رواں سال 2300سے زائدبچے بداخلاقی کا شکار ہوئے،ساحل رپورٹ

رواں سال 2300سے زائدبچے بداخلاقی کا شکار ہوئے،ساحل رپورٹ

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) پاکستان میں بچوں کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات کی روک تھام کیلئے کام کرنے والی سماجی تنظیم’’ساحل‘‘ نے چھ ماہ کی رپورٹ جاری کردی ،رپورٹ کے مطابق رواں سال 2300 سے زائدبچے بداخلاقی کا شکار ہوئے جبکہ 57بچوں کوبداخلاقی کے بعد قتل کردیا گیا،اوسطاپاکستان میں ہر روز 9 بچے بداخلاقی کا شکارہو رہے ہیں،تنظیم کے مطابق رواں سال بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں 1764 واقعات کے مقابلے اس سال جرائم کے 2322 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ساحل کے ریجنل کواڈی نیٹر عنصر سجاد بھٹی نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ان کے ساتھ ایڈووکیٹ عاطف عدنان موجود تھے۔ان کا مزید کہنا تھا سال 2018 کے پہلی ششماہی کے دوران ہونے والے واقعات میں بچوں کے اغواء کے 542، بداخلاقی کے 360واقعات پیش آئے۔ساحل کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے 1413 واقعات کورجسٹرڈ کیا جبکہ 15 واقعات کی رپورٹ پولیس نے درج کرنے سے انکار کیا 10 واقعات پولیس کے پاس درج نہیں کروائے گئے جبکہ 77 واقعات کے بارے میں اخبارات میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔کم عمر لڑکوں کے ساتھ بد اخلاقی کے 542 واقعات ہوئے اور بچوں کے لاپتہ ہونے 236 کیسز سامنے آئے ہیں اور 92 بچوں کو گینگ ریپ کیا گیا ہے۔بچوں کے خلاف جرائم کے زیادہ تر واقعات دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہوئے جبکہ 26 فیصد واقعات شہری علاقوں میں پیش آئے۔بچوں کے خلاف سب سے زیادہ جرائم کا سامنا چھ سے دس سال کی عمر کے بچوں کرنا پڑتا ہے اور اس عمر کے بچوں کو زیادہ خطرہ ہے۔تنظیم نے ملک کے مختلف اخبارات میں بچوں کے خلاف جرائم کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر یہ اعدادوشمار مرتب کیے ہیں اور ان کے مطابق اس کا مقصد ملک میں بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے بارے میں حقائق فراہم کرنا ہے۔پاکستان میں بچوں کی اندرون ملک سمگلنگ یا انٹرنل ٹریفکنگ کو روکنے کے لیے کسی قسم کا قانون موجود نہیں ہے، مختلف نوعیت کے استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں سے چھ سے دس سال کی عمر بچے زیادہ ہوتے ہیں۔

ساحل رپورٹ

مزید :

صفحہ آخر -