جسے اللہ رکھے، چیئرمین سینیٹ بچ جائیں گے

جسے اللہ رکھے، چیئرمین سینیٹ بچ جائیں گے
جسے اللہ رکھے، چیئرمین سینیٹ بچ جائیں گے

  

ہمیں رہ رہ کر گزرا وقت یاد آ رہا ہے جب چار صاحبزادگان مقابلے میں تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے،ایسے میں بلوچستان کے شیر حضرت مولانا شیرانی تھے، جو میدان میں ایک صاحبزادے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ایک کے بعد ایک اجلاس ہوا، مصالحتی کمیٹیاں بنیں، کئی فیصلے ہوئے، کبھی ایک نہ مانا کبھی دوسرے نے تسلیم نہ کیا۔یہ چاروں صاحبزادگان بڑے باپوں کے صاحبزادے تھے، محترم مولانا فضل الرحمن،مولانا مفتی محمود،امجد خان، مولانا اجمل خان، مولانا حامد میاں کے صاحبزادے اور اجمل قادری تھے، جو حضرت مولانا عبید اللہ مرحوم کے صاحبزادے ہیں، ان چاروں کی لڑائی جانشینی کی تھی کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا مفتی محمود اللہ کو پیارے ہو گئے اور مسئلہ جمعیت کی امارت کا تھا۔ یہ سیاسی جنگ عرصہ تک جاری رہی، ہم بطور بیٹ رپورٹر خبریں تلاش کرتے رہے، اتفاقاً ہم چار پانچ دوستوں کی ہمدردی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تھی کہ جب کبھی ہم مولانا مفتی محمود(مرحوم) سے ملاقات اور بات چیت کے لئے گئے، محترم مولانا فضل الرحمن ہماری دیکھ بھال کیا کرتے تھے، تاہم ایک بات میں ہمارا سب کا اتفاق تھا کہ خبر سب کی اور خبر میں ڈنڈی نہیں ماریں گے،بالآخر یہاں تو فیصلہ مولانا فضل الرحمن کے حق میں ہو ہی گیا تاہم بزرگ رہنما سمیع الحق اپنا دھڑا بنا کر الگ ہو گئے جو اب تک قائم اور جمعیت علماء اسلام(س) کہلاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی امارت والی جمعیت کو ان کے نام کے حوالے سے ہی جمعیت علماء اسلام(ف) کہا جاتا ہے، مولانا امجد خان تو اب اسی جمعیت کے اہم رہنما ہیں، مولانا حامد میاں کے صاحبزادے سیاست ہی سے تائب ہو گئے، تاہم صاحبزادہ اجمل قادری، والد کے جانشین کی حیثیت سے دینی حلقوں میں ہیں اور اپنی جمعیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔اگرچہ سرگرمیاں بہت کم ہیں وہ زیادہ تر کام انجمن خدام الدین کا کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمن تب سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور اب تو ماشاء اللہ بزرگوں میں شمار ہونے لگے ہیں، سیاست میں نوابزادہ نصر اللہ سے محبت رکھتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ بھی بے تکلفانہ تعلق ہوا، ان کی وفات کے بعد تو تمام توقعات ان سے وابستہ ہوئیں اور یہ بھی سیاست میں خوش رہو اور خوش رکھو کی پالیسی اپنا کر اقتدار اور حزب اختلاف کے مزے بیک وقت لیتے رہے، بدقسمتی سے اس بار یہ قومی اسمبلی سے باہر ہیں،لیکن سیاست تو ان کے گھر کی لونڈی ہے۔

ہم نے دو روز قبل بھی ذکر کیا اور آج اپنے ان دیرینہ مہربان کا ایک بیان دیکھ کر یہ سب یاد آیا، فرماتے ہیں’’پیپلزپارٹی کو پوری اپوزیشن کی بات مان لینا چاہئے‘‘ اس مختصر سے فقرے میں معنی کا جہاں چھپا ہوا ہے،ذرا غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ مولانا نے پیپلزپارٹی کو اپوزیشن کی صفوں سے باہر نکال دیا ہے، کہ طرزِ تخاطب ہی سے ظاہر ہوتا ہے، لیکن سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں انہوں نے صدارتی الیکشن کے لئے اپوزیشن کے امیدار کی نامزدگی اور درونِ خانہ سودے بازی پر سے پردہ ہی اٹھا دیا ہے،ویسے ان کا فقرہ بھی مزیدار ہے، مولانا فضل الرحمن منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، انہوں نے پیپلزپارٹی کو بہت بڑا سرپرائز دیا ہے، سید خورشید شاہ نے تو تازہ ترین انٹرویو میں سب کچھ ہی بتا دیا ہے اور ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ بات تو کچھ اور ہی تھی۔

اِس حوالے سے ہم پھر پیچھے رہ گئے کہ دوستی کا بھرم ضروری ہے۔گزشتہ دِنوں ہمارے بھائی نوید چودھری نے پرانی ڈیرہ داری یاد کی،ہمیں محمد اشرف ممتاز(نیشن) جاوید فاروقی(جی این این) اور سلمان غنی(دُنیا) کو مدعو کیا کہ گپ شپ ہو، چنانچہ اپنے دفتر کی بجائے وہ پی سی کے کیفے میں لے گئے جہاں دیرینہ دوستی کی یاد تازہ کی اور سیاسی حالاتِ حاضرہ پر گفتگو ہوئی، اسی دوران یہ معلوم ہو گیا کہ اپوزیشن کے درمیان کیا کھچڑی پک رہی ہے وہ کچھ یہ تھی کہ مسلم لیگ(ن) موجودہ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کر کے اپنا اور پیپلزپارٹی اپنے لئے سودا بازی کرنے کے موڈ میں تھی، بات سب محترم صادق سنجرانی کا کمبل چرانے کی تھی کہ مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی اورجے یو آئی مل کر یہ سب سہولت کے ساتھ کر سکتی تھیں،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صادق سنجرانی کی شرافت شاید قدرت کو پسند تھی کہ مولانا فضل الرحمن رحمت بن کر نازل ہو گئے اور انہوں نے مصالحت کنندہ کے طور پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی روٹی چرا لی اب بات اَنا پرستی تک بھی آ گئی ہے، ہمارے بھائی اعتزاز احسن میدان میں ہیں، مولانا فضل الرحمن بھی ٹلنے والے نہیں کہ وہ ہار جائیں گے تو کیا تاریخ میں صدارت کے لئے انتخابات لڑنے والوں میں ان کا نام تو ہو گا، جیسے ہمارے نوابزادہ نصر اللہ کا بھی ہے، جنہوں نے سابق صدر اسحاق خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔

سید خورشید شاہ نے تو اور بھی بہت وضاحت کی،ان کے مطابق پارٹی نے پہلے آصف علی زرداری سے میدان میں اُترنے کو کہا کہ ماضی میں ایسا دعویٰ بھی کیا گیا تھا، لیکن حالات کے تقاضے کی روشنی میں انہوں نے انکار کر دیا، پھر خورشید شاہ کو پیشکش ہوئی انہوں نے بھی معذرت کر لی اور بالآخر چودھری اعتزاز احسن پر اتفاق ہو گیا، تاہم یہ اتفاق اپوزیشن میں نہ ہو سکا، اب اعتزاز احسن میدان میں ہیں،مولانا مہم چلا رہے ہیں اور ساتھ ہی کہہ رہے ہیں، ہم ان اسمبلیوں کو نہیں مانتے یہ دھاندلی کی پیداوار ہیں، اب غور فرمایئے کہ وہ جن حضرات سے ووٹ مانگ رہے ہیں وہ سب انہی اسمبلیوں کے اراکین ہیں۔

کیا یہ دلچسپ صورتِ حال نہیں،اعتزاز احسن کہتے ہیں اپوزیشن میں اتحاد نہ ہوا،تو عارف علوی جیت جائیں گے۔ سید خورشید شاہ کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن اعتزاز احسن کے لئے سنجیدہ اور متحد ہو تو ہمارے چار پانچ ووٹ زیادہ ہیں،یعنی جیت سکتے ہیں،لیکن ایسا نہیں ہو گا،اس کے لئے خود مولانا فضل الرحمن، مشاہد اللہ خان،احسن اقبال اور اب رانا ثناء اللہ کی گفتگو ملاحظہ فرما لیں،جبکہ مولانا دستبردار ہونے کو تیار نہیں،اعتزاز احسن کو الگ ہونے کے لئے کہہ رہے ہیں،راستہ عارف علوی کے لئے صاف ہو گیا، سب کچھ تاریخ میں رقم ہو گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -