم رواں سال ہفتہ وار اوررواں ماہ عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔

بینظیر کیس

مزید :

صفحہ اول -