افواج پاکستان کشمیر پر کبھی کمپرومائز نہیں کریگی،راجہ فاروق حیدر

افواج پاکستان کشمیر پر کبھی کمپرومائز نہیں کریگی،راجہ فاروق حیدر

  

مظفرآباد (بیورورپورٹ)وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جب کشمیر کے اندر تحریک آزادی کشمیر نازک مرحلے سے گزر رہی ہے قومی اسمبلی سے کشمیر سے متعلق جاندار قرارداد کی متفقہ منظوری کا دونوں اطراف کے کشمیری بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں افواج پاکستان کشمیر پر کبھی کمپرومائز نہیں کرے گی۔قومی اسمبلی سے کشمیریوں کے حق میں متفقہ قرارداد کی منظوری پر تمام سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں میڈیا قوم کو متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کرے پاکستان کے اندر سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ملک اس وقت سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا تقسیم شدہ قوم امریکہ سمیت دشمنوں کا قوت کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی پوری امید ہے کہ قومی قیادت قومی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیئے متحد ہو کر آگے بڑھے گی کشمیر سے متعلق قرارداد کی قومی اسمبلی سے منظوری سے عالمی سطح پر یہ پیغام گیا ہے کہ اس قرارداد کے پیچھے 22کروڑ عوام کی تائید و حمایت ہے قومی اسمبلی سے متفقہ قرارداد کی منظوری سے تحریک آزادی کشمیر کو تقویت ملی ہے اور جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت آزاد کشمیر کے معاملات یکسو کرنے میں سنجیدہ ہے وزیراعظم پاکستان کو جلد آزادکشمیر دورے پر بلائیں گے اکلاس ملازمین اور لیڈیز ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں کا معاملہ جلد یکسو ہوجائے گا آزادکشمیر میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو جو مشکلات درپیش ہیں عید کے بعد ان مشکلات کا ازالہ کریں گے میرے خلاف بیانات آتے رہے کبھی جواب نہیں دیا اسمبلی ایک فورم ہے جہاں جواب دیا وزیراعظم آزادکشمیر سنٹرل پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں مردم شماری کے نتائج کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا پیپلزپارٹی کی طرف سے مردم شماری کو مسترد کرنا فوج پر عدم اعتماد ہے اس مردم شماری میں فوج نے بھرپور کردار ادا کیا اور رائے شماری کے اعداد و شمار کو درست بنانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ۔پیپلزپارٹی کی طرف سے مردم شماری پر تحفظات باالفاظ دیگر فوج پر عدم اعتماد ہے جس کی مذمت کرتے ہیں ہر معاملے میں سیاست نہیں کی جانی چاہیے سیاست میں قومی اداروں کو گھسیٹنا قابل مذمت ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے کشمیر سے متعلق قرارداد کی منظوری سے متفقہ قومی پالیسی سامنے آئی ہے جس کے تحریک آزادی کشمیر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے یہ جمہوریت کی وجہ سے ممکن ہوا کہ تمام سیاسی قوتیں یکجا ہوئیں آمریت میں ایسا ممکن نہیں تھا ایک مستحکم جمہوری پاکستان کشمیریوں کی ضرورت ہے ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں شروع کر رکھی ہیں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے لیئے غیر آئینی و غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں بھارتی ہتھکنڈوں اور اقدامات کی کوئی حیثیت نہیں تحریک آزادی کشمیر اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیئے پاکستان میں اس وقت سیاسی استحکام اور قوم کو متحد کرنے کی ضرورت ہے قوم متحد ہو گی تو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو دندان شکن جواب دیا جا سکے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں میڈیا آزاد ہے اور اس کی اہمیت ہے میڈیا کی تنقید ضروری ہے لیکن اس تنقید سے قوم کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے میڈیا کو بھی حالات کے تناظر میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا جمہوری نظام کے اندر قومی معاملات پر تمام قوتیں ایک ساتھ ہوتی ہیں یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ امریکی صدر کے حالیہ پالیسی بیان کے بعد پارلیمینٹ سے متفقہ قرارداد کی منظوری سے پوری قوم یکجان ہوئی ہے اور امریکہ سمیت پوری دنیا کو ایک مثبت پیغام گیا ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے آزادکشمیر کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں ساڑھے 4ارب روپے کی پہلی قسط ریلیز کر دی گئی ہے ترقیاتی بجٹ میں اضافے کے بعد ہماری ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے اور ہم احسن طریقے سے ان ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہوں گے حکومت آزادکشمیر نے ترقیاتی بجٹ کا درست تصرف یقینی بنانے کے لیئے منصوبوں کی بروقت منظوریاں دے دی گئی ہیں اور 23ارب کے ترقیاتی بجٹ کو مقررہ مدت کے اندر خرچ کریں گے انہوں نے کہا کہ ضرورت کے مطابق اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے قانون کے مطابق اراکین اسمبلی کا روبار نہیں کر سکتے اگر میرا بیٹا کاروبار کرے گا تو الزام لگے گا کہ یہ باپ کے منصب کو استعمال کر کے مفاد حاصل کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ قوابدیدی فنڈز اور زکوۃٰ منافع فنڈز ذاتی اخراجات پر خرچ نہ ہو سکیں گے فنڈز کے درست استعمال کے لیئے حکومتی سطح پر جاندار اقدامات اٹھائے گئے ہیں پارلیمانی پارٹی اصلاحات کے لیئے ساتھ دے رہی ہے جس سے نظام میں بہتری آئے گی اکلاس اور نیشنل پروگرام کے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لیئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جلد ہی ان ملازمین کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -