نئی انتظامی حکومت

نئی انتظامی حکومت

  

عمران خان نے اپنے نقطہءِ نظر کے حوالے سے بائیس سال تک مسلسل جدوجہد کی۔ یہ اس کا بدعنوانی سے پاک اور خوشحال قوم کا خواب تھا ۔ شدید مشکلات کے باوجود تحریکِ انصاف نے ناقابلِ یقین اکثریت حاصل کی۔ 25جولائی 2018بلاشبہ ایک تاریخی دن تھا۔عالمی مبصر ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے 2013سے 2018تک ووٹو ں میں 40فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانیوں اور پوری دنیا کے لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کی کامیابی، قابلِ تقلید مثالیں ہیں۔ جنہوں نے نئی حکومت کے تقرر کے لیے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں میں بدقسمتی سے عمران خان پاکستانی سیاست میں کچھ حاصل نہ کر سکے، لیکن اس طاقتور اور پر عزم رہنما سے آنے والے وقت میں بہت کچھ حاصل ہونے کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ سماجی و اقتصادی اعداد و شمار کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال ہر حوالے سے خوش کن اور امید افزاء ہے۔

عمران خان کی سیاست کا آغاز ہی عام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بر عکس ہوا۔ وہ آکسفورڈ سے زندگی کی شروعات کرنے والے گریجویٹ ہیں۔ ایک پیشہ ور کرکٹر جس نے 1992میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیتا۔ ایک ایسا شخص جو کرکٹ ہال آف فیم میں داخل ہوا۔ 1983میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور 1992میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ عمران خان نے اقوامِ متحدہ کے نمائندہ کے طور پر صحت اور کھیل کے شعبوں میں خدمات سر انجام دیں ، اقوامِ متحدہ کے یہ ادارے جنوب مشرقی ایشیاء میں کئی مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پہلے کینسر ہسپتال کا آغاز کیا جو آج تک کینسر کے علاج کے حوالے سے عمدہ ترین مثال ہے۔ میانوالی میں نمل کالج اور اس کی فاؤنڈیشن بھی قابلِ ذکر ہیں۔جو فلسفیانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں جسے وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے بنیادی مقاصد کے حصول پر ہوتا ہے ۔عمران خان نے 1996میں پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی تھی۔ ٹی وی پر پہلی بار اپنا منشور پیش کرتے ہوئے دو نقاط کو منشور میں اولیت دیتے ہوئے کرپشن کے خاتمے اور طاقتور سیاسی مافیا کے قلع قمع کا عندیہ دیا۔ ٹھیک 22سال بعد پی ٹی آئی سیاست میں سب سے بڑے نام کے طور پر سامنے آئی ہے۔ بہت سے دیگر لوگوں کے ساتھ شریف خاندان کو عدالتی عمل میں ڈال دیا گیا۔ جبکہ قومی سطح پر احتساب کا عمل قوم کی توجہ کا حامل ہو گیا ہے۔ سیاسی جنات مثلاً پی پی پی اور ایم کیو ایم نے اپنا ووٹ بینک پی ٹی آئی کے نئے امیدواروں کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں عوام نے ہر پانچ سال بعد حکومت بدلنے کے رویے کو تبدیل کر کے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اکثریت پسند جماعت کے طور پر بر قرار رکھا ہے۔تحریکِ انصاف نے پاکستان بھر میں فتح حاصل کی ہے اور شفافیت ، ایمانداری اور احتساب کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔

عالمی بینک کے ایک سینئر نمائندے نے ایک بار کہا تھا کہ اگر پاکستان بد عنوانی پر قابو پا لے تو اسے بیرونی دنیا سے ایک روپے کا قرضہ لینے کی بھی ضرورت نہ رہے۔ ایسے وقت جب پاکستان خطرناک تجارتی اور مالی خسارے کا سامنا کر رہا ہے، پی ٹی آئی ایک ایسی حکومت قائم کرنے جا رہی ہے جو وقت کی اشد ضرورت ہے۔ 2013سے اب تک خصوصاً عمران خان پر کسی قسم کا مالی بے ضابطگی یا غیر قانونی اقدام کا الزام نہیں لگا۔ جب سے انہوں نے کے پی کے کے انتظامی امور دیکھنا شروع کیے، انہوں نے حکومتی معاملات میں شفافیت اور اہلیت کے کلچر کو پروان چڑھایا ۔ جبکہ اس کے بر عکس پورے پاکستان خصوصاً سندھ اور پنجاب میں حکومتی عہدے اقرباء پروری اور برادری ازم کی بھینٹ چڑھائے جاتے رہے۔ خصوصاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز خاندانی پارٹیوں کے طور پر سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی 35سال بعد ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح متعارف ہوئی۔

ماضی میں سینئر سرکاری ملازمین نے کرپشن اور فساد کے لیے راستہ ہموار کیا۔ سیاست دان کرپٹ ہو سکتے ہیں یا نہیں لیکن یہ سرکاری ملازمین ہیں جو ان کے آلہءِ کار بن جاتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے تحت عوامی خواہشات کے بر عکس منتخب وزیر کی بجائے سینئر سرکار ی افسر مالی طاقت کا حامل ہوتا ہے۔ سر کاری ملازمین کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے ۔بیوروکریسی کو صرف قانون کی عملداری کا پاسدار اور مملکت کے شہریوں کے حقوق کا وفادار ہونا چاہیے۔ دوسری طرف اگر سیاستدان دو تہائی اکثریت سے کسی متنازعہ اور ملکی مفاد سے متصادم قانون کو پاس کروا لیں تو یہ سرکاری افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بہتر قوانین لاگو کروائیں۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان بنیادی انتظامی اصولوں پر عمل کر رہا ہے جس کی بدولت صحیح کام کے لیے صحیح لوگ دستیاب ہوں گے۔ اندرونی اور بیرونی دنیا کے اندازوں کے مطابق عمران خان اور ان کی ٹیم کو غیر معمولی امید کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد برازیل جیسے ممالک میں پانامہ لیکس میں ملوث افراد کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ (ن )کی قیادت کے ساتھ ایسا ہونا غیر متوقع نہ تھا۔ بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری اور نجی سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل مایوس کن صورتِ حال تھی۔ اس مرحلہ پر پی ٹی آئی ایسی متبادل قیادت کو سامنے لا رہی ہے جو مالی نظم و ضبط کا بہترین ریکارڈ رکھتی ہے۔ سٹاک مارکیٹوں میں 26جولائی سے ٹی وی پر انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی بہتری دیکھنے میں آنے لگی۔ سی پیک کے ذریعے بڑی سرمایہ کاری پاکستان آ رہی ہے۔ جبکہ اب بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں سندھ اور پنجاب کے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ نئی حکومت کو ان خوش آئند مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اسے غریب آبادی کے حق میں استعمال کرنا چاہیے۔

چینی حکومت کو سی پیک منصوبوں کے متعلق تاخیر اور سیکورٹی کے ناکافی انتظامات نے تشویش کا شکار کر دیا تھا۔ پی ٹی آئی کو اس حوالے سے نئے ولولے سے کام لیتے ہوئے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ایک مؤثر اور شفاف حکومت مالیاتی فوائد میں اضافہ کر سکتی ہے، جیسے کہ پی ٹی آئی قیادت نے اپنے پہلے سو دن کے ایجنڈے میں اعلان کیا ہے۔ پاکستان تاریخ کے بدترین مالی بحران کاسامنا کر رہا ہے۔ خارجہ پالیسی بھی غیر مستحکم ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا نزلہ پاکستان پر گرا رہا ہے۔ انڈیا پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر دہشت گردی کا پراپیگنڈہ کرنے اور سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ تمام تر خطرات کے باوجود ایسے مواقع بھی ہیں جو ان پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ چین سی پیک اور اوبور منصوبوں کو توسیع دے رہا ہے۔

ایک بار پھر چین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فعال شمولیت کے بغیر ان منصوبو ں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔ وسط ایشیائی ممالک سمندر اور سڑکوں کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ بہت سی رپورٹس میں معروف آئل کمپنیوں نے بلوچستان کو قابلِ قدر تیل کے ذخائر کی آماجگاہ قرار دیا ہے۔ ملکی مالی ذخائر کے حوالے سے پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسد عمر نے بیرون ممالک بسنے والے پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے ذریعے اس نازک صورتِ حال سے نکلنے میں اپنے ملک کی مدد کریں جبکہ اس کے عوض انہوں نے سخت محنت اور شفافیت پر مبنی نظامِ حکومت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ متوازن نقطہءِ نظر کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ صرف بیانات انتظامی مسائل کا حل نہیں ہو سکتے لیکن اس قسم کی توانائی، عزم ، صلاحیت اور قیادت کے نئے باب کے ساتھ پاکستان کو دنیا فتح کرنے کے لیے کچھ کھونا نہیں پڑے گا۔

(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

مزید :

رائے -کالم -