پاکستان اور بھارت کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقِ کار

پاکستان اور بھارت کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقِ کار

  

جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے نعرہ کم وبیش پچھلے چالیس سال سے سننے میںآرہا ہے ۔ سرائیکی وسیب کی سیاسی پارٹیاں پچھلے تین الیکشن لڑچکی ہیں مگرکسی الیکشن میں پذیرائی نہ حاصل کر سکیں۔حالیہ الیکشن میں تمام سرائیکی پارٹیاں اپنے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کروا چکی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ عوام ان پارٹیوں پراعتباراور اعتمادکرنے کے لئے تیارنہ ہیں البتہ سرائیکی وسیب کے شعراء ادیب اور فنکارصوبے کے قیام کے لئے ماحول گرم کئے ہوئے ہیں،سرائیکی عوام ان شعراء ،ادیبوں اور فنکاروں کومجمع اور مشاعروں میں دادتودیتے ہیں، مگر سرائیکی پارٹیوں کوووٹ نہیں دیتے ۔دوسری طرف مختلف قومی سیاسی پارٹیوں کے امیدوارجب الیکشن میں حصہ لیتے ہیں توسرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ بھی کرتے ہیں اور اب توقومی سطح پرکامیاب ہونے والی حکومتی پارٹی اور اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے منشور میں جنوبی پنجاب کوصوبہ کادرجہ دینے کی بات کی ہے، حالیہ الیکشن سے قبل حکومتی پارٹی کے کچھ قومی اسمبلی کے اراکین نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذبنایا جودراصل اس وقت کی حکومتی پارٹی سے جان چھڑوانے کی ایک کوشش تھی پورے کا پورا محاذ بعد ازاں بعد موجودہ حکومتی پارٹی میں شامل ہو گیا جو دراصل یہ موجودہ حکومتی پارٹی میں شامل ہونے کا ایک جواز تھا، کیونکہ اس محاذکے تقریباً کم وبیش تمام اراکین اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں، مگران کی طرف سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے تاحال کوئی آوازنہ اٹھائی گئی ہے۔جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے پنجاب اسمبلی میں جنگ لڑنے کی ضرورت ہے، آئین پاکستان میں کسی صوبہ میں نیا صوبہ بنانے کے لئے طریقہ کار درج ہے۔

Article 239(4)

‘‘A bill to amend the constitution which would have the effect of altering.The limits of province shall not be presented to the president for assent unless it has been passed by the provincial assembly of that province by the votes of not less than two thirds of its total membership’’

الیکشن سے قبل تمام سیاسی پارٹیوں نے جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کااعلان کیاتھا اب اگرتمام پارٹیاں متفقہ طورپر جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے قرارداد کی حمایت کریں توصوبہ بنانے کاآغاز صوبائی اسمبلی کے اگلے اجلاس سے ہی ہوسکتاہے مگر حکومتی پارٹی صوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن کے ووٹوں کی محتاج ہوگی۔دوسری طرف ہمسایہ ملک بھارت میں صوبے بنانے کاطریقہ حسب ذیل ہے۔

Article2;Admission or establishment of new state.

‘‘parliament may by law admit into the union or establish new state on such terms and conditions as it thinks fit’’

Article3;formation of new states and alteration of areas,boundries or names of existing states۔

parliament may by law.

)a(form a new state by separation of territorey from any state or by uniting two or more states or parts of states or by uniting any territory to a part of any state

)b(increase the area of any state

)c(dimnish the area of any state

)d(alter the boundries of any state

)e(alter the name of any state

provided that no bill for the purpose shall be introduced in either house of parliament except on the recommendation of the president and unless where the proposal contained in the bill affects the area boundries or name of any of the states,The bill has been reffered by the president to the legislature of that state for expressing, its views there on within such period as may be specified in the reference or within such further period as the president may allow and the period so specified or allowed has expired

یعنی سارامعاملہ پارلیمنٹ اور صدر کے درمیان ہے پارلیمنٹ کی تعریف حسب ذیل ہے۔

Article-79;constitution of parliament

There shall be a parliament for the union which shall consist of the president and two houses to be known respectively as the council of state and the house of the peoples,

آئین ہندوستان کے مندرجہ بالا آرٹیکلز کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کاکہیں بھی ذکرنہ ہے۔ بلکہ ملک میں نئی ریاست بنانے یایکجاکرنے کاعمل ملکی مفاد میں صدر اور کونسل آف سٹیٹس اورہاؤس آف پیپلزنے کرنے ہیں اور صوبائیت کوہوانہ دینی ہے۔ تاہم عمران خان نے پنجاب میں محمدعثمان بزدار کووزیراعلیٰ اور دوست محمد مزاری کو اسمبلی کا ڈپٹی سپیکر بنانے کے بعد اپنی ذمہ داری کچھ حدتک پوری کردی ہے اب دوسری سیاسی پارٹیوں کوبھی اپنے منشور پرعمل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئیں۔ آئندہ نئے صوبے بنانے کاکام آسان کرنے کے لئے آئین پاکستان میںآئین ہندوستان کی طرح یا اس سے بہتر ترامیم کی جائیں،تاکہ عوامی خواہشات پرنئے صوبے بنانے کاکام ملکی سا لمیت کو مقدم رکھتے ہوئے جاری رہ سکے ۔تاہم عثمان بزدار عبور ی وزیراعلیٰ نظرآتے ہیں ممکن ہے بعد میں کوئی دوسرا انتظام کرنا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -