سیاست کی وجہ سے امت تقسیم نہ ہو ، اللہ کی کتاب کے احکامات کے مطابق حکمرانی کریں : خطبہ حج

سیاست کی وجہ سے امت تقسیم نہ ہو ، اللہ کی کتاب کے احکامات کے مطابق حکمرانی ...

  

مکہ مکرمہ (محمد اکرم اسد228مانیٹرنگ ڈیسک228 نیوز ایجنسیاں) سعودی عرب کے عالم دین ڈاکٹرشیخ سعد بن ناصر الشتری نے مسجف نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہاہے کہ ذرائع ابلاغ اسلام کی ترقی و ترویج کیلئے کام کریں ور قرآن کی تعلیم کو عام کریں تاکہ لوگ اسلام کے قریب ہوں۔ ذرائع ابلاغ کی اپنی اہمیت ہے اور مالکان کو چاہیے کہ اس کو قرآن و سنت کے فروغ کے لئے وسائل خرچ کئے جائیں۔ سیاست کی وجہ سے امت تقسیم نہ ہو، اللہ کی کتاب پر عمل کریں اور اس کے احکامات کے مطابق حکمرانی کریں، مسلمان چاہے کسی بھی ملک، رنگ اور نسل سے تعلق رکھتا ہو پر امن رہتا ہے اور کسی کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی پر نہیں کرتا ،زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے، اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ایمان لانے اورنیک عمل کرنیوالوں کوزمین پرطاقت عطا ہوگی، شریعت اسلامیہ نے والدین کی خدمت کا درس دیا ، ہر قسم کے غبن اور سود کو حرام قرار دیا ، راہ نجات ایک ہی ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں، نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ، سیاست کی وجہ سے امت تقسیم نہ ہو، سوشل میڈیا کے ذمہ داران امت کے اتحاد کی ذمہ داری پوری کریں، تفرقات میں میں نہ پڑو ، اللہ سے دعا گو ہوں کہ مسلمانوں کو قبلہ اول بیت المقدس واپس مل جائے۔ انہوں نے دنیا کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بھی دعا کی ۔ مسجدنمرہ سے میدان عرفات میں جمع 20لاکھ سے زائد فرزندان اسلام کیلئے خطبہ حج میں ڈاکٹرشیخ سعد بن ناصر الشتری نے کہاکہ شریعت اسلامیہ کی خوبصورتی ہے کہ زمین پر زندگی کو منظم کیا اسلامی تعلیمات نے دنیا بھر کے انسانوں میں بھائی چارا پیدا کیا اسلام امن کا مذہب ہے، زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے، اللہ نے وعدہ کیاایمان لانے اورنیک عمل کرنیوالوں کوزمین پرطاقت عطا ہوگی اسی طرح اسلام نے ہر قسم کے غبن اور سود کو حرام قرار دیا شریعت اسلامیہ نے والدین کی خدمت کا درس دیا اور برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا ، مسلمان پر لازم ہے کہ ان حدود کی حفاظت کرے جو اللہ نے اس کیلئے کھینچ دیں۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسی کی عبادت کرواور اسی کے آگے سر جھکا، اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے، میں خود کو اور آپ سب کواللہ تعالی سے ڈرنے کی تلقین کرتاہوں، نصیحت کرتا ہوں کہ تقوی اختیار کرو، اللہ نے وعدہ کیا ہے متقی بندے جنت میں داخل کیے جائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ نے امت کی رہنمائی کے لئے بھیجا اور اسلام اچھے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے رسولؐ کو امت کی ہدایت کیلئے دنیا میں بھیجا کسی کو رنگ و نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں جبکہ مسلمانوں کو اللہ کی عبادت ایسے کرنی چاہیے جیسی نبیؐ نے کی۔ اللہ تعالی نے تمام امتوں کی رہنمائی کے لیے نبی بھیجے اور ہر نبی نے اپنے امتیوں کو اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ تمام مسلم حکمران اللہ تعالی کا قرب حاصل کریں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو ،راہ نجات ایک ہی ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ سیاست کی وجہ سے امت تقسیم نہ ہو، ، تفرقات میں میں نہ پڑو، اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے،تقوی کی بنیاد ہی توحید ہے، توحید کا پیغام تمام انبیا کی تعلیمات کا بنیادی رکن ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں، اللہ نے حکم دیا ہے اسی کی عبادت کرو اور سر جھکا ؤ، میں خود کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ رسول اکرم ﷺکو اللہ تعالی نے امت کی ہدایت کیلئے بھیجا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نبی اکرم ﷺ آخری رسول ہیں، راہ نجات ایک ہی ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں، نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، اسلامی تعلیمات نے انسانوں میں بھائی چارہ قائم کیا، زکو ۃمیں مال کا مخصوص حصہ فقرا کو صدقہ کرنا ہوتا ہے، حضور اکرم ﷺنے فرمایا نماز دین کا بنیادی ستون ہے، اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے، نصیحت کرتا ہوں کہ تقوی اختیار کریں۔ اللہ کا فرمان ہے صبر کرو اور نماز قائم کرو، اسلام اچھے اخلاق کی بھی تعلیم دیتا ہے، شریعت اسلامیہ کی خوبصورتی ہے کہ زمین پر زندگی، مالی اور معاشی نظام کو منظم کیا، قرآن فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان لا ئے، اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا، اللہ نے فرمایا ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا، ایمان لانے اور نیک عمل کرنیوالوں کو زمین پر طاقت عطا ہوگی، کسی کو رنگ اور نسل کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت نہیں، اسلام نے مسلم اور غیر مسلم کیساتھ زیادتی سے منع فرمایا ہے۔ ہم پر لازم ہے شریعت کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں، مسلمان پر لازم ہے کہ ان حدود کی حفاظت کرے جو اللہ نے اس کیلئے کھینچ دیں۔ تمام مسلمان امن پسند ہیں،اسلامی تعلیمات بھائی چارے اور امن کا درس دیتی ہیں،اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا، مسلمانوں کے حکمران اللہ کا قرب حاصل کریں،والدین اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم سے آراستہ کریں، بہترین آدمی ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے، اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کو اس کا 700گنا سے زائد لوٹا یا جاتا ہے، اسلام نے دین، مال، جان، عزت اور عقل پر حملے سے منع فرمایا، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، کسی کو رنگ و نسل کے لحاظ سے ایک دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں ، فوقیت کا معیار صرف تقویٰ ہے، خطبہ حجۃ الوداع مختصر تھا مگر دین کے تمام اصول اس میں سمٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی، آپؐ نے فرمایا تمہارا خون، مال اور عزتیں ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، اللہ کی رحمتیں اور نعمتیں ہوں حضرت محمدؐ، ان کی آل اور تمام صحابہ کرامؓ پر، میں خود کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقیں کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، جس طرح ڈرنے کا حق ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اللہ کا حکم ہے کہ میری عبادت کرواور میرے ہی سامنے سجدہ کرو، تمام انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت دینے کیلئے بھیجا۔ ہر نبی نے یہ تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو، محمد ؐ اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں، ان کو بندوں کی رہنمائی کیلئے بھیجا گیا، اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسی کرنی چاہیے جیسے نبیؐ نے ہمیں تعلیم دی، راہ نجات ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہوں۔ قرآن فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسولؐ پر ایمان لاؤ، اسلام کے ارکان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی، نماز، زکوٰۃ، روزے، حج کا فریضہ ادا کریں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے استطاعت رکھنے والوں پر حج بیت اللہ کو فرض کر دیا ہے،خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا کہ اللہ تعالی کی نعمت پوری ہو گئی اور دین اسلام کو بطور دین پسند فرمادیا گیا، اسلامی تعلیمات نے انسانوں میں بھائی چارہ قائم کیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے حضرت محمدؐ ﷺکو رحمت بنا کر بھیجا، اسلامی تعلیمات، بھائی چارے اور محبت پر مبنی ہے۔ ہر قسم کے غبن اور سود کو بھی حرام قرار دیا ہے، خطبہ حجۃ الوداع میں حضرت محمدؐ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں، آپؐ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے بڑی محنت کی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ۔ خطبہ حجۃ الوداع مختصر تھا مگر دین کے تمام اصول اس میں سمٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی، آپؐ نے فرمایا تمہارا خون، مال اور عزتیں ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں، اسلام نے دین، مال، جان، عزت اور عقل پر حملے سے منع فرمایا، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، کسی کو رنگ و نسل کے لحاظ سے ایک دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں ہے، فوقیت کا معیار صرف تقویٰ ہے شریعت محمدی باہمی محبت کی دعوت دیتی ہے، شریعت اسلامی پورے عالم میں امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو امن کی جگہ قرار دیا ہے،اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اللہ کی عبادت کریں اور ہر قسم کے تعصب سے اجتناب کریں۔ حجۃالوداع میں حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ قرآن سے ہدایت حاصل کرنے والا کامیاب رہے گا، اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اس سے رہنمائی حاصل کرو، اللہ کی کتاب کے مطابق اپنی زندگی گزارو اور اس پر عمل کرو، مسلمان والدین اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیں، فرمان نبویؐ ہے کہ بہترین آدمی ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے، ، حضرت محمدؐ نے لوگوں کو نرمی کا حکم دیا، محمدؐ نے فرمایا کہ حج کے دوران معذوروں کیلئے رعایت ہے، اسلامی تعلیمات ہیں نیکی کرنے والے کا بدلہ نہ چکا سکو تو اس کیلئے دعا کرو۔ڈاکٹر سعد بن ناصرالشتری نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ پاک تمام حجاج کا حج قبول فرما اور ان کیلئے آسانی پیدا فرما۔آمین۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی کتاب پر عمل کریں اور اس کے مطابق حکمرانی کریں۔حج کے پہلے مرحلے میں عازمین غسل کے بعد احرام باندھ کر تلبیہ کہتے ہوئے مسجد الحرام سے منیٰ پہنچے۔حجاج کرام مزدلفہ میں کھلے �آسمان تلے رات بسر کریں گے جہاں سے وہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد واپس منیٰ روانہ ہوں گے۔ منیٰ میں مرد حجاج کرام قربانی کرکے سرکے بال منڈوائیں گے جب کہ خواتین تھوڑے بال کٹوائیں گی، پھر حجاج طواف اور زیارت کے لیے مکہ روانہ ہوں گے۔حجاج منیٰ واپس آکر وہاں گیارہ، بارہ ذی الحج کی راتیں گزاریں گے اور ہر دن زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماری جائیں گی۔12 تاریخ کو تینوں شیاطین کو کنکریاں مارنے کے بعد جلد چاہیں تو غروب آفتاب سے قبل منٰی سے نکلنا ہوگا اور تاخیر چاہیں تو 13 تاریخ کی رات منٰی میں بسر کی جائے گی۔ حجاج اپنے وطن روانہ ہونے سے قبل الوداعی طواف کریں گے۔

خطبہ حج

مزید :

صفحہ اول -