چارسدہ‘ اُتمانزئی بی ایچ یو بنیادی سہولیات سے محروم

چارسدہ‘ اُتمانزئی بی ایچ یو بنیادی سہولیات سے محروم

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) اتمانزئی بی ایچ یو بنیادی سہولیات سے محروم۔20 ہزار کے آبادی کے لیے بنائے گئے اس ہسپتال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں۔معمولی بیماری کے تشخیص اور علاج کے لیے دور دراز کے ہسپتالوں کو جانا پڑتا ہے۔صحت کے انصاف کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔حاجی عبداللہ راہنما قومی وطن پارٹی۔تفصیلات کے مطابق قومی وطن پارٹی کے صوبائی رہنما حاجی عبداللہ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ تبدیلی سرکار مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے صحت کے انصاف کے دعوے جھوٹے اور کاغذوں تک محدود ہے صوبے کے عوام صحت کے لیے ترس رہے ہیں اگر کسی کو صحت کا انصاف دیکھنا ہے تو اتمانزئی آ کر دیکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ اتمانزئی کی آبادی 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے مگر اتنی آبادی کے لیے صرف ایک بی ایچ یو ہے جن میں کوئی بھی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہے بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔لیڈی ڈاکٹر کے نہ ہونے کی وجہ سے مریض پرائیویٹ ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہے۔ اور یا پھر دور دراز کے ہسپتالوں کو جانے پر مجبور ہیں جو ان غریب مریضوں کی بس کی بات نہیں ہے انہوں نے صوبائی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اتمانزئی بی ایچ یو کو آپ گریڈ کر کے آر ایچ سی بنایا جائے۔تاکہ اتمانزئی کے عوام کے مشکلات کم ہو سکیں بصورت دیگر عوام کو ساتھ لے کر صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلی ہاوس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -