عید پر گوشت کھانے سے پہلے یہ جان لیں!

عید پر گوشت کھانے سے پہلے یہ جان لیں!
عید پر گوشت کھانے سے پہلے یہ جان لیں!

  

اسلام میں دو عیدیں ہیں ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی۔ عیدالفطر ماہ رمضان کے اختتام پر ہوتی ھے جبکہ عیدالاضحی اس بے مثال قربانی کی یادگار ہے جو اللہ کے حضور حضرت ابراھیم نے پیش کی ۔یہ قربانی اللہ کے حضور اس قدر مقبول ھوئی کہ رہتی دنیا تک ہر سال عید الاضحی پر مسلمانوں پر فرض کر دی گئی کہ ہر صاحب حیثیت مسلمان جانور قربان کرکے سنت ابراھیمی کو زندہ رکھے۔یہی وجہ ہے کہ ہر سال عید الاضحی پر مختلف جانور جن میں بکرا ، دنبہ،چھترا،گائے، اونٹ اور بیل کی صورت قربانی کرتے ہیں اور یوں سنت ابراھیمی کی یاد تازہ کرتے ھیں ۔

جانور کوئی بھی ہو اس کا گوشت پروٹین سے بھر پور ہوتاہے، اسکی کھال اور گوشت ہمارے لئیے جبکہ نیت اورقربانی ربّ کعبہ کیلئیے ہوتی ھے۔ گوشت پروٹینز سے بھر پور ہوتا ھے اور یہ متوازن غذا کا اہم جزو ہے ۔ ماہرین طب وصحت کے مطابق ایک فرد کے لئیے روزانہ ایک سو گرام کی مقدار کافی ھے جبکہ اس سے زیادہ استعمال مضر ہے۔

عید بقر پر گوشت کی فراوانی ہوتی ہے تو دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ وافر مقدار میں کھا کر بد ہضمی ، اسھال ،پیٹ درد، اور بخار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی گوشت کا بکثرت استعمال امراض قلب،جوڑوں کا درد،بلڈ پریشر اور کینسر کا سبب ہوسکتا ہے ۔یوں فوائد کی بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔ جہاں تک گوشت کا تعلق ہے ۔اسکی خاص غذائی اہمیت ہے۔اس کا متوازن کھاناصحت کے لئیے مفید اورضروری ہے مگر حد اعتدال سے تجاوز کرنا مسائل صحت پیدا کرتا ہے۔ اس لئیے عید قرباں پر گوشت ضرور کھائیے مگر توازن کا دامن نہ چھوڑئیے ۔اس طرح آپ گوشت کے ثمرات حاصل کر سکتے ہیں۔

قربانی کے تمام جانوروں کی اپنی اھمیت ہے مگر بکرے کا گوشت سے اچھا ہوتا ھے ۔جسم انسانی کیلئیے جو متوازن غذا ضروری ھے اس میں گوشت کو جو پروٹینز سے بھر پور ہے کو اہمیت حاصل ہے۔اس لئیے عید پر ضرور کھائیے مگر احتیاط کے ساتھ۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عید پر گوشت کو نفاست سے نہیں بنایا جاتاپھر گوشت کھانے کے بعد دانتوں کو صاف بھی نہیں کیا جاتا۔جس سے دانتوں اورمسوڑوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، زیادہ مقدار میں گوشت کا استعمال معدہ کی جھلیوں میں سوزش کا باعث ہو سکتا ہے۔گوشت کو زود ہضم بنانے کے لئے کم مصالحے میں بنایا جائے اور ساتھ سلاد کی صورت پھل سبزیاں لیں تاکہ جسم کو فائبر ملتا رہے۔جوڑوں کے درد امراض قلب اور ھائی بلڈپریشروجگر کے مریض سنت کے طور تھوڑا سا لے لیں۔ جہاں تک فریز کرنے کا تعلق ہے تو کو شش کریں کہ آٹھ دس روز سے زیادہ نہ رکھیں اور جلد از جلد کھا لیں۔آجکل ویسے بھی لوڈشیڈنگ کا دور دور ہے،جس سیگوشت خراب ھونے کا خدشہ ہو تا ہے۔

گوشت کو پکانے کیلئے عام تیل گھی چربی اور مکھن کی بجائے زیتون ،سویا بین، کنولاآئل اسعمال کریں اور گوشت پکاتے وقت زیرہ، پودینہ،الائچی اور رائتہ کااستعمال ضرور کریں تاکہ درست ہضم ھو۔گوشت کے ساتھ پودینہ اورزیرہ کا رائتہ اور چٹنی ضرور لیں ۔

ہمارے ہاں زیادہ تر قربانی بکرے اونٹ گائے کی ہوتی ہے اور یہی گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے ۔ اونٹ کا گوشت گائے کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔ البتہ یہ نمکین ہوتا ہے۔اس لیے ھائی بلڈ پریشر کے مریض نہ لیں۔ اونٹ کا گوشت پرانے بخاروں، یرقان، ھیپاٹاٹیس امراض جگر،جوڑوں کے درداور امراض قلب میں میں مفید ہے۔ بکرے کے گوشت کی ایک خوبی یہ ھے کہ اسمیں چربی کم ہوتی ہے۔ جلد ہضم ہوتا اورطبیعت کو بوجھل نہیں کرتا۔عید پر اللہ نے ہمیں موقع دیا ھے کہ ھم سب اس نعمت سے استفادہ کریں اور اپنے غریب بھائیوں کو بھی تقسیم کریں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -