قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 55

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 55
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 55

  

وہ زمانہ کچھ ایسا تھا کہ سب ہی زیادہ پیتے تھے لیکن جالب صاحب کچھ زیادہ ہی پی جاتے تھے اور اس کے بعد ان کی شوخیاں سامنے آتی تھیں جو بعض اوقات حد سے بڑھی ہونے کی وجہ سے کچھ ناگوار ہو جاتی تھیں۔ میں نے بمبئی سے حیدر آباد کے لئے روانہ ہونے سے قبل ان سے کہا تھا کہ میں اور آپ ایک ساتھ تو رہیں گے لیکن اس شرط پر کہ میں آپ کے پینے کے معاملے میں باقاعدہ مداخلت کروں گا اور آپ پر سنسر لگاؤں گا کہ آپ کو کتنی پینی ہے۔ کہنے لگے کہ بالکل یہ تو ہونا ہی چاہیے۔

جب ہم حیدر آباد آگئے تو انہوں نے میرے علاوہ تو جوکیا سو کیا۔ لیکن میری موجودگی میں بھی ایک واقعہ کیا۔ ہم ایک ریستوران میں بیٹھے تھے وہاں مرحوم شاعر شاہد صدیقی اور کچھ دوسرے لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ہمارے درمیان دو پیگ کا معاہدہ تھا ۔ ان کے دو پیگ پورے ہوئے تو اس دوران شاہد صدیقی اور ان کے ایک دوساتھیوں نے جو دوسرے ٹیبل پر بیٹھے تھے انہیں حیدر آبادی اندازمیں سلام کیا۔ یہ سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہی خود بھی اٹھ کر ان کی میز پر چلے گئے۔ انہوں نے ایک اور پیگ دیا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر وہ بھی اٹھا لیا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 54  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دو پیگ وہاں سے اور لگانے کے بعد انہوں نے اپنی غزل شروع کر دی۔ میں نے شاہد صاحب سے کہا کہ مولانا اب کام سے گئے۔ ان کی عادت تھی کہ جب زیادہ پی لیتے تھے تو جو غزل کی فرمائش کرتا ،اسے غزل سنانی شروع کر دیتے تھے۔ ہم چونکہ فارغ ہو چکے تھے اس لئے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے غزل ختم کی تو میں نے کہا کہ آئیے کہنے لگے آتا ہوں اور پھر ایک اور غزل شروع کر دی ۔ جب یہ بھی ختم ہوئی تو میں نے کہا کہ اب تو آئیے۔ کہنے لگے کہ قتیل صاحب آپ بھی محتسب بن جاتے ہیں کبھی تو ہمیں کھلا رہنے دیجئے میں نے کہا اچھا بیٹھے رہیں، اس وقت سے تم کھلے ہو۔

شاہد صدیقی کچھ گرم ہونے لگے تو میں نے کہا کہ نہیں اب اسے آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔ دل کا بہت اچھا آدمی ہے ۔ بس یہی ایک کمزوری ہے کہ زیادہ پی لے تو یہ حال ہوجاتا ہے ۔ ہم نے جالب صاحب کو چھوڑا اور خود وہاں سے اٹھ کر ادھر گھومنے کیلئے چلے گئے۔ اب میں اور جالب ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب میں بارہ بجے شب کے قریب اپنے کمرے میں جا کر سوگیا تو یہ ابھی نہیں آئے تھے۔

چار بجے کے قریب کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ میں نے اٹھ کر دیکھا تو یہ جالب صاحب تھے۔ حلیہ ایسا تھا جیسے کسی نے بہت پیٹا ہو۔انہوں نے آتے ہی میرے پاؤں پکڑ لئے۔ اپنے آپ کو بہت سی گالیاں دیں اور کہنے لگے کہ میں بہت ایسا ویسا ہوں ‘آپ کی بات نہیں مانتا اور نتیجہ برا نکلتا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ ہوا کیا ہے ۔ کہنے لگے کہ میں گانا سننے کیلئے چلا گیا تھا اور وہاں جا کر تھوڑی سی اور پی لی۔ گانا سنتے سنتے میں سوگیا۔ تین بجے کے قریب آنکھ کھلی تو وہاں سے نکل آیا۔ تانگے میں بیٹھ کر یہاں تک آیا ہوں اورجب پیسے دینے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب خالی تھی‘ اس لئے جو آدمی باہر کھڑا ہے۔ پہلے تو اسے پیسے دیں۔ میں نے کہا کہ ظالم! پیسے تمہارے نہیں گئے بلکہ میرے گئے ہیں کیونکہ اب آگے کا سارا خرچ میرے ذمے ہو گا۔ چنانچہ اسے میں نے پیسے دیئے اور جالب صاحب سو گئے۔ مجھے اس واقعہ کا دکھ نہیں ہوا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ جہاں یہ جاتے ہیں وہاں یہ سب تو ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے حسب حال یہ شعر ٹھیک کہا ہے کہ:

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

لیکن اب اگر جالب صاحب کو دیکھیں تو وہ بہت ذمہ دار اور سلجھے ہوئے ہیں۔ ایسے ہے جیسے وہ کچا سونا تھا اور تجربات کی کٹھائی میں پڑ کے کندن بن گیا ہے۔ اس وقت تو وہ وہاں ہے جہاں اس کے کھاتے میں بہت سی قربانیاں اور اصول پرستیاں جمع ہیں اور وہ ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے ۔ خدا کرے کہ اس ملک میں اس کی جوشان ہے وہ برقرار رہے اور وہ کہیں اصول پر ستی کی سیاست میں فلور کراسنگ کا شکار نہ ہو جائے لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اس فلور کراسنگ کا شکار نہیں ہو گا۔

حیدر آباد کا یادگار مشاعرہ

جب ہم بمبئی سے روانہ ہو کر حیدر آباد ریلوے سٹیشن پر پہنچے ہی تھے تو ایک آدمی نے دور سے مجھے اشارہ کیا۔ میں نے حیدر آبادی شیروانی اور ترکی ٹوپی میں ملبوس اس شخص کے بارے میں اندازہ کیا کہ وہ حیدر آباد کا کوئی مسلمان ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو وہ کہنے لگے کہ کیا آپ مسلمان ہیں اور پاکستان سے آئے ہیں۔ میں نے کہا ہاں تو کہنے لگے کہ میں آپ سے بات کرتے ہوئے شرمندہ ہوں۔ یہاں کے مسلمانوں کی حالت آپ خود دیکھ لیں گے۔ میں اتنا مجبور ہوں کہ رات سے فاقے میں تھا اور صبح صبح نکل کر ادھر آیا ہوں۔ آپ کو دیکھا تو خیال آیا کہ آپ سے گزارش کروں کہ میری کچھ امداد کریں۔ آگے پھر اللہ مالک ہے ۔ وہ بالکل سچا نظر آرہا تھا چنانچہ جو کچھ میرے پاس تھا میں نے اسے دیا۔

یہاں سے پتا چلا کہ وہ حیدر آباد جہاں مسلمانوں کی بڑی شان و شوکت تھی‘ اب زوال کے اس نکتے پر پہنچ گیا ہے کہ مسلمان بہت تنگدست ہیں ۔ انڈین حکومت کے تسلط کے بعد حیدر آباد میں اگرچہ اجتماعی اعتبار سے کچھ ترقیاں ہوئیں لیکن مسلمانوں کی حالت دیکھ کر حیرت ہوتی تھی لیکن اس میں قصور حیدر آباد کے عام مسلمانوں کا بھی نہیں تھا بلکہ یہ قصور نظام دکن کا تھا جس نے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی اور رضا کار تحریک کے قاسم رضوی صاحب نے بھی تشدد کی تحریک چلا دی تھی اور یہ سمجھ کر کہ مسلمانوں کی حکومت ہے ‘ وہ نظام کے بھی مخالف تھے اور ہندوؤں کے بھی۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -