پولیو کے موذی مرض کی مکمل بیخ کنی کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں‘ڈی سی کوہاٹ

پولیو کے موذی مرض کی مکمل بیخ کنی کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں‘ڈی سی کوہاٹ

  

پشاور (سٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر کوہاٹ اکمل خان خٹک نے پولیو کے موذی مرض کی مکمل بیخ کنی کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کوسختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پولیو کو سنجیدگی سے لیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط اور قریبی رابطہ رکھیں کیونکہ یہ انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے اس میں کسی قسم کی ٖغفلت یا کوتاہی کی گنجائش نہیں۔یہ ہدایات انہوں نے اپنے دفتر میں ضلعی انسدادپولیوکمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں دوسروں کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوہاٹ فضل قادر خٹک ، اسسٹنٹ کمشنر لاچی پیاؤ خان اورصحت و دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں پولیو مہم کو ہرلحاظ سے کامیاب بنانے کے لئے پولیو ٹیموں کو فعال بنانے، ان کی مانیٹرنگ کرنے اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ18 تا21 ستمبر 2017 سے شروع ہونیوالے مہم میں کوہاٹ کے 33 یونین کونسلز میں5سال سے کم عمر کے1لاکھ 93ہزار پانچ سو بچوں کو اینٹی پولیو قطرے پلا ئے جائیں گے جس کے لئے 184ایریا انچا رج اور 700ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو اینٹی پولیو قطرے پلائیں گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیوکا خاتمہ ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کی مکمل بیخ کنی کے لئے ہر ایک کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا سے اس موذی مرض کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی یہ موجود ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم کو ہر صور ت کامیاب بنانا ہمارا مشن ہے لہذا اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔اکمل خٹک نے کہا کہ یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ نومبر2014کے بعد کوہاٹ میں پولیو کا کوئی کیس رجسٹر نہیں ہوا ہے جس کا کریڈٹ تمام متعلقہ اداروں اور حکا م کوجاتاہے تاہم انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ پولیو کے خلاف مہم میں مزید تیزی لائیں اور ضلع کے 5سا ل سے کم عمر کے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائیں تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے نہ رہ جائے۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کہ وہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لئے اینٹی پولیو قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو فری پاکستان بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -