پاک بھارت آبی مذاکرات ناکام!

پاک بھارت آبی مذاکرات ناکام!

توقع کے مطابق پانی کے مسئلہ پر پاک بھارت مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور بات چیت ناکام ہوگئی، بھارتی وفد نے پاکستان سندھ طاس کمیشن کے اعتراضات مسترد کردیئے تاہم یہ کہا یا یقین دلایا کہ پاکستان کے پانی کا حصہ متاثر نہیں ہوگا، آئندہ مذاکرات بھارت میں ہوں گے جن کی تاریخ طے نہیں کی گئی، بھارت دریا ئے چناب کے بالائی علاقے میں دو ڈیم تعمیر کررہا ہے، جو مکمل ہونے کے قریب ہیں، یہ پکل ڈل اور لوئر کلنائی کہلاتے اور بنیادی طور پر پن بجلی کے لئے ہیں تاہم یہاں پانی جمع کرکے کھیتی باڑی کے استعمال میں لایا جائے گا۔پاکستان کو اعتراض ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب کا پانی نہیں روکا جاسکتا، جبکہ بھارت کا موقف تھا کہ پانی روکا نہیں جارہا ضائع ہونے سے بچایا جارہا ہے کہ خود پاکستان کے مطابق لاکھوں مکعب فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے، پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔سندھ طاس معاہدہ اگرچہ پاکستان کے لئے کسی بھی طور پر بہتر نہیں گردانا جاتا، اس کے باوجود اس میں یہ گنجائش ہے کہ ہم دریاؤں کا پانی خود بھی سٹور کرسکیں، سندھ طاس کے تحت ستلج اور راوی پر بھارت کا حق تسلیم کرلیا گیا جبکہ بیاس تو بہتا ہی بھارتی سرزمین میں ہے، اس معاہدہ میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم بنانے کی اجازت دی گئی، اس کے تحت بھارت نے دریا ئے جہلم کے بالائی حصے میں پن بجلی کے نام پر ڈیم بنائے، پاکستان کے اعتراضات مسترد کردیئے گئے، اب مسئلہ دریائے چناب کا ہے جبکہ سندھ کے پانی میں بھی مداخلت کی اطلاعات ہیں۔یہ مذاکرات بھی سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت ہوئے اور معمول کی طرح ناکام رہے، تاہم بھارت کی دلیل پر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہمیں بھی پانی پر جو حق ہے اس کے مطابق ڈیم بنائے جاسکتے ہیں، ہم نے صرف دو ڈیم بنائے، ان میں تربیلا ڈیم تو سندھ اور منگلادریائے جہلم پر ہے، ہم اتنے سمجھدار لوگ ہیں کہ مفید تر اور جلد تعمیر ہونے والے کالا باغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر اس پر ابتدائی کام کے کروڑوں روپے اور مشینری بھی ضائع کرچکے اور کام مکمل نہیں کیا، اس کے علاوہ کوئی اور ڈیم بھی نہیں بنایا، اب بھارت اسی کا فائدہ اٹھا رہا ہے، اور موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔پاکستان میں پانی کی قلت اور ضرورت کا اب احساس اجاگر ہوا اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کی کوشش جاری ہے، داسو ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا کام نہیں ہورہا، کالا باغ پر صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی، یوں پانی کی شدید قلت کا خدشہ بھی ہے، اس سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ پانی کے بہاؤ پر ہونے کا منطقی فائدہ پاکستان اٹھائے اور جلد سے جلد ڈیموں کی تعمیر شروع کرکے پانی کے ذخائر کا اہتمام کرے کہ مستقبل کی ضرورت ہے، تنازعات کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ کے ضامن عالمی بنک سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ