اصول پسندی پر تبادلہ معمول کی بات ، او ایس ڈی بھی بننا پڑتا ہے

01 ستمبر 2018

قدرت اللہ چوہدری

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

ہمارے ایک دوست جو وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، بتایا کرتے تھے کہ ہر سرکاری افسر کو چاہے اس کا سروس ریکارڈ کتنا بھی شاندار کیوں نہ ہو، اپنی ملازمت کے دوران کئی بار ’’او ایس ڈی‘‘ بننا پڑتا ہے۔ خود وہ اس تجربے سے کئی بار گزرے تھے اور اپنے یہ تجربات مزے لے لے کر بیان کیا کرتے تھے۔ آخری بار انہیں جنرل پرویز مشرف کے ایک وزیر کے حکم سے او ایس ڈی بنایا گیا۔ قصور ان کا یہ تھا کہ وزیر صاحب الیکشن لڑنا چاہتے تھے، لیکن ابھی چونکہ ان کے انعقاد میں دیر تھی، اس لئے ان کی کوشش تھی کہ وہ اس وقت تک وزیر رہیں اور اپنے حلقے کے لوگوں کی سرکاری اخراجات کے ذریعے خدمت خاطر کرتے رہیں اور جب الیکشن ہوں تو ان کی اس خدمت کا صلہ انہیں اپنے انتخاب کی شکل میں ملے، لطف کی بات یہ ہے کہ وہ یہ اخراجات بھی اپنی ہی ایک این جی او کے ذریعے کرنا چاہتے تھے، ہمارے دوست افسرنے انہیں بتایا اول تو ایک محدود علاقے میں اتنے بھاری اخراجات نہیں ہوسکتے، پھر ان کی این جی او کا تو اس میں کوئی کردار ہی نہیں، اس لئے اسے خواہ مخواہ ملوث نہیں کیا جاسکتا، لیکن وزیر صاحب جو ایک بڑے سیاستدان کے صاحبزادے تھے اور پنجاب یونیورسٹی سے برطرف ہوچکے تھے، اپنی وزارت کے اختیارات بلادریغ استعمال کرنے پر تلے ہوئے تھے، لیکن انہیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ جس افسر سے وہ یہ سب کچھ کرانا چاہتے ہیں، وہ کوئی غیر قانونی کام کرنے کا ریکارڈ سرے سے ہی نہیں رکھتا۔ جب افسر اپنے موقف پر ڈٹ گئے اور وزیر صاحب کو نظر آیا کہ ان کی خواہش پوری نہیں ہوسکے گی تو انہوں نے انہیں او ایس ڈی بنوا دیا۔ اپنی ملازمت کے آخری دور میں او ایس ڈی بننے کا یہ قصہ بڑے دلچسپ انداز میں سنایا کرتے تھے، لیکن افسوس کہ انہوں نے ایک الٹرا دیانت دار اور انتہائی اہل و قابل افسر کو او ایس ڈی تو بنوا دیا لیکن الیکشن لڑنے کا خواب پھر بھی پورا نہ ہوا کہ الیکشن کے اعلان سے پہلے ہی وہ پراسرار انداز میں قتل ہوگئے، اسی لئے کہتے ہیں ’’تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ‘‘ ایک اور سرکاری افسر نے جواب کالم نگار ہیں اپنی ملازمت کے دوران قانونی بے قاعدگیوں کے بہت سے قصے سنائے، انہیں بھی دوران ملازمت اپنی اصول پسندی کے صدقے بڑے خمیازے بھگتنے پڑے۔ سرکاری ملازمت میں افسر چھوٹا ہو یا بڑا، اسے ایسی بہت سی مشکلات درپیش رہتی ہیں۔ بعض اوقات تو افسروں کو ایسے ایسے احکامات ملتے ہیں کہ وہ سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔ پاک پتن سے چند روز قبل آدھی رات کے بعد تبدیل ہونے والے ڈی پی او رضوان گوندل کو بھی ایک ایسا ہی عجوبہ حکم ملا کہ وہ پاک پتن کی ایک شخصیت خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معذرت کریں۔ کس بات کی معذرت؟ کہ ان کی فورس نے ناکے پر نہ رکنے پر ان سے بدتمیزی کی تھی۔ عام طور پر بڑے لوگ ناکے پر رکنا اپنی ہتک شمار کرتے ہیں۔ کوئی بھی پولیس افسر چھوٹا ہو یا بڑا، اس صورت حال سے گزرتا ہے، اگر اس نے راہ چلتے کسی گاڑی کو چیک کرلیا اور گاڑی کا مسافر اتفاق سے کوئی وی آئی پی یا کسی وی آئی پی کا رشتے دار نکل آیا تو پولیس افسر کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری پولیس کا جو کلچر ہے، اس میں کسی بھی شخص کے ساتھ تلخی یا زیادتی ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں، اس لئے پولیس والے تنک تاب ہوتے ہیں تو جو شخص کسی وجہ سے وی آئی پی ہوگیا ہو، اس کے غصے کا تو شمار ہی نہیں۔ اس لئے اگر ڈی پی او رضوان گوندل کو یہ غیر معمولی حکم ملا کہ وہ ڈیرے پر جا کر معذرت کریں تو اس میں حیرت کی بات نہیں، البتہ انہوں نے معذرت نہ کرکے اپنی جگہ اصول پسندی کا ایسا مظاہرہ کیا جو پسند نہیں کیا گیا۔ اس کی پاداش میں انہیں رات کو ہی ٹرانسفر آرڈر مل گئے۔ آپ تصور فرمائیے کہ اس انداز کی غیر معمولی ٹرانسفر ایسی بات ہے کہ جناب چیف جسٹس کو بھی کہنا پڑا کہ کیا صبح نہیں ہونی تھی؟

ہم اس بحث میں نہیں الجھتے کہ اس معاملے میں پولیس کا قصور تھا یا نہیں اور وی آئی پی فرید مانیکا کی شکایت جائز تھی یا نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ پولیس افسر کو چیف منسٹر ہاؤس میں کیوں بلایا گیا، تبادلہ اگر آئی جی نے کرنا تھا اور بالآخر انہوں نے ہی کیا تو پھر سی ایم ہاؤس کی یاترا کس مقصد کے لئے تھی؟اور وہاں ایک غیر متعلقہ فرد باوردی افسر کو ’’احکامات ‘‘کس کی شہہ پر دے رہے تھے؟

رضوان گوندل نے سپریم کورٹ میں بیان دیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ اس کا مطلب ہے تبادلے کی ہدایات وزیراعلیٰ نے دیں۔ وزیراعلیٰ کس قانون کے تحت تبادلے کا کہہ سکتا ہے؟ جس پر رضوان گوندل نے کہا پی ایس او کے مطابق تبادلے کا حکم وزیراعلیٰ نے دیا۔ اب چونکہ سارا معاملہ سپریم کورٹ میں پیش ہوگیا ہے، اس لئے یہ تو واضح ہو جائے گا کہ قصور وار پولیس تھی یا وہ لوگ جن کے دباؤ پر تبادلہ ہوا اور تبادلے کے احکامات آئی جی نے خود جاری کئے یا کسی دباؤ کے تحت۔ اگرچہ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ تبادلے کا حکم دباؤ کے تحت جاری کیا گیا تھا لیکن معمول کا تبادلہ رات ایک بجے تو نہیں ہوتا، درست فریایا جناب چیف جسٹس نے کہ کیا اگلی صبح نہیں ہونی تھی۔ اب اس کا تو جواب بھی سپریم کورٹ میں متعلقہ افسران دیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ بہت سے اقدامات محض کاسمیٹکس کی ذیل میں آتے ہیں۔ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی خواہش تو ممکن ہے کسی جگہ ہو، لیکن جب ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں پولیس افسر کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ معذرت کرے تو کیا اس طرح پولیس کو دباؤ میں لایا جاتا ہے یا اس سے آزاد کیا جاتا ہے؟ رضوان گوندل کیس اب کیا رخ اختیار کرتا ہے اس کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ پولیس کلچر تبدیل کرنے یا سیاسی دباؤ سے نکالنے کی باتیں محض خواہش ہیں یا ان کا زمینی حقائق سے بھی کوئی تعلق ہے۔

مزیدخبریں