فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 198

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 198
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 198

  

چائے کے بعد طارق صاحب نے نئے سِر ے سے کہانی سنائی اور اتنی اچھّی طرح سنائی کہ خود ہمیں بھی بہت اچھّی لگی۔

سنتوش صاحب نے ہم سے کہا ’’آپ کیلئے میرا ایک مشورہ ہے بلکہ نصیحت سمجھ لیجئے۔‘‘

’’ارشاد! ‘‘ہم ہمہ تن گوش ہوگئے۔

’’آئندہ بھول کر بھی کسی کو کہانی نہ سنائیے گا ورنہ بے روزگار ہو جائیں گے۔ ‘‘

فلم کے آغاز میں سنتوش صاحب کا کردار تھا جس کے بعد وہ کار کے حادثے میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 197 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کہانی سننے کے بعد انہوں نے سگریٹ سلگائی اور مخصوص انداز میں مٹھّی میں دبا کر کش لگانے لگے پھر سنجیدگی سے کہنے لگے’’ کہانی تو بہت اچھّی ہے مگر مجھے اتنی جلدی مار دیا۔‘‘

ہم نے سنجیدگی سے کہا ’’اسی لئے تو اتنی اچھّی ہے۔ ‘‘

’’کیا مطلب‘‘ انہوں نے ہمیں گھورا۔

ہم نے کہا ’’سنتوش صاحب آپ کے مرنے کے بعد ہی تو اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اگر آپ زندہ رہیں گے تو یہ کہانی کیسے چلے گی؟ ‘‘

’’یہ بات تو ہے!‘‘ وہ مان گئے ’’بڑے استاد ہو۔ نامعقول بات پر بھی قائل کرلیتے ہو۔‘‘

’’آپ کی خدمت میں کیا نذرانہ پیش کیا جائے۔‘‘

بولے ’’نذرانہ نہیں‘ جرمانہ اتنے چھوٹے سے کام تو تو جرمانہ ہی ہو سکتا ہے۔‘‘

بہرحال ہم نے انہیں مہمان اداکار کے طور پر ایک رقم بتائی اور ساتھ ہی ایک تقریر بھی شروع کر دی ’’دراصل یہ معاوضہ نہیں ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ ایک گفٹ ہے بات یہ ہے کہ۔۔۔‘‘

انہوں نے بات کاٹ دی ’’مولانا! باقی تقریر رہنے دیجئے آپ جو کہتے ہیں بالکل بجا کہہ رہے ہیں۔‘‘

’’گویا آپ کو منظور ہے‘‘

’’اب سٹامپ لکھوائیں گے یا قاضی کو بلانا پڑے گا؟ ‘‘

’’چلئے یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا۔‘‘

ہم نے دوبارہ تقریر چھیڑ دی۔ ’’صبیحہ بھابھی کا معاوضہ۔۔۔ ‘‘

انہوں نے ہماری بات کاٹ دی ’’میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ جانیں اور آپ جانیں۔ خود ان ہی سے بات کر لیں۔‘‘ اسی رات ہم دوبارہ صبیحہ خانم کے گھر جا دھمکے۔

ہم سارے راستے طارق صاحب سے کہتے رہے کہ ان سے پیسوں کی بات وہ طے کریں اور وہ ہم سے کہتے رہے کہ پروڈیوسر آپ ہیں اس لئے یہ آپ ہی کی ذمہّ داری ہے۔

کوٹھی پر پہنچ کر جب صبیحہ خانم ڈرائنگ روم میں آئیں تو طارق صاحب بیڈروم میں سنتوش صاحب کے پاس جا بیٹھے۔ جاتے جاتے ہمیں اشارہ کر گئے کہ بات کر لیجئے۔

صبیحہ خانم نے ہم سے کہا’’ آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں۔ ‘‘

’’آپ کے انتظار میں‘‘

’’میرے انتظار میں ‘‘وہ حیران ہو کر بولیں۔

’’جی وہ دراصل مالی معاملات تو ابھی طے ہی نہیں ہوئے۔‘‘

’’اچھّا اچھّا‘‘ وہ ہنسنے لگیں۔

ہم نے بات چھیڑی’’ دیکھئے یہ ہماری پہلی پہلی فلم ہے اس لئے آپ ہمارے ساتھ کچھ لحاظ کریں۔ ‘‘

’’کیا میں آپ کا لحاظ نہیں کرتی۔ اتنی عزّت تو کرتی ہوں۔‘‘

’’ہمارا مطلب یہ ہے کہ پیسوں کے معاملے میں۔‘‘

طارق صاحب دوسری طرف چلے تو گئے تھے مگر ان سے نہ رہا گیا تو اٹھ کر وہیں چلے آئے۔ اب مشکل یہ تھی کہ رقم نہ وہ بتا رہی تھیں اور نہ ہم بتا رہے تھے۔ طارق صاحب نے اپنی طرف سے ایک رقم بتائی جو انہوں نے منظور کر لی۔ یہ رقم اتنی تھی کہ ہماری فلم کے دونوں ہیروز اور ایک ہیروئن کا معاوضہ ملا کر بھی اس سے کم تھا۔ ہم تلملا کر رہ گئے۔

واپسی پر ہم خاموش سے تھے۔

’’کیوں ٹھیک ہوگیا نا؟‘‘ طارق صاحب نے پوچھا۔

’’ٹھیک تو ہے مگر یہ تو بہت زیادہ ہے۔‘‘

وہ بولے’’ آفاقی صاحب آپ کو تو معلوم ہے کہ جب ہیروئن تھیں تو وہ کتنا معاوضہ لیا کرتی تھیں۔ دنیا کے دوسرے ملکوں میں تو کریکٹر کرنے پر بھی بڑے فن کاروں کا معاوضہ کم نہیں ہوتا مگر ہمارے ہاں حساب ہی الٹا ہے۔ سینئر اور تجربہ کار فن کاروں کو نئے آنے والے ہیرو اور ہیروئن کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا معاوضہ کم ہوتا جاتا ہے۔ ‘‘

ہم چپ رہے ۔ان کی بات بالکل درست تھی۔

وہ جوش میں آ کر بولے۔ ’’صبیحہ بہت بڑی آرٹسٹ ہے۔ انڈیا میں بھی اس کے مقابلے کی آرٹسٹ نہیں ہے۔ یہ کریکٹر صبیحہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ہمارا بہت لحاظ کیا ہے ورنہ وہ جو بھی کہتیں وہ کم تھا۔‘‘

حسن طارق میں یہ بڑی خوبی تھی کہ وہ فنکاروں کے قدر دان تھے۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ انہیں سبھی کچھ دے دیں لیکن ہماری فلموں کے پاکستانی فلم ساز فن کار ایسے بھی تھے جن کے مقام کی مناسبت سے وہ بدرجہا زیادہ معاوضے کے حق دار تھے۔

اب ہماری فلم ’’مجبور‘‘ کا نام ’’کنیز‘‘ ہو چکا تھا اور اس میں اب صبیحہ خانم مرکزی کردار سرانجام دے رہی تھیں۔ صبیحہ خانم کے راضی ہونے کے بعد ہمارے دل پر سے جیسے ایک بہت بھاری بوجھ ہٹ گیا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا کہ جس نے بھی سنا حیران رہ گیا۔ وہ کئی فلم سازوں کے پُرزور اصرار کے باوجود صاف جواب دے چکی تھیں مگر ہم تو جیسے بقول سنتوش صاحب ’’بیری کی جھاڑی کی طرح‘‘ ان کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ اور بالآخر انہیں منا کر ہی دم لیا۔

شاعر کا یہ کہنا‘ ہمارے لئے بالکل درست ثابت ہوا تھا کہ ہمّت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔

محمد علی صاحب کی فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ کی نمائش کے بعد انہیں ویلن کے طور پر کراچی کی فلموں میں کردار ملنے لگے تھے‘ وجہ وہی بھیڑ چال تھی ۔وہ اپنی پہلی فلم میں ویلن کے طور پر کاسٹ کئے گئے تھے۔ اس لئے ان پر ویلن کا ٹھپّا لگ گیا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتا جا رہا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد محمد علی کراچی سے لاہور آئے تو جس نے انہیں دیکھا ان کا مدّاح ہوگیا۔ صورت‘ شکل‘ دراز قامت‘ چال ڈھال‘ انداز و اطوار‘ آواز اور لب و لہر کی وجہ سے وہ ہر جگہ نمایاں تھے۔ سرخ و سفید رنگت‘ گفتگو کا شائستہ اور دلکش انداز‘ خوش لباس‘ بنے بنائے ہیرو تھے۔ مردانہ وجاہت ان پر ختم تھی لیکن ان کی شخصیت میں چاکلیٹ ہیرو والی کوئی بات نہ تھی۔ جس نے دیکھا اور ان سے ملا یہی فیصلہ دیا کہ محمد علی کی شکل میں پاکستان کی فلمی صنعت کو ایک بہت اچھّا ویلن مل گیا ہے۔ حالانکہ ان کی شخصیت میں ایسا مردانہ وقار اور بانکپن تھا کہ وہ ہیرو پر بھی حاوی نظر آتے تھے۔

لاہور میں محمد علی نے ’’انڈس ہوٹل‘‘ میں قیام کیا۔ مال روڈ پر واقع اس ہوٹل کا نام پہلے انفسٹن ہوٹل تھا اور یہ قیام پاکستان سے پہلے بھی لاہور کا ایک اچھا ہوٹل سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد الیاس رشیدی صاحب لاہور آتے تو وہ بھی اسی ہوٹل میں قیام کرتے تھے۔ اوّل تو اس زمانے میں سبھی ہوٹلوں کے کرائے معقول اور بہت کم تھے لیکن انفسٹن ہوٹل اپنے جائے وقوع‘ کرایوں کی معقولیت اورسروس وغیرہ کے اعتبارسے بہت ہی مناسب تھا۔ لاہور کے مرکز میں واقع ہونے کیوجہ سے آمد و رفت میں بھی کوئی مشکل نہ تھی۔ یہاں ٹرانسپورٹ بہت آسانی سے دستیاب ہو جاتی تھی پھر یہ کہ لاہور کے دل مال روڈ کی زینت تھا۔ اس میں کمروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی اس لئے زیادہ ہجوم بھی نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد اسے ازسرنو تعمیر و مرمت کے بعد انڈس ہوٹل کا نام دیا گیا تو یہ بالکل نیا بن گیا۔ کمرے آرام دہ اور روشن تھے۔ نچلی منزل پر ڈائننگ ہال تھا اور یہیں ایک کونے میں بار بھی تھا۔ شراب کے بار اس زمانے میں ہر ہوٹل اور کلب کے ساتھ نتھّی ہوتے تھے اور ’’معززّین‘‘ وہاں بڑے ٹھاٹ سے بیٹھ کر مے نوشی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ پابندی بھی نہیں تھی کہ محض ہوٹل میں قیام کرنے والے ہی ’’بار‘‘ سے مستفیض ہو سکتے ہیں‘ ہر ایک کے لئے صلائے عام تھی۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 199 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -