سیاسی امور میں مداخلت پرعراقی پیرا ملٹری دستوں کا سربراہ بر طرف

سیاسی امور میں مداخلت پرعراقی پیرا ملٹری دستوں کا سربراہ بر طرف

  

بغداد(این این آئی)عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے قومی سلامتی کے مشیر اور شیعہ مسلک کے پیروکاروں پر مشتمل نیم فوجی دستوں الحشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض کو سیاسی سرگرمیوں کے سبب ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی حکومت کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ الفیاض کی برطرفی اس لیے عمل میں آئی کہ وہ سیاسی اور جماعتی کاموں میں داخل ہو گئے اور سیاسی امور انجام دینے کے خواہش مند ہیں اور یہ امر ان کے ذمے لگائے گئے حساس سکیورٹی مشن سے متصادم ہے۔دوسری جانب الفتح اتحاد نے جاری ایک بیان میں کہا کہ فالح الفیاض کا الحشد الشعبی کی سربراہی اور قومی سلامتی کی مشاورت سے ہٹایا جانا ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ بیان کے مطابق اس فیصلے نے الحشد الشعبی ملیشیا اور سکیورٹی اداروں کو سیاسی تنازعات میں اور ذاتی حساب بے باق کرنے میں جھونک دیا ہے۔الفتح اتحاد نے عراقی وزیراعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ ذاتی مفادات کی روشنی میں اقدامات کر رہے ہیں اور الفالح کی برطرفی کا سبب ان کی جانب سے العبادی کے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کو مسترد کیا جانا ہے۔یاد رہے کہ عراقی پارلیمنٹ نے تقریبا دو برس قبل ایک قانون کی منظوری دی تھی۔ قانون کے تحت الحشد الشعبی میں شامل گروپوں کو قانونی حیثیت دینے کے بعد انہیں براہ راست عراقی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل کے احکامات کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔شمالی عراق میں وسیع علاقوں پر داعش تنظیم کے قبضے کے بعد 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں پر مشتمل ملیشیا الحشد الشعبی تشکیل دی گئی تھی۔ مختلف فریقوں کی جانب سے الحشد الشعبی پر فرقہ وارانہ کارروائیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے جس کے سبب پارلیمنٹ میں سنی گروپوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے دوران الحشد الشعبی سے متعلق قانون کی منظوری دی گئی۔

مزید :

عالمی منظر -