امریکی پالیسی مسترد: اتحادی ممالک سے مشاورت کے بعد اپنی پالیسی دینگے: پاکستان

امریکی پالیسی مسترد: اتحادی ممالک سے مشاورت کے بعد اپنی پالیسی دینگے: ...

  

اسلام آباد(آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے بتایا کہ پاکستان کے سفیروں کو 7ستمبر کو ہونے والے اجلاس کے لئے اسلام آباد طلب کرلیاگیا ہے،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اجلاس کی صدارت کریں گے،امریکہ کے ساتھ فی الحال مذاکرات نہیں ہورہے،آئندہ دنوں میں وزیرخارجہ خواجہ آصف اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے،امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے بعد پاکستان نے اتحادی ممالک روس،چین اور ترکی سے مشاورت کے بعد پالیسی کا اعلان کریں گے،عید کے بعد چند منتخب ممالک کے سفیروں کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا ہے،7ستمبر کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی’’انوائے کانفرنس‘‘ کی صدارت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں خطے کی صورت حال اور امریکی پالیسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مشاورت ہوگی۔نفیس زکریا نے بتایا کہ وزیرخارجہ خواجہ آصف بہت جلد بیرونی ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے۔وزیرخارجہ نے اس سلسلے میں رابطے ہو رہے ہیں،اوپنگ ریمارکس میں ترجمان نے بتایا کہ افغانستان میں مختلف دہشتگردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ پاکستان کو دلی ہمدردی ہے،پاکستان ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے،کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کیلئے پاکستان بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی پر اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے بتایا کہ 30اگست کو8000کشمیریوں نے جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف مظاہرہ کیا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عبدالباسط کے خط کو لیکر میڈیا کو نمایاں نہیں کرنا چاہئے،پاکستان اندرونی اور بیرونی مشکلات کا شکار ہے،لہٰذا سابق سفارتکار کے خط پر بحث نہیں کرنا چاہئے۔ ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ اگر چہ اس موقع پر ایسا واقع مناسب نہیں مگر ہمیں اس پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی ہے،یورپ ،برطانیہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں نفیس زکریا نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات موجود نہیں مگر حالیہ پالیسی کو پاکستان نے مسترد کردیا ہے،البتہ باہمی تعلقات قائم ہیں۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -