پاک چین مشترکہ فوجی مشقوں سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا،چین

پاک چین مشترکہ فوجی مشقوں سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا،چین

  

بیجنگ(آئی این پی)چین نے کہا ہے پاک چین مشترکہ فوجی مشقوں سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،مشرکہ فوجی مشقوں سے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جنوبی بحیرہ چین دور قدیم سے چین کا حصہ ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، جنوبی بحریہ چین میں نیوی گیشن کی مکمل آزادی ہے، امریکی الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں، امریکی فوجی طیاروں کو پرواز سے قبل چین کا آگاہ کرنا چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق چینی وزارت دفاع کے ترجمان ووقان نے کہا ہے کہ پاک چین مشترکہ فوجی مشقوں سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اور سمجھنے میں مدد ملی ہے۔دونوں ممالک کی افواج کی کارکردگی میں نکھار لانے کا سبب ہیں۔ خطے کو لاحق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے جس سے علاقے میں امن و استحکام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے جنوبی بحیرہ چین کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین دور قدیم سے چین کا حصہ ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ چین کی مذکورہ جزیرے پر تعمیراتی سرگرمیاں شہری نوعیت کی ہیں اور یہ حق چین کی سالمیت اور خود مختاری دیتی ہے۔جنوبی بحیرہ چین میں نیوی گیشن کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ جنوبی بحیرہ چین کے حوالے سے لگائے گئے امریکا کے تمام الزامات سراسر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ امریکا اس قسم کے جھوٹے الزامات ہمیشہ لگاتا رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی طیاروں کو جنوبی بحیرہ چین پر پرواز سے قبل چین کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ چینی طیاروں کا امریکی فضائیہ کو خبردار کرنا جائز حق ہے۔ چین ہمیشہ سے جنوبی بحیرہ چین میں امن استحکام کو برقار رکھنے کے لئے کام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

چین

مزید :

پشاورصفحہ آخر -