ساحل سمندر پر اچانک درجنوں لاشیں پانی کے ساتھ بہہ کر آگئیں، یہ مسلمان کون تھے؟ جان کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روئے گا

ساحل سمندر پر اچانک درجنوں لاشیں پانی کے ساتھ بہہ کر آگئیں، یہ مسلمان کون ...
ساحل سمندر پر اچانک درجنوں لاشیں پانی کے ساتھ بہہ کر آگئیں، یہ مسلمان کون تھے؟ جان کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روئے گا

  

ینگون(نیوز ڈیسک) دنیا نے خس و خاشاک کو تو پانی کی لہروں کی ساتھ بہتے دیکھا ہو گا لیکن ظلم کی انتہاءدیکھئے کہ بنگلہ دیشی سمندر کے کنارے درجنوں مسلمانوں کی لاشیں لہروں کے ساتھ بہتی ہوئی آن پہنچیں۔ یہ بدنصیب میانمر سے جان بچاکر بنگلہ دیش کا رخ کرنے والے روہنگیا مسلمان تھے، جو اپنی منزل پر تو نہ پہنچ پائے البتہ کشتی راستے میں ڈوبنے سے انہیں موت ضرور مل گئی۔ گزشتہ دو دن کے دوران روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا ًدو درجن لاشیں ساحلی علاقے سے ملی ہیں۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق میانمر میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی سے بچنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں یہ لوگ بنگلہ دیش کی جانب فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشتیاں راستے میں ڈوب جانے سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈوبنے والوں میں سے 11 بچوں اور خواتین کی لاشیں جمعرات کے روز بنگلہ دیش کے ساحل سے ملیں۔ اس سے پہلے بدھ کے روز بھی کچھ خواتین اور بچوں کی لاشیں پانی سے نکالی گئیں۔

وہ علاقہ جہاں پچھلے 3 دن میں 3ہزار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور ہم سب خاموش بیٹھے ہیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میانمر کے رخائن صوبے میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ عروج پر ہے۔ گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ محض تین دن میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقامی بدھ مت آبادی بھی مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے، جبکہ ان کے مال مویشی لوٹ کر ان کے گھروں کو آگ لگانے کا سلسلہ بھی جا رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -