پی سی بی انکوائریوں میں بے گناہ کھلاڑیوں نے شامل تفتیش کھلا ڑ یو ں کی فہر ست سے اپنے نا م ہٹا نے کا مطا لبہ کر دیا

پی سی بی انکوائریوں میں بے گناہ کھلاڑیوں نے شامل تفتیش کھلا ڑ یو ں کی فہر ست ...
پی سی بی انکوائریوں میں بے گناہ کھلاڑیوں نے شامل تفتیش کھلا ڑ یو ں کی فہر ست سے اپنے نا م ہٹا نے کا مطا لبہ کر دیا

  

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپر لگائے جانے والے الزامات اور کی گئی انکوائریوں میں بے گناہ پانے والے کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ انکے نام ان فہرستوں سے ہٹا دیے جائیں جہاں ان پر الزامات لگے اور بے گناہ قرار دیے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق میچ فکسنگ کے حوالے سے سلیم ملک کے خلاف الزامات پرجسٹس ر فخر الدین جی ابراہیم نے انکوائری کی اور مختلف کرکٹرز کے خلاف جسٹس اعجاز یوسف،نصرت عظیم اور میاں محمد غیر کی جانب سے بھی متعدد انکوائری کی گئی تھیں۔پاکستان سپر لیگ 2017میں کھلاڑیوں پر الزامات کے حوالے سے ابھی تک انکوائری جاری ہے جس کا فیصلہ تاحال نہ کیا گیا ہے ۔جسٹس فخر الدین انکوائری میں کسی پر الزامات ثابت نہ ہوئے اور اگست 1998میں جسٹس اعجاز یوسف کی جانب سے کی گئی انکوائری میں کسی کھلاڑی پر الزامات ثابت ہو سکے ہیں ،مئی 2000میں جسٹس قیوم ملک کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کی گئی اور اس میں سلیم ملک اور عطاء الرحمن کو مجرم ٹھہرایا گیا اور انکو بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جس میں میں سلیم ملک کو دس لاکھ اور عطاء الرحمن کو چار لاکھ روپے جرمانہ کے ساتھ عمر بھر کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔وسیم اکرم،مشتاق احمد،وقار یونس،انضمام الحق،اکرم رضااور سعید انور کے خلاف ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر جرم ثابت نہ ہو سکا تھاتاہم وسیم اکرم کو 3لاکھ،مشتاق احمد کو تین لاکھ کے علاوہ باقی کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پر کھلاڑیوں نے فیصلہ کیا ہے ان کا نام تفتیش میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کی فہرست ہٹایا جائے ۔

مزید :

کھیل -