ناکے پر پولیس والے نے منشیات فروش کو ایک لاکھ روپے سمیت گرفتار کرلیا لیکن جب پولیس سٹیشن پہنچے تو پیسے غائب، تلاشی لی تو پیسے کہاں سے ملے؟ ایسی جگہ سے کہ پولیس والوں کے اپنے ہی چہرے شرم سے لال ہوگئے

ناکے پر پولیس والے نے منشیات فروش کو ایک لاکھ روپے سمیت گرفتار کرلیا لیکن جب ...
ناکے پر پولیس والے نے منشیات فروش کو ایک لاکھ روپے سمیت گرفتار کرلیا لیکن جب پولیس سٹیشن پہنچے تو پیسے غائب، تلاشی لی تو پیسے کہاں سے ملے؟ ایسی جگہ سے کہ پولیس والوں کے اپنے ہی چہرے شرم سے لال ہوگئے

  

فلوریڈا (نیوز ڈیسک) دنیا کی تاریخ جرائم اور مجرموں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن کسی ملک کی پولیس نے آج تک ایسا مجرم نہیں دیکھا ہوگا جس کے جسم کے پچھلے حصے سے نوٹ جھڑتے ہوں۔ یہ شرمناک منظر امریکی شہر فلوریڈا کی پولیس کو دیکھنا پڑ گیا، جس کے اہلکاروں نے ایک منشیات فروش کے جسم کے پچھلے حصے سے 1000ڈالر (تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے) برآمد کر لئے۔

ویب سائٹ ’ورلڈ وائرڈ ویئرڈ‘ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماریان کاﺅنٹی شیرف دفتر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز ڈپٹی کیلون بیٹس نے ایسٹ ہائی وے 40 پر ایک سیاہ فام شخص کو روکا تو اس کی گاڑی سے چرس کی بدبو آرہی تھی۔ جب گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 197 گرام میتھا مفیٹا مین، راک کوکین اور چار گرام ہیروئن برآمد ہوئی، جبکہ گاڑی میں موجود 26 سالہ شخص پیٹرین ٹوکس کے پاس بھاری رقم بھی موجود تھی۔

ماں نے پیسے دینے سے انکار کیا تو نوجوان بیٹے نے اسے قتل کرکے اس کی لاش چٹنی میں ڈبودی اور پھر۔۔۔ ایسا خوفناک واقعہ کہ کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا

اہلکار اس شخص کوپولیس سٹیشن لے کر گئے لیکن جب تفتیش شروع ہوئی تو پتا چلا کہ رقم غائب تھی۔ پہلے تو یہ سمجھا گیا کہ ملزم نے رقم کہیں ادھر اُدھر پھینک دی تھی لیکن جونہی اہلکاروں نے اسے کھڑا ہونے کا حکم دیا تو اس کے جسم کے پچھلے حصے سے نوٹ گرنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر اہلکاروں کو کچھ اندازہ ہوا کہ رقم کہاں گئی تھی، اور جب ملزم کو برہنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس نے تقریباً 1000 ڈالر کی رقم جسم کے پچھلے حصے میں ٹھونس رکھی تھی۔

فلوریڈا پولیس نے اس دلچسپ و عجیب واقعے کا انکشاف اپنی ویب سائٹ پر کیا، اور ساتھ ہی عوام کو خبردار کرتے ہوئے یہ پیغام بھی دیا کہ ”کرنسی نوٹوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھ بہت اچھی طرح صاف کر لیا کریں کیونکہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ نوٹ کیسی کیسی جگہوں سے ہوکر آتے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -