کرپشن میں حصہ دار صحت حکا م کی چشم پوشی نے ادویہ چوری بڑا سکینڈل بنادیا

کرپشن میں حصہ دار صحت حکا م کی چشم پوشی نے ادویہ چوری بڑا سکینڈل بنادیا

  

ملتان( وقائع نگار ) محکمہ صحت حکام کی چشم پوشی ملتان میں سرکاری ادویات (بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

چوری کے بڑے سکینڈل کا سبب بن گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت ملتان سے ادویات ٹیکنیکل طریقہ سے چوری کی جاتی رہیں اور محکمہ صحت حکام غفلت کا مظاہرہ کرتے رہے ۔ میڈیسن سٹور میں بری شہرت کے حامل اشتیاق بھٹی کو سٹور کیپر تعینات کیا گیا ‘ ذرائع اسکی وارداتوں کا موجودہ صحت حکم کو بخوبی علم تھا ‘ مگر اشتیاق بھٹی انہیں باقاعدگی سے ان کا حصہ ان کے گھر پہنچاتا رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چوری کی ٹیکنیکل واردات میں ہر دیہی و بنیادی مراکز صحت کو جاری کی جانیوالی ادویات میں کٹ لگایا جاتا اور محکمہ صحت دفتر کے سٹور میں دیہی و بنیادی مراکز صحت کا جو بھی نچلا عملہ ادویات کی سپلائی لینے آتا اسے بالخصوص مہنگی ادویات جاری تعداد میں سے کٹ یعنی کم کر کے دی جاتیں اور کسی بھی مرکز صحت کو جاری ادویات کی تعداد اگر 100 ہوتی تو عملے کو دھمکا کرصرف 80 یا 85 تعداد دی جاتی ‘ اس طرح ریکارڈ میں ادویات مرکز صحت کو جاری کر دی جاتیں‘مگر کٹ کی گئی تعداد کو سٹور میں رکھ لیا جاتا اور بھاری تعداد جمع ہونے پر مہنگے و سستے داموں آئٹمز کا سٹور کردیا جاتا ‘ یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری تھا مگر محکمہ صحت حکام نے خاموشی کی طرف توجہ دی ہوتی تھی جبکہ محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ ادویات چوری اشتیاق بھٹی کا انفرادی فعل ہے جس میں کسی افسر کی غفلت یا سرپرستی شامل نہیں ہے ‘ محکمہ صحت کو حصہ دینے کا الزام غلط ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -