خیبر میں بجلی کے ناروا لوڈشیڈنگ ،عوام سڑکوں پر آگئے

خیبر میں بجلی کے ناروا لوڈشیڈنگ ،عوام سڑکوں پر آگئے

  

خیبر (بیورورپورٹ) لنڈی کوتل سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں بجلی کی عدم موجودگی سے گھریلو زندگی شدید متاثر ، سماجی اور معاشی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے لنڈیکوتل سمیت تمام قبائلی علاقوں میں قائم تعلیمی اور صحت اداروں کے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بے پناہ مشکلات درپیش ہیں تعلیمی اداروں میں طلباء کی پڑھائی بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہے لنڈی کوتل میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہاں تو لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے ٹیسکو اور واپڈا کے حکام نے پوری منصوبہ بندی کر رکھی ہے جس کا ابھی تک کسی بھی سطح پر اعلیٰ حکام نے نوٹس تک نہیں لیاہے جس پر قبائلی عوام نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کو قبائلی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے قبائلی عوام پہلے احتجاج اور مظاہرے کر کے پولیٹیکل انتظامیہ کے لئے مشکلات پیدا کرتے جس کے رد عمل میں انتظامیہ کچھ حرکت میں آجاتی اور کسی حد لوگوں کی بجلی کی مد میں ریلیف مل جاتی لیکن دہشت گردی کی جنگ سے متاثرہ قبائلی عوام میں اب یہ جرات بھی نہیں رہی کہ و ہ اپنے اس جائز حق کے حصول کے لئے سڑکوں پر آکر احتجاج کریں بس اب وہ صرف فریاد ہی کرتے ہیں جن کی کوئی نہیں سنتا لنڈی کوتل سمیت دیگر قبائلی علاقوں بجلی تو فراہم نہیں کی جاتی اور اگر کبھی آجاتی ہے تو کم ولٹیج کے ساتھ صرف آنکھ مچھولی کرتی ہے جس سے گھریلوں ضروریات جیسے پانی ، کپڑوں کو دھونا اور استری کرنے کا کام بھی نہیں لیا جاسکتا ہے لنڈی کوتل گریڈ اسٹیشن کے ذمہ داروں سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ اوپر سے اس طرح کرنے کے حکام ملا ہے کی بات کر کے بات ٹال دیتے ہیں موجودہ قبائلی اضلاع کے سابق اور موجودہ منتخب نمائندوں نے بھی اس ظلم کے خلاف کوئی موثر آواز نہیں اٹھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس اہم اور سنجیدہ نوعیت کے عوامی مسئلے کا کوئی ادراک نہیں جبکہ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ابھی تک کسی حکومت اور واپڈا کے ذمہ داروں نے قبائلی اضلاع میں بجلی کی عدم فراہمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نہ تو کوئی منصوبہ بندی کی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی تجویز ہے کہ جس کو آگے لاکر اس پر قبائلی عوام کو اعتماد میں لیں تاکہ بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے موجود ٹینشن کو ختم کیا جا سکے بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جمرود تحصیل میں ڈینگی کے مریض بڑھنے لگے ہیں اور لنڈی کوتل میں ڈینگی کے حوالے الرٹ جا ری کر دیا گیا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ بجلی کی مناسب مقدار میں عدم فراہمی ہے اسی طرح دیگر مچھر جیسے لشمینیا کی بیماری لنڈی کوتل میں آئے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اسی کی بھی ایک بنیادی وجہ بجلی کی عدم فراہمی ہے مقامی قبائلی عوام اس بات پر پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کب تک جاری رکھا جائیگا اور یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً مقامی قبائلی عوام بجلی کی منصفانہ بنیادوں پر فراہمی کی خاطر پولیو کے قطرے اپنے بچوں کو پلانے سے انکار کر کے پرامن احتجاج ریکارڈ کر تے ہیں لیکن اس سے بھی بجلی کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوا جس پر لوگ سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ آخر وہ کیا کریں کہ جس سے ان کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی شروع ہو سکے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -