ایس ای سی پی ، کوڈ آف کارپوریٹ گورننس کا مسودہ عوامی رائے عامہ کیلئے جاری

ایس ای سی پی ، کوڈ آف کارپوریٹ گورننس کا مسودہ عوامی رائے عامہ کیلئے جاری

  

 اسلام آباد (اے پی پی) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت تشکیل دیئے گئے لسٹڈ کمپنیز (کوڈ آف کارپوریٹ گورننس) 2017ء کا مسودہ عوامی رائے عامہ کیلئے جاری کر دیا ہے، دلچسپی رکھنے والے افراد و ادارے کوڈ آف کارپوریٹ گورننس کے مسودہ بارے 14 دن کے اندر اپنی آراء و تجاویز سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کیلئے کارپوریٹ گورننس کے ضابطہ کا مقصد زیادہ سے زیادہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنا کر ان کمپنیوں میں گورننس کے نظام کو مستحکم اور شفاف بنانا اور شفافیت پیدا کرنا ہے۔ نئے جاری کردہ کوڈ میں لسٹڈ کمپنیوں میں ڈائریکٹروں کی تعداد کو سات سے کم کرکے پانچ کر دیا گیا ہے جبکہ نئے کوڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی ذمہ داری اور افادیت کو بھی بڑھایا گیا ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ڈائریکٹروں کی تعداد کم از کم دو یا کل تعداد کا 33 فیصد آزاد ڈائریکٹرز پر مشتمل ہونا لازمی کر دیا گیا ہے۔ آزاد ڈائریکٹروں کو کمپنی کو اپنی خود مختاری اور انڈیپنڈنٹ ہونے بارے حلف نامہ کمپنی کو جمع کرانا ہو گا۔ نئے کمپنیز ایکٹ کی ایک اہم شرط یعنی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خواتین کو نمائندگی دینے کو بھی ضابطہ میں شامل کیا گیا ہے اور اس حوالہ سے ریگولیشن کے جاری ہونے یا بورڈ کی دوبارہ تشکیل کے وقت لسٹڈ کمپنیوں کیلئے اپنے بورڈ پر کم از کم ایک خواتین کو شامل کرنا ضروری ہے۔

مزیدبرآں ان ریگولیشنز میں بورڈ کے اجلاسوں کے حوالہ سے فورم کی سخت مطلوبات متعار ف کی گئی ہیں۔ بورڈ میٹنگ میں اراکین کی حاضری کو یقینی بنائے کیلئے قواعد بھی دیئے گئے ہیں جبکہ کمپنی کیلئے اہم پالیسیوں کی تشکیل اور بورڈ اور اس کی کمیٹیوں کی کارکردگی کو سالانہ بنیادوں پر جانچنے کیلئے طریقہ کر بھی تجویز کیا گیا ہے۔ مزید اس ضابطہ کے مطابق، 2020ء تک لسٹڈ کمپنیوں کے بورڈ کے تمام ڈائریکٹروں کیلئے اس کوڈ بارے تربیت لینا لازمی ہو جائے گا۔کوڈآف کارپوریٹ گورننس مجریہ 2016ء بذریعہ سٹاک ایکس چینج ریگولیشنز تمام لسٹد کمپنیوں پر لاگو ہے۔ 2016ء میں پاکستان انسٹی ٹیوت آف کارپوریٹ گورننس (پی آئی سی جی) نے کوڈ میں ترمیم کیلئے ایک ٹاسک فورس کی تشکیل دی تھی۔ ابراہیم سادات کی سربراہی میں بننے والی اس ٹاسک فورس میں ایس ای سی پی‘ پی آئی سی جی‘ سینٹرل ڈپازٹری کمپنی‘ پاکستان سٹاک ایکس چپنج کے نمائندے اور کارپوریٹ ما ہرین شامل تھے۔اس ٹاسک فورس نے اس کوڈ میں ترمیم کے لئے ڈرافٹ سفارشات کو حتمی شکل دی تاہم اس امر کے پیش نظر کہ کمپنیز ایکٹ کارپوریٹ گورننس کا فریم ورک مہیا کرتا ہے‘ ٹاسک فورس کی سفارشات ان ریگولیشنز میں سودی گئی ہیں۔ یہ ریگولیشنز مختصراور جامع ہیں اور کمپنیز ایکٹ کی مطلوبات کا اعادہ نہیں کرتیں۔ ان میں بہترین کارپوریٹ اصولوں کو برقرار کھا گیا ہے۔

مزید :

کامرس -