عید الاضحیٰ پر بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں:سردار مسعود خان

عید الاضحیٰ پر بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں:سردار مسعود خان

  

مظفرآباد (بیورورپورٹ) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالاضحی کے مقدس دنوں میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم جاری ہے۔ کشمیری مسلمانوں کیلئے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ حریت رہنما پابند سلاسل ہیں۔ ادھر بھارتی حکمران مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے مذموم سازشیں کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین عشروں سے وہاں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں اور لداخ میں بڑی تعداد میں بھارتی ہندوؤں کو آباد کر کے ان علاقوں میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کو گزشتہ نام نہاد انتخابات میں اکثریت دلائی گئی۔ اب مقبوضہ وادی میں بھی سابق فوجیوں، پنڈتوں اور سابق مغربی پاکستان کے مہاجر ہندوؤں کو آباد کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعے جموں و کشمیر کو آئین کے تحت حاصل خصوصی حیثیت اور مراعات کو ختم کرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی حکمران اور قابض فوج ایک منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کو چن چن کر جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا رہا ہے۔ لاپتہ نوجوانوں کے ورثاء سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں اپنے پیاروں کے زندہ یا شہید ہونے کے بارے میں بھی نہیں بتایا جا رہا۔ حریت قائدین کو بدنام کرنے اور تحریک آزادی سے پیچھے ہٹانے کیلئے من گھڑت مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی، جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی اس حوالے سے متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ اس حوالے سے قانونی ماہرین اور ماہر سفارتکاروں پر مشتمل کمیٹی بنا کر مقدمہ کو عالمی فورم پر لے جانے کی تجویز سامنے آئی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا مؤثر وکیل ہے۔ جس نے ہمیشہ کشمیری قوم کی بے لوث وکالت کی۔ اس پاداش میں پاکستان کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے کئی نقصانات برداشت کرنا پڑے لیکن کشمیریوں کا واحد وکیل ہمیشہ ثابت قدم رہا۔ پاکستان کی ہر حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مقدور بھر کوششیں کیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ عالمی برادری خصوصاً مغربی اقوام اس وقت انسانی و اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر مالی منفعت، تجارت اور معاشی مفادات کے پیش نظر بھارتی جرائم پر خاموش ہیں۔ لیکن اُن کی یہ خاموشی انسانی اقدار کے حوالے سے اُن کی نیک نامی اور شہرت کو نقصان پہنچائے گی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ دنیا میں پائیدار امن، مظلوم اور چھوٹی اقوام کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھنیس کا قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔ اگر دنیا آج بھارتی جرائم میں آنکھ بند رکھے گی تو کوئی طاقت ور بڑا ملک یورپ کے چھوٹے چھوٹے ممالک پر بھی قبضہ کر سکتا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ طاقت ور مگر بے اصول اور ظالم بادشاہتیں اور ممالک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ بھارت بھی اپنی ہٹ دھرمی، بے اصولی، انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے نتیجے میں نیست و نابود ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے اندر بھی گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ایک جانور گائے کے مساوی حقوق دینے پر تیار نہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کے انتہا پسند ہندؤ خود اندر سے کھوکھلا کر کے توڑنے کا سبب بنیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا بھارت کو اندر سب ہندؤ ظالم نہیں ہو سکتے۔ وہاں بھی انسانی اقدار اور عالمی اصولوں پر یقین رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ جو اس وقت ہندو انتہاپسندوں کے خوف سے چُپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور دانشوروں سے رابطہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ہندوستان جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے اُن تک اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں نوجوان نسل خصوصاً یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء و طالبات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں۔ بدقسمتی سے بدلتے عالمی حالات کی وجہ سے ہم مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی عملی مدد نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم بیرون دنیا میں اُن کی آواز بنیں گے اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -