عمران خان اور چیئرمین نیب کی حالیہ ملاقات پر تشویش ہے،سعید غنی

عمران خان اور چیئرمین نیب کی حالیہ ملاقات پر تشویش ہے،سعید غنی

  

حیدرآباد (بیورو رپورٹ) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نظام کوئی بھی ہو اس میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہوتی ہے اور ان خرابیوں کو بہتر بنانے کی گنجائش بھی ہمیشہ رہتی ہے ۔نگراں حکومت کی جانب سے تبادے اور تقرریاں کئے گئے افسران کو اب تک ہم نے تبدیل نہیں کیا ہے جس کا سبب ان کی کارکردگی دیکھنا ہے۔ کرپشن کے الزامات ہونا اور کرپشن ہونا دو الگ الگ اشیوز ہیں۔ اگر کسی کے پاس بھی ہمارے افسران یا خود میرے خلاف بھی کسی غلط کام کے شواہد ہیں تو وہ شئیر کرے۔ کسی کے کہنے پر کارروائی نہیں کی جاتی۔ عمران خان اور چیئرمین نیب کی حالیہ ملاقات پر تشویش ہے ملاقات کی جاری کردہ تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کوئی ماتحت اپنے بڑے افسر سے مل رہا ہو۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان تعلقات کا انحصار ان باتوں پر ہوتا ہے کہ وفاق صوبوں اور وفاق کے درمیان آئینی حقوق دینے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے کو جائز حقوق دینے میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا تو تعلقات اچھے رہیں گے۔گورنر ایک آئینی عہدہ ہے، جو کہ وفاق کی علامت ہے۔ انہیں صوبائی معاملات مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی انہیں ایسا کرنا چاہیے۔ عمران خان کے نزدیک نئے پاکستان میں مزار قائد پر حاضری ترجیع نہیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس میں نا رہنے سے اخراجات اور بڑھ گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اضافی اخراجات میں ہیلی کاپٹر بنی گالا سیکورٹی بھی شامل ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو حیدرآباد پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی جی ایچ ڈی اے حیدرآباد، میونسپل کمشنر حیدرآباد، صدر حیدرآباد پریس کلب ناصر حسن شیخ، پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر صغیر قریشی اور انجنئیر سکندر حیات بھی موجود تھے۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ نظام کوئی بھی ہو اس میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہوتی ہے اور ان خرابیوں کو بہتر بنانے کی گنجائش بھی ہمیشہ رہتی ہے کیونکہ مسائل وسائل سے زیادہ ہیں، اس لئے وسائل کے بہتر استعمال اور ترجیعات کے تعین سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلف فراہم کیا جاسکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جس بھی علاقے کی شکایات ملے گی اس پر اب فوری ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج میں نے حیدرآباد میں جن جن علاقوں کا دورہ کیا ان کی شکایات مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔ ان علاقوں کے دورے سے مجھے ان کے مسائل کی اصل وجہ بھی معلوم ہوئی ہے جو کہ تکنیکی نوعیت کی تھی، جن کے فوری حل کے لئے کوشش کروں گا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واساکو ہدایات دی ہیں کہ ملازمین کی حاضری کو صبح 9.00 بجے یقینی بنایا جائے۔ کچھ دنوں بعد میں ادارے کے سربراہ کو ذمہ دار ٹھراؤں گا کہ ملازمین وقت پر کیوں نہیں آتے۔ وقت پر نہ آنے والے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع سعید غنی نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے، میں اکیلا سب کچھ ٹھیک نہیں کرسکتا۔ آپ چیزوں کو ٹھیک طریقے سے ہمارے سامنے رکھیں ہم اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ اداروں کے درمیان موجود کمیونیکیشن خلا کو ختم کیا جائے۔ میڈیا کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ نگراں حکومت کی جانب سے تبادے اور تقرریاں کئے گئے افسران کو اب تک ہم نے تبدیل نہیں کیا ہے جس کا سبب ان کی کارکردگی دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے الزامات ہونا اور کرپشن ہونا دو الگ الگ اشیوز ہیں۔ اگر کسی کے پاس بھی ہمارے افسران یا خود میرے خلاف بھی کسی غلط کام کے شواہد ہیں تو وہ شئیر کرے۔ کسی کے کہنے پر کارروائی نہیں کی جاتی۔ سعید غنی نے وزیر اعظم سے چیئرمین نیب کی حالیہ ملاقات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کی جاری کردہ تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کوئی ماتحت اپنے بڑے افسر سے مل رہا ہو۔ جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ نیب نے عمران خان کے خلاف بھی خیبر پختونخواں کا سرکارہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر تحقیقات ہورہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی نیب تحقیقات کررہا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -