نواز شریف ، مریم، صفدر کی نیب آرڈیننس کے تحت سزائیں کالعدم قرار دینے کی درخواستیں مسترد

نواز شریف ، مریم، صفدر کی نیب آرڈیننس کے تحت سزائیں کالعدم قرار دینے کی ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید ، جسٹس محمد عاطر محمود اورجسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل فل بنچ نے نیب آرڈیننس اور اس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمدصفدر کو دی جانے والی سزائیں کالعدم قرار دلوانے کیلئے دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس نے اپنی بنیادی درخواست میں نیب آرڈیننس کو مردہ قانون قرار دینے کی استدعا کی تھی جبکہ ایک متفرق درخواست کے ذریعے میاں محمد نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف نیب کی کارروائیوں اور انہیں سزا دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ،درخواست گزار کا موقف تھا کہ نیب آرڈیننس کو 18ویں آئینی ترمیم میں تحفظ نہیں دیا گیا اس لئے یہ قانون اپنی معیاد پوری کرنے کے بعد ختم ہوچکا ہے۔اس قانون کے تحت کوئی کارروائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی کو سزا دی جاسکتی ہے۔فاضل بنچ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد قراردیا ہے کہ نیب آرڈیننس کو مستقل قانون کا درجہ اور آئینی تحفظ حاصل ہے ،اس لئے یہ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔فاضل بنچ نے وفاقی حکومت اور نیب کے وکلاء کے اس موقف کو درست تسلیم کیا ہے کہ نیب آرڈیننس مردہ قانون نہیں ہے ،اسے آئین کے آرٹیکل 264(6)کے تحت تحفظ حاصل ہے ،اس آرٹیکل کے تحت نیب آرڈیننس کو دائمی قانون کا درجہ حاصل ہے ۔18ویں آئینی ترمیم کے تحت 1999ء کے عبوری آئینی فرمان (پی سی او)کو پارلیمنٹ نے کالعدم قراردیا تاہم اس پی سی او کے نفاذ کے دوران جاری کئے گئے آرڈیننسوں کو آرٹیکل264(6)کے تحت تحفظ دیا گیااور یہ قوانین نافذ العمل ہیں اور ان کے تحت کئے جانے والے اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔جب تک کوئی مجاز اتھارٹی اس قانون میں ترمیم یا اسے کالعدم کرنے کی منظوری نہیں دیتی یہ قانون موجود رہے گا ۔

درخواستیں مسترد

مزید :

صفحہ اول -