بے نظیر بھٹو قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری،استغاثہ گرفتار ملزمان پر جرم ثابت نہیں کرسکا

بے نظیر بھٹو قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری،استغاثہ گرفتار ملزمان پر جرم ثابت ...
بے نظیر بھٹو قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری،استغاثہ گرفتار ملزمان پر جرم ثابت نہیں کرسکا

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداددہشتگردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، تفصیلی فیصلہ 46 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے کے مطابق پوسٹ مارٹم نہ کرانے سے بینظیر بھٹو کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی جبکہ استغاثہ گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ملک میں وزیر اعظم نہیں نظام عدل کو بدلنے کی ضرورت ہے: مریم نواز شریف

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے کے مطابق کرائم سین 1 گھنٹہ 40 منٹ کے بعد دھونے سے ثبوت ضائع ہوئے تھے۔ استغاثہ گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، پانچوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا ہےملزم پرویز مشرف کو اسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کی پیکش کی گئی جس پر ملزم کی کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تفصیلی فیصلے میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔تفصیلی فیصلے کے مطابق پولیس نے بے نظیر بھٹو کی گاڑی کو اکیلاچھوڑ دیا تھا جبکہ پوسٹ مارٹم نہ کروانے کے باعث موت کی وجہ بھی معلوم نہ ہوسکی تھی۔ ایس پی خرم شہزاد اور سی پی او خرم شہزاد کو 17 سال قید اور 10،10 لاکھ جرمانے کی سزاسنائی گئی ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -