خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد913، پشاور213 کے ساتھ پہلے نمبر، مانسہرہ دوسرے اورمردان تیسرے نمبر پرہے: قومی ادارہ شماریات

خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد913، پشاور213 کے ساتھ پہلے نمبر، ...
خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد913، پشاور213 کے ساتھ پہلے نمبر، مانسہرہ دوسرے اورمردان تیسرے نمبر پرہے: قومی ادارہ شماریات

  

پشاور(اے پی پی ) حالیہ مردم شماری کے مطابق خواجہ سرا ملک کی مجموعی آبادی کا0.005 فیصد یعنی10ہزار418کی تعداد میں ہیں، صوبہ پنجاب 6 ہزار709 خواجہ سراؤں کے ساتھ پہلے نمبر، صوبہ سندھ دوہزار527کے ساتھ دوسرے اورصوبہ خیبرپختونخوا913کے ساتھ تیسرے پرہے ،بلوچستان میں109،فاٹا میں27 اوراسلام آبادمیں113خواجہ سراء مردم شماری کے دوران رجسٹرڈہوئے ہیں۔ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کل دس ہزار418 خواجہ سراء مقیم ہیں جن میں سے دوہزار767دیہاتی علاقوں میں اورسات ہزار651 شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں پنجاب کے اندر دوہزار124دیہاتی علاقوں اورچارہزار585 شہری علاقوں میں،سندھ میں 301 دیہاتی اوردوہزار 226 شہری علاقوں میں،خیبرپختونخوامیں223 دیہاتی اور690شہری علاقوں میں رہ رہے ہیں اسی طرح صوبہ بلوچستان میں 40 دیہاتی اور69 شہری علاقوں میں، اسلام آباد میں52دیہاتی اور81 شہری علاقوں میں جبکہ فاٹامیں تمام خواجہ سراء جن کی تعداد27ہے ،دیہاتی علاقوں میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق صوبہ خبیرپختونخواکے 25اضلاع میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد913 ہے جن میں سب سے خواجہ سراؤں کی تعدادضلع پشاورمیں یعنی231 ہے مانسہرہ156تعدادکے ساتھ دوسرے اورضلع مردان121کے ساتھ تیسرے نمبرپرہے ۔اسی طرح بنوں میں9،لکی میں9،ڈیرہ میں45، ٹانک میں4،ایبٹ آباد میں61،بٹگرام میں10،ہری پورمیں67، تورغرمیں8، کوہستان میں9، ہنگومیں8، کرک میں3، کوہاٹ میں43، صوابی میں43، چارسدہ میں21، نوشہرہ میں40، بونیرمیں5، سوات میں52،لوئردیرمیں6 اورملاکنڈایجنسی میں3خواجہ سراء رجسٹرڈہوئے ہیں ۔ضلع چترال،شانگلہ اوراپردیرمیں ایک ایک خواجہ سراء موجود ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق قبائلی علاقوں(فاٹا)میں موجود27خواجہ سراؤں میں سے خیبرایجنسی میں11، کرم ایجنسی میں3، نارتھ وزیرستان میں7،ساؤتھ وزیرستان میں2اورباجوڑایجنسی میں4خواجہ سراء رجسٹرڈہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ فاٹاکے دوقبائلی ایجنسی مہمندایجنسی اور اورکزئی ایجنسی سمیت چھ فرنٹئرریجنزمیں کوئی بھی خواجہ سراء موجود نہیں۔مردم شماری کے حالیہ عبوری نتائج نے خواجہ سراؤں سے متعلق غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے متضاداعدادوشمار کاپول کھول دیاہے جنہوں نے پاکستان میں20لاکھ اورخیبرپختونخوامیں پچاس ہزار کے قریب خواجہ سراؤں کی موجودگی کاانکشاف کیاتھا ۔

غیرکاری تنظیموں نے خواجہ سراؤں سے متعلق قومی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کو مستردکیا ہے جن کاموقف ہے کہ خواجہ سراؤں کی بیشترتعداد قومی شناختی کارڈز سے محروم ہے توپھرخواجہ سراؤں کی مردم شماری کس بنیاد پرکی گئی ہے۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ مالی سال2015-16 ء سے قبل خواجہ سراؤں کیلئے 20کروڑروپے کی منظوری دی تھی جس میں دس کروڑرواں مالی سال اور دس کروڑمالی سال2017-18ء میں جاری کئے جانے تھے جس کے تحت بڑے خواجہ سراؤں کیلئے ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز،کمروں کی تعمیر،ادویات کی فراہمی،صحت انصاف کارڈاورعلاج معالجے کی دیگرسہولیات ،فنی تعلیم اور اسکے علاوہ دیگرکلاسزکاانعقاد یقینی بناناتھا محکمہ سماجی بہبودخیبرپختونخوا کے سروے میں خواجہ سراؤں کی تعدادکم دیکھ کر حکومت نے فنڈز میں کٹوتی کر دی اور20کروڑکی بجائے صرف چھ کروڑکی منظوری دی۔مردم شماری کے بعد اب خدشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ اس فنڈزمیں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔

مزید :

پشاور -