KSBLمیں سی پیک کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

KSBLمیں سی پیک کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ ( KSBL) میں ’’سی پیک ۔ دی وے فارورڈ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس مین کراچی سے تعلق رکھنے والے صف اول کے کاروباری افراد اور زرعی صنعت کے نمائندوں کے علاوہ چینی وفد نے بھی شرکت کی۔ چین کے وفد کے قیادت آل چائنا یوتھ فیڈریشن، پریس اینڈ پبلیکیشن سینٹر کے ڈ پٹی سیکریٹری جنرل ، Wu Yongqiang کر رہے تھے۔ فد کے دیگر ممبران میں Yangming ٹیکنالوجی انوسٹمنٹ کمپنی کے چیئرمین Sun Xiangyang،Taidi نیٹ ورک ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین Yao Zongchang اور قانونی ماہر اور مترجم Wu Xueqin شامل تھے۔ اس سیمینار کا مقصد پاکستان کے زرعی، فشریز اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بہتری لانے ، ان شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اس اضافی پیداوارکو چین اور دنیاکے دو سرے ممالک بر آمد کرنے کیلئے چین سے ٹیکنالوجی کے تبادلے کی راہیں ہموار کرنا تھا۔ اس سیمینار کا اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک لمیٹڈ نے پہلے آپ پرائیوٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ چین کے وفد نے پاکستان کے موجودہ زرعی انفراسٹرکچر اور برآمدات کی صورتحال کا جائزہ لیا اور زراعت کی پیداوار میں اضافے ، دیہی علاقوں کے لئے ہنر مندی میں اضافے ، زرعی انفراسٹرکچر کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کیلئے تجاویز پیش کیں۔ وفد نے تجویز پیش کی کہ چین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے e ۔مارکیٹنگ اور سپلائی چین کے انفراسٹرکچر کو ترقی دی جائے جس کی بدولت چین نے اپنی دیہی معیشت کو ملک کی بنیادی معیشت کے ساتھ منسلک کیا۔ واضح رہے کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور ( CPEC) کی تعمیر میں حبیب بینک نمایاں کردار ادا کررہا ہے اور ملک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، مختلف صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا ملکی سطح پر کوئلے کی پہلی کان اور پاکستان میں توانائی کے منصوبے کے لئے مشاورت ، انتظام، سرمایہ کاری اور فنانسنگ فراہم کرنے میں حبیب بینک کا کردار لائق تحسین ہے۔ سیمینار میں امید ظایر کی گئی کہ اس منصوبہ سے نہ صرف ملکی سطح پر توانائی کی رسد میں اضافہ ہوگا بلکہ غیرملکی زرمبادلہ کی بچت بھی ہوگی نیز ملکی سطح پر کوئلے کے ذخائر استعمال ہوں گے جس کا نتیجہ ٹیکنالوجی اور مہارت کی پاکستان میں منتقلی کی شکل میں نکلے گا اور اس منصوبے کے نتیجے میں تھر خطے میں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -