3ماہ دیدیں پھر تنقید کر دیں ، پاکستان کیلئے ایک سال مشکل ہے ، امریکہ سے لڑ نہیں سکتے تعلقات بہتر کرینگے مگر وہ بھی عزت سے بات کرے ، میرے اوپر کسی کا دباؤ نہیں ، سول ملٹری تعلقات بہترین جا رہے ہیں : عمران خان

3ماہ دیدیں پھر تنقید کر دیں ، پاکستان کیلئے ایک سال مشکل ہے ، امریکہ سے لڑ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاںآن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو ٹیم چُنی ہے اسکے ماضی کا ذمہ دار نہیں ہوں ، ہمیں تین ماہ کا وقت دیں پھر جتنی مرضی تنقیدکریں، ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے لوگوں کی چیخیں نکلنی ہیں، وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار دلیر آدمی ہیں انکے بارے میں لوگ کہیں گے کہ یہ اچھی چوائس ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے حامی ہیں ۔ امریکہ سے لڑ نہیں سکتے تعلقات بہتر کریں گے۔ امریکہ کی کوئی غلط بات نہیں مانی جائے گی, . میرا اب بھی وہی موقف ہے امریکہ نے بات کرنی ہے تو عزت سے کرے ہم نے احتساب کرنا ہے تو لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی ۔ملکی مفاد کے خلاف ہونے والے معاہدے منسوخ کریں گے ٗ جی ایچ کیو کا دورہ اچھا رہا ٗ اپوزیشن انتہائی کمزور ہے، تحریک انصاف کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے ٗکرپشن کے کیسز میں جو بھی پکڑا گیا میڈیا اس میں کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے ٗمیرے اوپر کسی قسم کا اور کسی بھی ادارے کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں۔ وزیر اعظم ٹی وی اینکرز سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تنقید ضرور کریں گھبراتا نہیں بلکہ تنقید سے مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیراعظم کا کہناتھا کہ گردشی قرضے 1200ارب تک پہنچ گئے ہیں، جب تک ملک میں احتساب نہیں ہوگا ملکی ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ چےئرمین نیب کو کہا ہے بلا امتیاز احتساب کیا جائے، جسٹس جاوید اقبال سے کہا ہے کہ حکومتی رکن بھی کرپشن میں ملوث ہوتو کاروائی کریں۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار بزدار کی کھل کرحمایت کی۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو تین ماہ دیں ، پھر کارکردگی پر بات کریں۔ میڈیا تین ماہ بعد کھل کر تنقید کرے۔ ہیلی کاپٹر کے استعمال کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے وضاحت کی کہ عوام کو زحمت سے بچانے کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکپتن واقعے پر چیف جسٹس کا نوٹس خوش آئند ہے ڈپی پی او کے معاملے پر چیف سیکرٹری کو کہا کہ وہ دیکھے ڈی پی او معافی کے مطالبے کا علم نہیں ہے۔ماضی میں حکمران بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرتے تھے ،انہوں نے کہا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے مہم شروع کریں گے ۔ سال تک میری توجہ ملکی معاملات پر ہوگی ، بین الاقوامی دورے اسوقت میری ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جمہوریت کے حامی ہیں۔حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ تنقید ضرور کریں تنقید سے مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے۔ میں اس سے گھبراتا نہیں ہوں۔ آپ تین ماہ میں گُڈ گورننس کے معاملے پر واضع تبدیلی دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ویژن ہے کہ آگے بڑھنا ہوگا۔ بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، بھارت میں ایک طبقہ اینٹی پاکستان اور دوسرے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے ، ہم اچھے تعلقات والے طبقے کی آواز کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں گے تو شور مچے گا کہ جمہوریت خطرے میں ہے مجھے کرپشن کے خلاف صحافیوں کا ساتھ چاہیے۔ ہم آنے والے دنوں میں حکومت کے مزید اخراجات کم کریں گے۔ صحافیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی کوئی غلط بات نہیں مانی جائے گی ، امریکہ سے لڑ نہیں سکتے ، ان سے تعلقات بہتر کریں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے اوپر کسی قسم کا اور کسی بھی ادارے کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ، ہم فوج کے ساتھ مل کر آئین کے مطابق کام کررہے ہیں۔پاکپتن کے واقعے پربات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف چیف سیکریڑی کو معاملہ دیکھنے کا کہا تھا تاہم ڈی پی او سے معافی کے مطالبے کا علم نہیں جب کہ اس واقعے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس خوش آئند ہیوزیراعظم عمران خان سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کو عہدہ سنبھالنے پر عوام اور ایرانی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کی جواد ظریف نے کہا کہ ایران پاکستانی عوام کی خوشحالی اور ترقی چاہتا ہے اس موقع پر انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے ایران میں اکتوبر کے مہینے میں ہونیوالے ایشیائی کواپریشن ڈائیلاگ (اے سی جی) میں شرکت کا دعوت نامہ بھی وزیر اعظم تک پہنچایا پاکستان اور ایران دونوں اس تنظیم کے ممبر ہیں ایران اس وقت اس تنظیم کا سربراہ ہے ایرانی وزیر خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جدوجہد کی حمایت کرنے کے علاوہ ایران میں پاکستان کا یوم آزادی بھرپور طریقے سے منانے پر شکریہ ادا کیا وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ کا نیک خواہشات پر بھی شکریہ ادا کیا صدر روحانی کی حالیہ ٹیلیفونک بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران تاریخ ، مذہب اور ثقافت کے مضبوط رشتے میں جُڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ انکے دور اقتدار میں پاکستان دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں ان تعلقات کا مضبوط بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کرے گا وزیر اعظم عمران خان نے علاقے میں مکمل امن و استحکام بحال کرنے پر بھی زور دیا وسائل میں معاشی طور پر خودکفیل علاقوں کے درمیان زمینی پُل حیثیت سے دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کو بڑھانے اور عوام کے درمیان رشتوں کو فروغ دینے کے ذریعے پاکستان اور ایران علاقے کے اندر ترقی اور خوشحالی کا اہم ذریعہ ہے حکومت پاکستان کی جانب سے شدید مذمت اور حالیہ احتجاج کے بعد ہالینڈ کے توہین آمیز خاکوں کے مقابلے منسوخ ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اسلام فوبیا کا مسلم ممالک کی جانب سے ایک آواز میں مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ کی محبت اور احترام ہر مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے اور کسی کو بھی اسکی توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینروفاقی وزیرڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی وفد نے وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کی، وفدمیں ایم کیو ایم کی ڈپٹی کنوینر نسرین جلیل ،ڈپٹی کنوینرو میئر کراچی وسیم اختر،کنو ر نو ید جمیل اور رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق کے علا وہ وفا قی وزیر قانون بیر سٹر فر وغ نسیم شامل تھے ۔وفد نے وزیر اعظم کو انکا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان سے کراچی، حیدرآبادسمیت سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے اور نئے منصوبوں کے لئے ترقیاتی پیکج کی درخواست کی ،ساتھ ساتھ حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام اور پورے سندھ میں عمومی طور پر عوام کے معیار زندگی بلند کرنے کے لئے مختلف منصوبے زیر بحث آئے ،وفد نے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات اٹھانے پے زور دیااورکہاکہ اسکے علاوہ جن افراد کو مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھا گیا ہے ان کے مقدمات جلد از جلد عدالتوں میں لائے جائیں ،اسکے علاوہ متحدہ قومی مو ومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین جو تیرہ نکاتی معاہدہ طے پایا ہے اس میں جلد از جلد عمل در آمد شروع کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے ماہرین کی آراء سے استفادہ کیا جائے گا، جامعات کو مطلوبہ وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔ وہ جمعہ کو یہاں معروف ماہر تعلیم اور سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمان سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے ۔ ملاقات میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود ، ڈاکٹر طارق بنوری ، پروفیسر محمد مجاہد اور راشد خان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ہائر ایجوکیشن اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شعبے میں فروغ کیلئے سفارشات پیش کی گئیں۔ جبکہ وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ تعلیم اور جدید ریسرچ سینٹر بنانے پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ ملک میں تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدید تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے ماہرین کی آراء سے استفادہ کیا جائیگا اور جامعات کو مطلوبہ وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسمعیل نے ملاقات کی جس میں سندھ کی مجموعی صورتحال اور خصوصا کراچی کی موجودہ صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر گفتگوکی گئی ۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ شہر قائد کی عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی جیسے اہم شہر میں بعض مقامات پر بنیادی سہولتوں تک کا فقدان لمحہ فکریہ ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ ملکی معیشت کی ترقی و استحکام میں کراچی کا کردار کلیدی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ کراچی میں امن و امان کی فضا کو مزید مستحکم کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے پی ٹی آئی حکومت ہر ممکنہ تعاون فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ حکومت کی جانب سے اعتماد کا اظہار کرنے اور اہم ذمہ داری سونپے جانے پر گورنر سندھ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا،بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے جاپانی وزیرمملکت برائے خارجہ امور کازویو کی نیکا نے ملاقات کی اور انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی، ملاقات میں وزیرمملکت نے جاپان کے وزیراعظم کا نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ ۔ ملاقات میں انتخابات میں کامیابی پر عمران خان کو مبارکباد دی اور جاپان کے وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے جاپان کیساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاپان کے ساتھ تجارت سمیت دیگر شعبوں میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے جاپان کی طرف سے سماجی شعبے میں تعاون کو سراہاتے ہوئے کہاکہ انسانی وسائل کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جاپان کے وزیراعظم کو پاکستان کے دورے کی بھی دعوت دی۔

مزید :

صفحہ اول -