کراچی موسلا دھار بارش،کاروباری زندگی معطل ،90فیصد تجارتی مراکز بند

کراچی موسلا دھار بارش،کاروباری زندگی معطل ،90فیصد تجارتی مراکز بند

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) کراچی کے شہری علاقوں سمیت ملیر ضلع کے مضافاتی علاقے موسلادھار بارش کے باعث شدید متاثر ، میمن گوٹھ کے قریب ملیر ڈیم میں 40فٹ چوڑا شگاف ، دو گاؤں ڈوب گئے ، گڈاپ کے قریب لٹ ندی میں تغیانی ، پانی ناردرن بائی پاس ، سبزی منڈی کے علاقوں کو ڈبوتا ہوا سعدی ٹاؤن کے قریب پیش قدمی کرنے لگا ، موئیدان کا کھار ڈیم بھر گیا ، کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ گڈاپ سٹی و دیگر علاقوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ، شدید خطرات کے باعث بڑی تعداد میں گوٹھ خالی، محفوظ مقامات کی طرف منتقل ، ندی نالوں کے بھر جانے اور تغیانی کے باعث سینکڑوں گوٹھوں کا ایک دوسرے سے رابطہ کٹ گیا ، ساحلی علاقہ مبارک گوٹھ برسات اور سمندری تغیانی کے باعث متاثر سمندر کنارے کھڑی تیس کشتیاں ڈوب گئیں ، ابراہیم حیدری ، ریڑھی ، چشمہ گوٹھ ، گلشن حدید سمیت متعدد علاقوں سے پانی کی نکاسی نہ ہوسکی ، مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث آبادیوں کو خطرہ ، انتظامیہ مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ۔ تفصیلات کے مطابق ؛ برساتوں کے خطرناک اور شدید نئے سلسلے کے شروع ہوتے ہی 24گھنٹوں کے اندر موسلادھار بارش کے باعث کراچی کے شہری علا قوں کے علاوہ ملیر ضلع کے مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی آئی ہے ، محکمہ ایریگیشن کہ جانب سے میمن گوٹھ کے قریب تعمیر ملیر ڈیم میں پانی آجانے سے بند دباؤ برداشت نہیں کرسکا ا ور 40فٹ چوڑا شگاف پڑ جانے سے پانی آبادیوں کی طرف چڑھ دوڑا ، امیر بخش مری گوٹھ کو ڈبوتا ہوا پانی عثمان خاصخیلی گوٹھ میں داخل ہوگیا ہے ،ا طلاع ملتے ہی ضلع کاؤنسل کراچی کے چیئرمین سلمان عبداللہ مراد ، ایم این اے حکیم بلوچ و دیگر منتخب نمائندے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ملیر ڈیم پہنچ گئے اور شگاف کو بند کرانے کی ہدایات جاری کیں ، اس موقع پر ایم این اے حکیم بلوچ کا کہنا تھا کہ ملیر ڈیم کا کام ناقص مٹیریل کے استعمال کے باعث کرپشن کا شکار ہوا ہے ، یہ ڈیم متعدد بار ٹوٹ چکا ہے جس سے غریب لوگوں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ، انہوں نے اینٹی کرپشن نیب و دیگر اداروں سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ، دوسری جانب گڈپ کے قریب تاریخی ندی لٹ ندی بھر جانے سے تغیانی پیدا ہوئی اور پانی اپنے قدرتی بھاؤ ناردرن بائی پاس ، سبزی منڈی و دیگر ملحقہ علاقوں کو ڈبوتا ہوا تیزی سے سعدی ٹاؤن ، ایئرپورٹ اور بھٹائی آباد کے شہری علاقوں کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے ، ادھر یونین کاؤنسل موئیدان کے مقامی افراد کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کھار ڈیم پانی سے بھر گیا ہے جس کے بند انتہائی کمزور ہوگئے ہیں اور کسی وقت بھی بند ٹوٹنے کا خطرہ ہے ، کہا جاتا ہے اگر بند ٹوٹ گیا تو موئیدان کے علاقوں کے علاوہ پانی گڈاپ شہر کو بھی ڈبا دیگا ، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں سے مزید پانی کا بڑا ریلا ملیر ندی ، سکھن ندی ، تھدو ندی اور ڈیموں کی پیش قدمی کر رہا ہے جس سے مزید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، کھدیجی ندی اور ملیر ندی میں پانی بھر جانے سے سینکڑوں دیہاتوں کا ایک دوسرے سے رابطہ کٹ گیا ہے جن میں عبدالرحمان چھٹو گوٹھ ، حاجی آغیانی ، بچو گوٹھ ، عیسی شیخ و دیگر گوٹھ ندی پر لوہی پر تعمیر نہ کیا جانے کے باعث مکمل طور پر منقطع ہوگئے ہیں جہاں سے مریضوں کو ہسپتال اور مکینوں کو خوراک پہچانا مشکل ہوگیا ہے ، کراچی کے ساحلی علاقے مبارک گوٹھ سے خدا گنج شاد نے بتایا کہ موسلا دھار بارش اور سمند ر کی تغیانی کے باعث مقامی ماہی گیروں کی سمندر کنارے کھڑی تیس سے زائد کشتیاں ڈوب گئی ہیں جبکہ ابراہیم حیدری ، ریڑھی ، چشمہ گوٹھ میں سمندری اور برساتی پانی داخل ہوگیا ہے ، گلشن حدید ، پپری، بھینس کالونی ، یوسف گوٹھ ، میمن گوٹھ ، گڈاپ ، درسنہ چھنہ ، اولڈ تھانہ ، بکرا پڑی و دیگر علاوقوں میں موجود پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث علاقہ مکین شدید دشواری کا شکار ہیں ، ادھر گڈاپ میں اطلاعات ہیں کہ ضلع کاؤنسل کے کاؤنسلر منظور بلوچ کی گاڑی برسات کے پانی میں ڈوب گئی ، کاؤنسلر کو مقامی افراد نے ڈوبنے سے بچالیا ، انتظامیہ نے الرٹ جاری کیا ہے کہ ماہی گیر سمندر میں اور لوگ ندی نالوں اور ڈیمز کی طرف جانے سے گریز کریں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -