80 فیصد ٹکٹیں عام لوگوں کو دیں گے

80 فیصد ٹکٹیں عام لوگوں کو دیں گے
 80 فیصد ٹکٹیں عام لوگوں کو دیں گے

  

کراچی (این این آئی) عظیم نصب العین اور مقاصد ایک مضبوط اور منظم تنظیم کے پرچم تلے جدوجہد اور قربانیاں دے کر ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں جن پارٹیوں نے حکمرانی کی ہے ان میں اجتماعی سوچ کا فقدان رہا ہے، انہیں ملک کی سلامتی ، ترقی و خوشحالی، مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں، نچلے و درمیانی طبقوں کے مسائل اور پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں تھا ماسوائے اپنی دولت میں بے پناہ اضافے اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے۔ ان خیالات کا اظہار ’’عام لوگ اتحاد‘‘ کے قائمقام چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے اپنی قیام گاہ پر منعقدہ ورکرز اجلاس سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کوئی بھی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو عام لوگوں کے مسائل کاادراک رکھتی ہوں یا ان کے منشور میں غریبوں کی زندگی بہتر بنانے کا عزم کیا گیا ہو۔ عام لوگ اتحاد ملک کی واحد پارٹی ہے جو 80 فیصد عام لوگوں کو قومی، صوبائی اور سینیٹ میں خود انہی کے نامزدکردہ نمائندوں کو اسمبلیوں میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے تاکہ ہر ایوانوں میں ان کی نمائندگی ہو۔انہوں نے پارٹی منشور کے چیدہ چیدہ نکات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم ملک میں سیاسی و سماجی انصاف پر مبتی ایسا نظام قائم کریں گے جو بلا تفریق رنگ و نسل، قوم و لسان، جنس، مذہب و فقہ مسلک، سیاسی نظریات کے تمام لوگوں کو مساوی حقوق دینے کی ضمانت فراہم کرے گا جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست، 1947 ء کو مجلس دستور ساز میں کی گئی تقریر اور ان کی سوچ و وژن کا آئینہ دار ہوگا۔جسٹس وجیہ الدین احمدنے کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو عوام کی خدمت سے سرشار ہو جس کا منہ بولتا ثبوت ان کا ماضی ہے۔ سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گو کہ فیصلہ کمزور بنیاد پر کیا گیا ہے مگر چلو کچھ تو ہوا، ابتداتو ہوئی مگر افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس نوعیت کے دیگر مقدمات پرعدالتی کاروائی سست روی کا شکار ہے ۔اس عمل سے یہ عام تاثر ہے کہ یہ ساری عدالتی کاروائی صرف ایک شخص کے خلاف کی گئی تھی۔ اس طرز عمل سے عدالت عالیہ کی نیک نامی متاثر ہوسکتی ہے انصاف نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ نظر بھی آنا چاہئے۔ انہوں نے آئین کی شق 62/63 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کااطلاق نہ صرف حکمرانوں بلکہ ان تمام لوگوں پر ہونا چاہئے جو اسمبلیوں ، سینیٹ، بلدیہ و دیگر سرکاری اداروں میں کام کررہے ہیں

مزید :

صفحہ اول -