دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے ، جھوٹے مقدمے ، شادی سے ایک روز قبل دولہا گرفتار ، تشدد

دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے ، جھوٹے مقدمے ، شادی سے ایک روز قبل دولہا ...

  

ڈیرہ غازی خان(سٹی رپورٹر) پولیس تھانہ تونسہ شریف نے بااثر محبوب سے مبینہ طورپر ملی بھگت کرتے ھوئے شادی کا سیج سجنے سے ایک روز قبلدولہا کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرتے ہوئے اٹھوا لیا مقامی وڈیرہ کے ڈیرے پر لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا، تین دن تشدد کے بعد وہوا پولیس کے حوالے کر دیا تفصیلات کے مطابق تونسہ کے شمالی علاقہ بستی نور احمد والی کے غلام قاسم دستی اور انکی بیوی نے مبینہ طور پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ میرے دو بیٹوں غلام مصطفے (بقیہ 38نمبرصفحہ7پر )

گبول اور محمد صغیر دستی کی شادی بستی ببی کے ہدایت اللہ دستی کی دو صاحبزادیوں سے ھونا تھی، 18اگست کو رخصتی اور دعوت ولیمہ طے تھا کہ 17اگست کی شام کو جب ہم لوگ شادی کی تقریبات کی خوشیوں کی تیاری میں مصروف تھے ڈھول کی تھاپ پر علاقائی جھمر رچایا جا رھا تھا کہ اس دوران بستی ببی کا مقامی زمیندار منور دستی پولیس کے ہمراہ آیا اور دولہا غلام مصطفےٰ دستی کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زبردستی آغواء کر کے لے گیا اور نجی ٹارچر سیل میں بند کر دیا اور دھمکی دی کہ اب عنبرین سے شادی رچانے کی سزا بھگتواور وڈیرے کے ڈیرے پر تین دن متواتر اس پر تشدد کرتے رہے دولہا کے والد نے مزید بتایا ہم غریب لوگ ہیں اور وہ با اثر لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ دلہن والوں نے ہمیں رشتہ دینے سے انکار کردیا شادی کی تقریب غمی میں بدل گئی اس کے بعد مقامی وڈیروں نے مصطفی جو کہ بے قصور ہے اسے تھانہ وہوا کی پولیس کے حوالے کردیا بارہ دن کے بعد پولیس نے گرفتاری ظاہر کی عدالت نے میڈیکل کرانے کا حکم دیا تونسہ کے ڈاکٹروں نے ڈیرہ غازخان ریفر کیا مگر پولیس اسے ڈیرہ کی بجائے تونسہ لے گئی ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کوتمام صورتحال سے آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ھوئی پولیس میرے بیٹے پر ناجائز تشدد کررہی ہے والدین نے کہا کہ انہیں بیٹے سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہاشادی سے انکار پر مقدمہ خارج کرنے آفر دی جا ری ہے ا نہوں نے کہا کہ ھمارے بیٹے پر مقامی وڈیروں کے ایماء پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں 15روز سے انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار،چیف جسٹس آف پاکستان اور آئی جی پنجاب سے اپیل کرتے ہیں ھمیں انصاف دلایا جائے حق رسی کی جائے ورنہ خود سوزی کرنے پر مجبور ھونگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ھو گی

B

مزید :

ملتان صفحہ آخر -