ایران ،امریکہ چپقلش: ایک نئے محاذ کی تیاری

ایران ،امریکہ چپقلش: ایک نئے محاذ کی تیاری
ایران ،امریکہ چپقلش: ایک نئے محاذ کی تیاری

  

ایرانی پاسداران انقلاب کے سپہ سالار جنرل علی رضا تنگری کا ایک بیان عالمی میڈیا میں چھپا ہے، جس میں انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا ہے۔’’خلیج فار س پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے ہم اس خطے میں بالفعل زمین پر موجود ہیں آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں ہے امریکی بحریہ کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ایران نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیوں کے زیر اہتمام اگر ایرانی آئل کی برآمدات کو روکنے اور ایرانی قوم کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں تو ایران فوجی ایکشن بھی لے سکتا ہے۔رائٹرز نے اپنے نمائندے مرتضیٰ نیکو بازل کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران کا خلیج پر اوراس کی طرف جاتی ہوئی یا اس سے گزرتی ہوئی آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اس لئے امریکی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی خام تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی گئی تو ممکن ہے، ایران تیل کی عالمی تجارت کو آبنائے ھرمز کے ذریعے نقصان پہنچائے۔یورپی اور ایشیائی ملکوں کو تیل کی برآمدات کے لئے یہی راستہ استعمال کیا جاتا ہے، ایران کیونکہ اس کے دھانے پر بیٹھا ہے اس لئے اسے کنٹرول بھی کرتا ہے اور اسے بلاک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جبکہ تیل کے تجارتی روٹس کی دیکھ بھال/حفاظت کے لئے امریکی بحری بیڑہ بھی یہاں موجود ہے، لیکن اگر ایرانی معیشت کو مصیبت کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی تو صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔

امریکہ ایران تعلقات کی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے جا سکتے ہیں۔خمینی کے انقلاب سے پہلے تہران سی آئی اے کا خطے میں ہیڈ کوارٹر تھا، امریکی یہاں بیٹھ کر مشرق وسطٰی کی سیاست کنٹرول کرتے تھے، ریاض کے ساتھ بھی ان کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات تھے، لیکن امریکیوں نے زیادہ سرمایہ کاری شاہ ایران کی بادشاہت پر کر رکھی تھی۔ فکری، نظریاتی اور مذہبی طور پر اسرائیل اور یہودی ان کے حلیف تھے اور ہیں۔ یہودیوں کے 2500سالہ دور ابتلا ء اور آزمائش کے بعد برطانوی حکمرانوں نے ریاست اسرائیل خالصتاً مذہبی جذبے کے ساتھ قائم کی اور وہ بھی اس طرح کہ عربوں کے سینے میں خنجر کے طور پر گاڑ دیا۔ 1948ء میں اپنے قیام سے لے کر آج تک یہودی ریاست نے عربوں کا ناطقہ بند کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ فلسطینیوں سے ان کی آبائی زمین چھین کر ریاست اسرائیل قائم کی گئی پھرِ اردگرد کے علاقوں کو ہتھیا کر بتدریج اسرائیل کا حصہ بنایا جا رہا ہے برطانوی استعمار نے اسرائیلی ریاست قائم کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اس کے بعد امریکہ نے ان کی حفاظت و تعمیر کا ذمہ لے رکھا ہے۔

مشرق وسطٰی کے حوالے سے صرف اسرائیل ہی ان کا ’’دینی بھائی‘‘ اور ’’قابل اعتماد ساتھی‘‘ ہے باقی ’’ساتھی‘‘ تو ’’اچھے موسم کے ساتھی‘‘ ہیں جیسا کہ کبھی ایران خطے میں امریکی مفادات کا نگہبان ہوتا تھا اسے ’’امریکی پولیس مین‘‘ کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا۔ خطے میں مغربی تہذیب کی ترویج کے لئے بھی تہران اور بیروت دو اہم مراکز تھے امریکہ نے شاہ ایران کو مضبوط کرنے کے لئے اسے دل کھول کر اسلحی امداد دی، بلکہ یوں کہئے یہاں اسلحے کے انبار لگائے، لیکن جب ایرانی عوام اپنے امام خمینی کی قیادت میں شہنشاےئت کے خلاف اٹھے تو پھر پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کر کے اسلامی جمہوری ایران کی بنیاد رکھی ایک انقلابی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہاں سے امریکی مغربی مفادات کا بوریا بستر گول ہوگیا اشتراکی نظریات کی نگہبان تودہ پارٹی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اسلامی انقلابی حکومت کے قیام کے روز اول سے ہی صہیونی امریکی طاقتیں اسے ناکام بنانے کے درپے ہیں اہل حرم کے خلاف صلیبی طاقتیں صدیوں سے مورچہ زن ہیں جنگ عظیم اول میں انہوں نے مسلمانوں کی تہذیبی و سیاسی قوت کی علامت خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا اور اسلامی اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیا تھا دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی استعمار نے انگڑائی لی۔ عربوں کو درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان کے سینے میں ریاست اسرائیل کو ایک خنجر کی صورت گاڑ دیا۔ جنگ عظیم اول کے بعد زار شاہی کے خاتمے کے بعد روس میں بالشویک انقلاب آیا اور وہاں اشتراکی حکومت قائم ہوئی تھی، دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ عظمیٰ جس کی رسائی دنیا کے کئی بر اعظموں تک تھی سکڑ کر یونائیٹڈ کنگڈم تک محدود ہو گئی اور مغربی عیسائی دنیا کی قیادت امریکہ کے ہاتھ آ گئی۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے حامل ممالک امریکی اتحادی اور اشتراکی نظام زندگی کے داعی ممالک سوویت یونین کے اتحادی قرار پائے پھر ایک سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ سرد اس لئے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بموں کے استعمال کے بعد کسی نئے بڑے تصادم کے امکانات کم ہوگئے تھے، پھر جب سوویت یونین نے بھی ایٹمی ہتھیار بنا لئے اور میزائلوں کے حصول کی ریس کے ساتھ دو طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کے تمام امکانات ختم ہوگئے ہیں اسی لئے پراکسی وار/سرد جنگ کا دور شروع ہوا۔ نصف صدی تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں نے ایک طرف جدید اسلحے کے حصول کی کاوشیں کیں۔ جدید اسلحی ٹیکنالوجی کے حصول کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ اس کے فروغ کو روکنے اور دوسری قوموں کے ہاتھوں تک جانے سے روکنے کی بھی کاوشیں شروع ہوگےءں۔ اس اسلحے کو بیچنے کی بھاگ دوڑ اور مقابلہ شروع ہوگیا جدید اسلحے کو بیچنے کے لئے چھوٹی بڑی جنگوں کا ہونا ضروری تھا یہی طاقتیں نہ صرف چھوٹے ممالک کو لڑانے اور ان کی مدد کے لئے مستعد تھیں، بلکہ انہیں اسلحہ سپلائی کر کے اپنی جیبیں بھی بھرنے لگیں۔ نصف صدی پر مشتمل سرد جنگ کی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے جو ’’نظریاتی بنیادوں‘‘ پر لڑی گئیں، اس میں ہزاروں نہیں لاکھوں انسانی جانیں تلف ہوئیں اربوں کھربوں کے وسائل جنگ کی بھٹی میں جھونک دےئے گئے حتیٰ کی 90کی دہائی میں سوویت افواج کی افغانستان میں شکست و واپسی کے بعد اشتراکی ریاست 15 ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر عالمی سیاست سے غائب ہوگئی اور امریکہ واحد سپریم طاقت کے طور پر عالمی منظر پر ابھرا۔

نصف صدی تک سفید انسان نے اشتراکیت کو ایک دشمن بنائے رکھا، جس کا مقابلہ کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کی حامل عیسائی قومیں امریکی قیادت میں متحد و مصروف کار رہیں اشتراکیت کے غالب آجانے کے خوف نے انہیں ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ پر آمادہ رکھا۔ مغرب/سرمایہ دارانہ نظام نے خوب ترقی کی، لیکن جب سوویت یونین ختم ہوگیا اشتراکیت کو شکست ہوگئی تو اقوام مغرب نے ’’اسلام‘‘ کی شکل میں ایک نیا دشمن تراشا۔ ویسے تو ہلال و صلیب کی دشمنی کی تاریخ کئی صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ معاملات اور بھی زیادہ مستعدی سے سامنے آنے لگے اقوام مغرب نے امریکہ کی قیادت میں اسلام کو بطور ایک تہذیبی طاقت، مغربی تہذیب کا دشمن قرار دے کر اسے کمزور اور ختم کرنے کی کاوشیں شروع کیں۔

90کی دہائی میں ہی کویت کی آزادی کے نام پر 42اقوام کی افواج پر مشتمل اتحادی افواج مشرق وسطیٰ/عراق پر پل پڑیں انہوں نے صحرا کو ادھیڑ کر رکھ دیا امریکہ نے اپنی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی اور فائر پاور کا شاندار مظاہرہ کر کے دنیا پر دھاک بٹھا دی۔ پھر9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مسلمان ممالک کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ایران خطے میں جغرافیائی طور پر بھی انتہائی اہم پوزیشن رکھتا ہے پھر انقلاب کے بعد ایرانی بطور قوم بھی متحد اور جذبات سے سرشار ہیں۔ امریکہ نے انقلاب کے بعد صدام حسین کو شہ دے کر ایران کے خلاف صف آرا کر دیا سنی عرب شیوخ نے ایران کے خلاف صدام حسین کی امداد کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دےئے تھے لیکن ایرانیوں نے انقلاب کی حفاظت کی۔ شکست تسلیم نہیں کی۔ پھر امریکی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ ایران نے سلامتی کونسل کے پانچ ممالک اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ طویل مذاکرات کئے انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بھی تعاون کیا اور یقین دلایا کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا ہے، بلکہ اس کا ایٹمی پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ اس طرح2015ء میں عالمی برادری کے ساتھ ایران کا جوہری معاہدہ ہوا۔

صہیونی امریکی جو امریکی اسٹیبلشمنٹ میں چھائے ہوئے ہیں مسلمان ممالک کے خلاف ہمیشہ سے سازشوں میں مصروف رہے ہیں 9/11 کے بعد انہوں نے جمہوریت، انسانی حقوق وغیرہ کے لبادے اتار کر براہ راست مسلمانوں کے خلاف ایکشن شروع کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں صہیونی براہ راست اقتدار میں آ گئے اور اہل حرم کے ساتھ معاملات میں اور بھی تیزی اور شدت آگئی۔ امریکی نے ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر کے ایران کے خلاف اقدامات شروع کئے۔ ایران عالمی برادری کو یقین بھی دلا چکا ہے کہ اس کا ایٹم بم بنانے کا کوئی ادارہ نہیں ہے اور اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پر امن مقاصد کے لئے ہے، لیکن امریکہ کیونکہ مسلمان ممالک کو سبق سکھانے پر تلا ہوا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں بالخصوص کسی بھی ملک کو اس قدر مضبوط نہیں دیکھ سکتا کہ وہ اسرائیل کے لئے خطرہ بن سکے۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و قیام کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں عرب و عجم کے ساتھ ساتھ عرب۔ عرب اختلافات بھی اپنی جولانی پر ہیں عرب مسلمان افتراق و انتشار کا شکار ہیں یہاں جنگ کے شعلے ہی نہیں، بلکہ الاؤ دھک رہے ہیں دونوں اطراف میں مسلمان ہی مر تے ہیں زخمی ہو رہے ہیں مسلمانوں کی املاک ہی تباہ ہو رہی ہیں امریکی اسلحہ بڑی سرعت کے ساتھ بک رہا ہے۔ عرب اس کے خریدار ہیں امریکہ فریقین کا سرپرست ہی نہیں بلکہ پالیسی ساز بھی ہے اور اس کی ایک ہی پالیسی ہے کہ ’’جنگ کا جہنم ٹھنڈا نہیں ہونا چاہئے‘‘،کیونکہ اسی میں اس کی بھلائی ہے۔ مسلمان اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ ایرانی بطور قوم امریکی صہیونی عزائم کے سامنے کھڑے ہیں اپنی سٹرٹیجک پوزیشن سے واقف ہیں آبنائے ھرمز کی تیل کی عالمی تجارت میں اہمیت سے بھی واقف ہیں اس لئے وہ امریکی دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکا رہے ہیں، امریکی دھمکیوں کا جواب دے رہے ہیں۔

لیکن ایک بات پر غور ضروری ہے امریکہ سپریم پاور ایسے ہی نہیں ہے اس کی وار مشین کی گہرائی اور گیرائی ہمارے تخیل سے بھی زیادہ ہے امریکی معیشت کی وسعت بھی حیران کن ہے اس پر صہیونی عقائد کا تڑکا، الامان الحفیظ۔ صہیونی امریکی باےئبل میں درج پیش گوےؤں کے مطابق حضرت عیسی ؑ کی آمد ثانی کے منتظر ہیں۔ اس کی تیاری کے لئے گریٹر اسرائیل قائم کیا جا رہا ہے۔ ہیکل سلیمانی کی تیسری بار تعمیر ہونی ہے۔ اسرائیل کا 1948ء میں قیام وعدہ خداوندی کی تعبیر ہے اور ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ صہیونی استقبال مسیح کے لئے ’’صفائی‘‘ کر رہے ہیں، دنیا کو سجا رہے ہیں براےؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں ان کے نزدیک مسلمان ’’بہت بڑی برائی‘‘ہیں ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس پس منظر میں ایران کے خلاف امریکی دھمکیاں کسی وقت بھی ’’عملی صورت‘‘ اختیار کرسکتی ہیں، جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ کیا ہم ان شعلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچےئے۔

مزید :

رائے -کالم -