امریکہ اور بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ ترکی کی ترقی سے خوف زدہ ہیں، عبداللہ گل

امریکہ اور بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ ترکی کی ترقی سے خوف زدہ ہیں، عبداللہ گل

  

راولپنڈی(سٹی رپورٹر) محمد عبداللہ گل چیئرمین تحریک جوانانِ پاکستان نے ترکی کی معشیت پر بات کرتے ہوئے کہا جب طیب اوردگان کی حکومت آئی تو اس وقت ترکی آئی ایم ایف کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ صدر اردگان نے سب سے پہلے بہت زیادہ ریفارم کی جس کی بدولت ترکی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا اور ایک وقت ایسا بھی ایا کہ ترقی نے آئی ۔ایم۔ایف کے تمام قرض اتار دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی امریکہ اور بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ سے نہ دیکھی گئی اور دو سال قبل انہوں نے گولان کے زریعے صدر طیب اوردگان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ مر گئے ۔ اس تختہ الٹنے کی مہم کو عوامِ ترکی نے ناکامیاب بنا دیا اور گولان کے حامیوں کو شکست فاش ہوئی۔ یہ بات امریکہ کو بالکل ہضم نہ ہوئی اور اس نے ترکی برآداد سٹیل اور ایلومینیم پر درآمدی ڈیوٹی مین اضافہ کر دیا جس کی بدولت ترکی برٓامداد میں کمی وقع ہو گئی اور ترکی کرنسی لیرا کی قیمت ایک دم نیچے آ گئی جس کی بدولت ترکی عوام نے اپنے پیارے صدر کے کہنے پر ڈالر اور یورو کو فروخت کیا اور ترکی کی کرنسی خریدی جس کی بدولت ترکی کی کرنسی میں استحکام آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی اسلامی ملک اس کے تسلط سے باہر ہو۔2023 میں ترکی پہلی جنگِ عظیم کی پابندیوں سے آزاد ہو رہا ہے جو کی بدولت وہ وسیع پیمانے پر اپنے تیل کے ذخائر نکال سکے گا اور دو سمندروں کو ملانے کے لئے نہرِ سویز کی طرح کی نہر نکالنا چاہ رہا جس کی بدولت فاصلہ بہت کم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ قبال نے ترکی کے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ کہا جنرل حمید گل وہ واحد جنریل تھے جو دریائے آمو کے پار دیکھتے تھے اور وہ ترکی ایران افغانستان اور پاکستان کو لڑی میں پرویا ہوا دیکھنا چاہتے تھے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -