آنکھ مارنا مذہب کی توہین نہیں، بھارتی سپریم کورٹ

آنکھ مارنا مذہب کی توہین نہیں، بھارتی سپریم کورٹ

  

نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آنکھ مارنے سے مذہب کی توہین کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق رواں برس فروری میں بھارتی ملیالم زبان میں بننے والی فلم اورو آدھار لو کے ایک گانے میں ساتھی اداکار کو آنکھ مارنے والی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔اس ویڈیو میں پریا پرکاش فلم کے گانیمانیکا ملارایا پووی میں ساتھی اداکار روشن عبدالرف کو آنکھ مارتی دکھائی دی تھیں، ساتھ ہی وہ دیگر دلفریب ادائیں بھی کرتی دکھائیں دی تھیں۔ان کے اسی گانے کے وائرل ہونے کے بعد وہ ایک ہی دن میں اسٹار بن گئیں تھی اور لاکھوں افراد نے انہیں انسٹاگرام پر فالو کیا تھا۔گانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پریا پرکاش وریئر نے بھارت میں شہرت میں سنی لیونی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا اور وہ گوگل پر کچھ دنوں کے لیے سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اداکارہ بھی بن گئی تھیں۔ان کے اسی گانے کے بعد ریاست تلنگانہ اور مہاراشٹر کے مسلمانوں نے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے تھے کہ اداکارہ کے عمل اور گانے سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

بعد ازاں مسلمانوں کے گروپ نے اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دی تھی کہ ان کے عمل سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

مزید :

عالمی منظر -