خیبر پختونخواکے سرکاری تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ

خیبر پختونخواکے سرکاری تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات ...
خیبر پختونخواکے سرکاری تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ

  

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں گذشتہ کچھ عرصے سے طالبات کو جنسی طورپر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سات ماہ میں 100 سے زیادہ ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان واقعات میں تعلیمی اداروں کے چوکیدار سے لے کر اداروں کے سربراہان اور پروفیسر تک ملوث رہے ہیں جبکہ ایک کیس میں یونیورسٹی کے ڈین طالبہ کو ہراساں کرنے کے مرتکب پائے گئے تھے۔

پاک فوج،سندھ رینجرز نے کراچی کے18 علاقوں سے سیلابی پانی کی نکاسی کا کام مکمل کرلیا ہے: آئی ایس پی آر

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواتین کی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'دا حوا لور' نے طالبات کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق صوبے کے تین بڑے تعلیمی اداروں پشاور یونیورسٹی، انجنیئرنگ یونیورسٹی اور خیبر میڈیکل کالج میں کچھ عرصے سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔دا حوا لور تنظیم کی سربراہ خورشید بانو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تقریباً سات ماہ کے دوران ان کی تنظیم کو 100 سے زیادہ ایسی شکایاتیں موصول ہوئی ہیں جن میں جامعات میں پڑھنے والی طالبات کو جنسی طورپر ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں زیادہ تر شکایات انجنئیرنگ یونیورسٹی سے موصول ہوئی جہاں ان کی تنظیم کی طرف سے آگاہی مہم بھی چلائی گئی تھی۔ شاید تعلیمی اداروں میں یہ واقعات اس سے بھی زیادہ ہوں گے لیکن بدقسمی سے منفی معاشرتی رویوں کی وجہ سے زیادہ تر خواتین سامنے نہیں آتیں۔

مزید :

پشاور -